(آیت 5تا7){ فَاَمَّامَنْاَعْطٰى …: ”اَلْحُسْنٰي“”أَحْسَنُ“} کی مؤنث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَمَنْاَحْسَنُقَوْلًامِّمَّنْدَعَاۤاِلَىاللّٰهِوَعَمِلَصَالِحًاوَّقَالَاِنَّنِيْمِنَالْمُسْلِمِيْنَ»[حٰمٓ السجدۃ: ۳۳]”اور اس شخص سے زیادہ اچھی بات کس کی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں فرماں برداروں سے ہوں؟“ جس شخص میں بھی بھلائی کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے فراخ دل ہے، اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی نافرمانی اور ہر حرام کام سے بچتا ہے اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے کو اور اس کی نازل کی ہوئی ہر بات کو سچ مان کر اس کا تابع ہو جاتا ہے، تو اس کے اس میلان اور رجحان کے مطابق ہم بھی اس کے لیے نیکی اور جنت کے راستے پر چلنا آسان کر دیں گے، یعنی اس کے لیے نیکی کرنا آسان ہو جائے گا اور گناہ کرنا مشکل۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ پھر جس نے (اللہ کی راہ میں) مال دیا اور پرہیزگاری اختیار کی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا: ﴿فَاَمَّامَنْاَعْطٰى ﴾”تو جس نے (اللہ کے راستے میں) مال دیا۔“ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً: زکاۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلاً: نماز، روزہ وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں، مثلاً: حج اور عمرہ وغیرہ انھیں ادا کیا۔ ﴿ وَاتَّ٘قٰى ﴾ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔ ﴿ وَصَدَّقَبِالْحُسْنٰى ﴾”اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔“ یعنی اس نے لَاإِلٰہَإِلَّااللہُاور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی جو اس لَاإِلٰہَإِلَّااللہُ کی تائید کرتے ہیں۔ ﴿ فَ٘سَنُیَسِّرُهٗلِلْ٘یُسْرٰى ﴾ تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا فصَّل الله العاملين ووصف أعمالهم، فقال: {فأمَّا من أعطى}؛ أي: ما أمر به من العبادات الماليَّة كالزَّكوات والنَّفقات والكفَّارات والصَّدقات والإنفاق في وجوه الخير، والعبادات البدنيَّة كالصَّلاة والصوم وغيرهما ، والمركَّبة من ذلك - كالحجِّ والعمرة ونحوهما، {واتَّقى}: ما نُهِي عنه من المحرَّمات والمعاصي على اختلاف أجناسها، {وصدَّق بالحُسنى}؛ أي: صدَّق بلا إله إلاَّ الله، وما دلَّت عليه من [جميع] العقائد الدينيَّة وما ترتَّب عليها من الجزاء [الأخروي]، {فسنيسِّره لليُسرى}؛ أي: نيسِّر له أمره ونجعله مسهَّلاً عليه كلُّ خيرٍ، ميسَّراً له ترك كلِّ شرٍّ؛ لأنَّه أتى بأسباب التيسير، فيسَّر الله له ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔