8۔ 1 یعنی اسی سے جنت کی امید رکھ، اسی سے اپنی حاجتیں طلب کر اور تمام معاملات میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ رکھ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ اور اپنے پروردگار کی طرف راغب [5] ہوں
[5] یعنی جب آپ کو تبلیغ کے کاموں سے گھریلو مشاغل سے اور اسلام لانے والوں کی تعلیم و تربیت سے فراغت حاصل ہو تو اپنے پروردگار سے لو لگائیے۔ اور یکسو ہو کر اس سلسلہ میں ریاضت کیجئے۔ کیونکہ مشکلات کے دوران اللہ کی عبادت اس کا ذکر اور اس پر توکل ہی انسان کو ایسا حوصلہ عطا کرتا ہے جس سے مصائب کو برداشت کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کی تفسیر آیت 7 میں میں گزر چکی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔