ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 44

خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، بلاشبہ اس میں ایمان والوں کے لیے یقینا بڑی نشانی ہے۔ En
خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے
En
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مصلحت اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، ایمان والوں کے لیے تو اس میں بڑی بھاری دلیل ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44) ➊ { خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ:} یعنی کائنات کا یہ نظام حق پر قائم ہے۔ اس نے اسے نہایت حکمت سے بنایا ہے، بے فائدہ اور بے مقصد نہیں بنایا۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۱۶) اور دخان (۳۸)۔
➋ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ:} زمین و آسمان کی پیدائش میں صرف ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں، کیونکہ وہی ان پر غور کرتے ہیں، دوسرے لوگ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار قدرتوں اور نشانیوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں مگر دھیان ہی نہیں کرتے۔ (دیکھیے سورۂ یوسف: ۱۰۶) جو لوگ دل میں جذبۂ ایمان رکھتے ہوئے اس نظام کائنات پر غور کریں گے ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ یہ نظام نہ کسی خالق کے بغیر بنا ہے اور نہ اس کے ایک سے زیادہ خالق ہو سکتے ہیں، بس ایک ہی ذات پاک ہے جس نے اسے پیدا کیا اور وہی اس کی حق دار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ انھی غور و فکر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے { لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ } قرار دیا ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۶۴) اور انھی کو { لِاُولِي الْاَلْبَابِ } قرار دیا ہے۔ (دیکھیے آل عمران: ۱۹۰)