ترجمہ و تفسیر — سورۃ التين (95) — آیت 6

اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ؕ﴿۶﴾
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ En
مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکے لیے بےانتہا اجر ہے
En
لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6){ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} اور اگر یہ احسن تقویم کے مطابق ایمان لا کر عمل صالح کرے تو اس کو ایسا اجر ملے گا جو کبھی منقطع نہیں ہوگا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان [7] کے لیے غیر منقطع اجر ہے
[7] یعنی بنی نوع انسان کی اکثریت ایسی ہی تھی جو احسن تقویم پر برقرار رہنے کے بجائے اسفل السافلین کی پستی تک جا پہنچی۔ پھر انہی قوموں پر اللہ کے عذاب آتے رہے اور وہ تباہ و برباد ہوتی رہیں۔ نبی ہمیشہ اس وقت مبعوث کیے جاتے ہیں جب کوئی قوم اسفل السافلین کی پستیوں میں جا گرتی ہے پھر ان انبیاء پر بھی تھوڑے ہی لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔ پھر ان ایمان لانے والوں اور اعمال صالح بجا لانے والوں کی نسلیں بھی بعد میں انتشار، شرکیہ عقائد یا ایسے عقائد و اعمال میں مبتلا ہو جاتی ہے جو ایمان بالآخرت کو عملاً باطل بنا دیتے ہیں اور صرف وہی لوگ محفوظ رہتے ہیں جو انبیاء پر صحیح طور پر ایمان لاتے، صحیح عقائد پر قائم رہتے اور انہیں عقائد کے مطابق نیک اعمال بجا لاتے ہیں۔ یہی لوگ اس صفت احسن تقویم کا حق ادا کرتے ہیں۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا تھا اور انہی لوگوں کے لیے اخروی نجات اور غیر منقطع اجر ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔