(آیت 7) {فَمَايُكَذِّبُكَبَعْدُبِالدِّيْنِ:} اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا، پھر بعض نے تو اس ساخت کے تقاضوں کے مطابق ایمان اور عمل صالح اختیار کیا اور بعض نافرمانی کی وجہ سے ”اسفل السافلین“ ٹھہرے۔ ان دونوں کے عمل کا لازمی نتیجہ ہے کہ ایک دن ایسا ہو جس میں ہر ایک کو نیکی اور بدی کی جزا و سزا دی جائے۔ اتنی واضح دلیل کے بعد اے انسان! تجھے کون سی چیز آمادہ کر رہی ہے کہ تو جزا کو جھٹلا دے؟ اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے: ”اے نبی! اس کے بعد کون ہے جو تجھے جزا کے بارے میں جھٹلائے؟“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 یہ انسان سے خطاب ہے کہ اللہ نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا اور وہ تجھے اور اس کے برعکس ذلت میں گرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس کے بعد بھی تو قیامت اور جزا کا انکار کرتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ پھر اس کے بعد جزا و سزا کے بارے [8] میں آپ کو کون جھٹلا سکتا ہے؟
[8] یعنی یہ بات تو ہر ایک کے مشاہدہ میں آرہی ہے کہ بنی نوع انسان دو گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اس کی اکثریت اسفل السافلین کی پستیوں میں گری ہے اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے احسن تقویم پر ہونے کے تقاضے پورے کیے۔ کیا یہ دونوں گروہ ایک جیسے ہو سکتے ہیں یا ان کے اعمال کے نتائج ایک ہی جیسے ہو سکتے ہیں؟ پھر کیا اس بات سے انکار کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ اچھے عمل کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیا جانا چاہیے یا بد کردار لوگوں کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جانی چاہیے؟ اور یہی چیز نظریہ آخرت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَمَایُكَذِّبُكَبَعْدُبِالـدِّیْنِ﴾ پس اے انسان! کون سی چیز اس کے بعد تجھے اعمال کی جزا وسزا کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے، حالانکہ تو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نشانیوں کو دیکھ چکا ہے جن سے تجھے یقین حاصل ہو سکتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ چکا ہے جو تجھ پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ تو ان میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرے جن کی اس نے تجھے خبر دی ہے۔ ﴿اَلَ٘یْسَاللّٰهُبِاَحْكَمِالْحٰؔكِمِیْنَ﴾”کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟“ کیا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ مخلوق کو بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے، ان کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے؟ یا وہ جس نے بنی نوع انسان کو کئی مراحل میں پیدا کیا، ان کو اتنی نعمتوں، بھلائیوں اور احسانات سے نوازا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے، بہترین طریقے سے ان کی پرورش کی، ضرور ان کو اس کی طرف لوٹائے گا جو ان کا ٹھکانا اور ان کی غایت و انتہا ہے جس کا وہ قصد کرتے ہیں اور جس کی طرف وہ ارادہ رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فما يكذِّبك بعدُ بالدِّينِ}؛ أي: أيُّ شيءٍ يكذِّبك أيُّها الإنسان بيوم الجزاء على الأعمال؟ وقد رأيت من آيات الله الكثيرة ما يحصل لك به اليقين ، ومن نعمه ما يوجب عليك أن لا تكفر بشيءٍ منها. {أليس الله بأحكم الحاكمينَ}: فهل تقتضي حكمته أن يترك الخلق سدىً لا يُؤمرون ولا يُنْهَوْن ولا يُثابون ولا يُعاقبون؟ أم الذي خلق الإنسان أطواراً بعد أطوارٍ، وأوصل إليهم من النعم والخير والبرِّ ما لا يحصونه، وربَّاهم التربية الحسنة؛ لا بدَّ أن يعيدهم إلى دارٍ هي مستقرُّهم وغايتهم التي إليها يقصدون ونحوها يؤمُّون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔