(آیت37){اِنْتَحْرِصْعَلٰىهُدٰىهُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت اور گمراہی کے دونوں راستے واضح کر دیے، اب جو لوگ اس کی عطا کردہ استعداد سے کام نہ لیں اور حق پر باطل کو ترجیح دیں اور اللہ تعالیٰ انھیں باطل میں پڑے رہنے کی سزا دے تو آپ کا ان پر حرص کرنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لوگوں کی ہدایت کے لیے حرص بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۱۲۸)۔