ترجمہ و تفسیر — سورۃ الم نشرح (94) — آیت 7

فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ ۙ﴿۷﴾
تو جب تو فارغ ہو جائے تو محنت کر۔ En
تو جب فارغ ہوا کرو تو (عبادت میں) محنت کیا کرو
En
پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8،7) ➊ { فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ …:} آپ کے دنیا کے کام ہوں یا تبلیغ دین یا جہاد فی سبیل اللہ، اگرچہ یہ سب عبادات اور نیکیاں ہیں مگر ان میں پھر بھی مخلوق سے کچھ نہ کچھ رابطہ رہتا ہے، جب بھی ان کاموں سے کچھ فراغت ملے، تو ہر چیز سے منقطع ہو کر اپنے رب سے تعلق جوڑکر ذکر الٰہی، تلاوتِ قرآن، قیام اور رکوع و سجود کی محنت کریں اور اپنی تمام رغبت اپنے رب ہی کی طرف رکھیں۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ مزمل کے شروع میں کہی گئی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا (7) وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا» ‏‏‏‏ [المزمل: 8،7] یقینا تجھے دن میں بہت لمبی مصروفیت ہے اور اپنے رب کا نام ذکر کر اور ہر طرف سے کٹ کر اسی کی طرف متوجہ ہو جا۔
➋ { فَانْصَبْ:نَصِبَ يَنْصَبُ نَصْبًا} (س) کے مفہوم میں محنت و مشقت کے ساتھ تھکن بھی شامل ہے، یعنی صرف راحت کے وقت ہی نہیں، طبیعت کے نہ چاہتے ہوئے بھی عبادت اور ذکر الٰہی کی مشقت جاری رکھ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اتنا قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں پر ورم آجاتا، جیسا کہ صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 یعنی نماز سے، یا تبلیغ سے یا جہاد سے، تو دعا میں محنت کر، یا اتنی عبادت کر کہ تو تھک جائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ تو جب آپ فارغ ہوں تو (عبادت کی) مشقت میں لگ جائیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارْغَبْ پس متوجہ ہوجائیں۔ یعنی اپنی پکار کے جواب اور اپنی دعاؤ ں کی قبولیت کے لیے اپنی رغبت بڑھائیے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو فارغ ہوتے ہیں تو کھیل تماشے میں مشغول ہو جاتے ہیں، اپنے رب اور اس کے ذکر سے منہ موڑ لیتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کا معنی ہے کہ جب آپ نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہوں تو دعا میں محنت کیجیے اور اپنے مطالب کے سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف رغبت کیجیے۔ اس قول کے قائلین اس آیت کریمہ سے فرض نمازوں کے بعد دعا اور ذکر وغیرہ کی مشروعیت پر استدلال کرتے ہیں۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أمر [اللَّهُ] رسوله أصلاً والمؤمنين تبعاً بشكره والقيام بواجب نعمه، فقال: {فإذا فرَغْتَ فانصَبْ}؛ أي: إذا تفرَّغْتَ من أشغالِك، ولم يبقَ في قلبكَ ما يعوقه؛ فاجتهدْ في العبادة والدُّعاء، {وإلى ربِّك}: وحده {فارغَبْ}؛ أي: أعظم الرغبة في إجابة دعائك وقبول دعواتك ، ولا تكنْ ممَّن إذا فرغوا ؛ لعبوا وأعرضوا عن ربِّهم وعن ذِكْرِه، فتكون من الخاسرين.

وقد قيل: إنَّ معنى هذا: فإذا فرغتَ من الصَّلاة وأكملتها؛ فانصب في الدُّعاء، وإلى ربِّك فارغبْ في سؤال مطالبك.

واستدلَّ من قال هذا القول على مشروعيَّة الدُّعاء والذِّكر عقب الصلوات المكتوبات. والله أعلم [وبذالك].