ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 63

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِہَا لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿٪۶۳﴾
اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کر دیاتو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے، کہہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔ En
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے۔ لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے
En
اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیں کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں سے اکثر بے عقل ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 63) ➊ {وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً …:} پچھلی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی صفت {خلق} اور {رزق} کا ذکر تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت {إِحْيَاءٌ بَعْدَ الْمَوْتِ } (موت کے بعد زندہ کرنے) کا ذکر ہے۔ فرمایا، اگر تو ان سے پوچھے کہ کون ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کر دیا؟ تو یقینا وہ کہیں گے کہ وہ الله ہے۔
➋ { قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ:} کفار کے اعتراف کو توحید کی دلیل کے طور پر بیان کرنے کے بعد فرمایا الحمد ﷲ کہو، کیوں کہ جب مخاطب پر کوئی ایسی دلیل پیش کی جائے جو اس کے ہاں مسلّم ہو اور وہ اس کا جواب نہ دے سکے تو حجت تمام ہونے پر الحمد ﷲ کہا جاتا ہے۔ الحمد ﷲ کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس اعتراف نعمت کے بعد تم جس شرک میں گرفتار ہو، ہم اس سے محفوظ ہیں اور یہ بھی کہ جب یہ سب نعمتیں اللہ کی عطا کر دہ ہیں اور تم اس کا اعتراف بھی کرتے ہو تو لازم ہے کہ شکر بھی اسی کا ادا کرو۔
➌ { بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ:} کیوں کہ اگر وہ سمجھتے ہوتے تو اتنے اعتراف کے بعد شرک کی لعنت میں گرفتار نہ ہوتے۔
➍ ان کے اکثر کو { لَا يَعْقِلُوْنَ } فرمایا، سب کو نہیں، کیونکہ ان میں سے کچھ بات سمجھتے بھی تھے، جن میں سے کچھ تو ایمان لے آئے اور کچھ سمجھنے کے باوجود عناد کی وجہ سے کفر پر اڑے رہے۔