(آیت 5) {ثُمَّرَدَدْنٰهُاَسْفَلَسٰفِلِيْنَ:} اس بہترین بناوٹ میں اس کی شکل و صورت کا حسن، اس کی عقل، اس کی فطرت پر پیدائش اور وہ سب کچھ شامل ہے جو کسی حیوان کو حاصل نہیں۔ پھر اگر وہ اس عقل اور فطرت کے تقاضوں پر عمل نہ کرے بلکہ انسانیت سے اتر کر حیوانیت میں جاگرے اور شہوت و غضب اور دوسری حیوانی صفات سے مغلوب ہوجائے، تو اس سے زیادہ نیچا اور ذلیل کوئی نہیں، کیونکہ پھر وہ اس حد تک گر جاتا ہے کہ کوئی حیوان بھی نہیں گرتا، حتیٰ کہ وہ اپنے مالک و خالق کو بھی بھول جاتا ہے، اس کے ساتھ شریک بنانے لگتا ہے اور زمین میں ایسا فساد برپا کرتا ہے جو کوئی حیوان بھی نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ آگ ہے اور اس میں گرنے والوں سے نیچا اور ذلیل کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اُولٰٓىِٕكَكَالْاَنْعَامِبَلْهُمْاَضَلُّ» [الأعراف: ۱۷۹]”یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یہ اشارہ ہے انسان کی ارذل العمر کی طرف جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آجاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی گیا گزرا ہوجاتا ہے بعض نے اس سے ذلت و رسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لیے ہے، گویا انسان اللہ اور رسول کی اطاعت سے انحراف کر کے اپنے احسن تقویم کے بلند رتبہ واعزاز سے گرا کر جہنم کے اسفل السافلین میں ڈال لیتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ پھر ہم نے اسے ادنیٰ ترین مخلوق کے درجہ [6] میں لوٹا دیا۔
[6] انسان تمام مخلوق سے پست کیسے؟
یعنی اگر انسان اپنی ان خدا داد ذہنی صلاحیتوں اور جسمانی قوتوں کو برائی کے راستے میں استعمال کرے اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر اتر آئے تو انسان حیوانوں کی سطح سے بھی نیچے گر جاتا ہے وہ اس طرح کہ حیوانوں کو اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کی تمیز نہیں بخشی اور انسان اگر اس تمیز کے ہوتے ہوئے بھی اسے استعمال نہ کرے تو جانوروں سے بد تر ٹھہرا۔ لیکن انسان تو اخلاقی لحاظ سے اتنی پستی میں جا گرتا ہے جس کا حیوانوں میں تصور بھی محال ہے۔ انسانی معاشرے میں حرص، طمع، خود غرضی، شہوت پرستی، نشہ بازی، کمینہ پن، ظلم و بربریت، لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت جیسی برائیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ حیوانوں میں کہاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ اس لحاظ سے انسان فی الواقع تمام مخلوق سے پست اور کہتر بن جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان عظیم نعمتوں کے باوجود، جن کا شکر کیا جانا چاہیے، اکثر مخلوق منعم کے شکر سے منحرف اور لہو و لعب میں مشغول ہے، لوگ اپنے لیے پست ترین معاملے اور ردی اخلاق پر راضی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پست سے پست مقام کی طرف لوٹا دیا، یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ جو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے سرکشوں کا مقام ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے نوازا۔ ﴿فَلَهُمْ﴾ پس ان کے لیے ان عمال کی وجہ سے بلند منازل ہیں اور ﴿اَجْرٌغَیْرُمَمْنُوْنٍ﴾ منقطع نہ ہونے والا اجر ہے، بلکہ ان کے لیے وافر لذتیں، متواتر فرحتیں اور بکثرت نعمتیں اتنے عرصے تک حاصل ہوں گی جو کبھی ختم نہیں ہو گا، وہ ایسی نعمتوں (بھری جنت) میں رہیں گے جو کبھی نہیں بدلے گی، جس کے پھل اور سائے دائمی ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع هذه النعم العظيمة، التي ينبغي منه القيام بشكرها؛ فأكثر الخلق منحرفون عن شكر المنعم، مشتغلون باللَّهو واللَّعب، قد رضوا لأنفسهم بأسافل الأمور وسفساف الأخلاق، فردَّهم الله {في أسفل سافلين}؛ أي: أسفل النَّار موضع العصاة المتمرِّدين على ربِّهم؛ إلاَّ مَن منَّ الله عليه بالإيمان والعمل الصَّالح والأخلاق الفاضلة العالية، {فلهم}: بذلك المنازل العالية، و {أجرٌ غيرُ ممنونٍ}؛ أي: غير مقطوع، بل لَذَّاتٌ متوافرةٌ وأفراحٌ متواترةٌ ونعمٌ متكاثرةٌ؛ في أبدٍ لا يزول، ونعيمٍ لا يحول، أكُلُها دائمٌ وظلُّها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔