ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 123

وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
اور بلاشبہ یقینا اللہ نے بدر میں تمھاری مدد کی،جب کہ تم نہایت کمزور تھے، پس اللہ سے ڈرو، تاکہ تم شکر کرو۔ En
اور خدا نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بے سرو وسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو
En
جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت تمہاری مدد فرمائی تھی جب کہ تم نہایت گری ہوئی حالت میں تھے، اس لئے اللہ ہی سے ڈرو! (نہ کسی اور سے) تاکہ تمہیں شکر گزاری کی توفیق ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 123) {وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ:} اس لفظ سے مسلمانوں کی قلت تعداد اور ضعفِ حال کی طرف اشارہ ہے۔ مقام بدر مدینہ سے قریباً 150 کلو میٹر جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔غزوۂ بدر بروز جمعہ ۱۷ رمضان المبارک ۲ھ (۱۳ مارچ ۶۲۴ء) کو پیش آیا۔ اس آیت میں جنگ احد میں شکست کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معرکۂ بدر کے واقعات پر غور و فکر کی دعوت اور آئندہ ثابت قدم رہنے کے لیے تقویٰ کی تعلیم دی ہے۔ جنگِ بدر کی تفصیل کے لیے سورۂ انفال (۴۱) ملاحظہ کیجیے۔ (شوکانی، ابن کثیر)