ترجمہ و تفسیر — سورۃ الليل (92) — آیت 4

اِنَّ سَعۡیَکُمۡ لَشَتّٰی ؕ﴿۴﴾
بے شک تمھاری کوشش یقینا مختلف ہے۔ En
کہ تم لوگوں کی کوششں طرح طرح کی ہے
En
یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4){ اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى:} یعنی جس طرح رات دن اور نر و مادہ مخلوقات میں باہمی اختلاف اور تضادہے اسی طرح تمھاری کوششوں اور تمھارے اعمال میں بھی اختلاف ہے، پھر ان کا نتیجہ اور جزا و سزا بھی الگ الگ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ کہ تمہاری کوشش یقیناً مختلف قسم [1] کی ہے
[1] سورۃ الشمس کی طرح اس سورت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے چند متضاد اشیاء مثلاً رات اور دن کی، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس طرح دن اور رات کی اور نر اور مادہ کی خصوصیات آپس میں متضاد اور مختلف ہیں۔ اسی طرح اے بنی نوع انسان! تم جو کچھ اس دنیا میں اعمال بجا لا رہے ہو وہ بھی ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہیں۔ لہٰذا تمہاری اس سعی عمل کے نتائج مختلف ہیں اور ہونے چاہئیں۔ وہ یکساں کبھی نہیں ہو سکتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰى اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے، یعنی اے مکلفو! تمھاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےتو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش بھی باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضمحل ہو جائے گی؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {إنَّ سعيَكُم لشتًّى}: هذا هو المقسم عليه؛ أي: إن سعيكم أيُّها المكلَّفون لمتفاوتٌ تفاوتاً كثيراً، وذلك بحسب تفاوت نفس الأعمال ومقدارها والنشاط فيها، وبحسب الغاية المقصودة بتلك الأعمال؛ هل هو وجه الله الأعلى الباقي، فيبقى العمل له ببقائه، وينتفع به صاحبه؟ أم هي غايةٌ مضمحلَّةٌ فانيةٌ؛ فيبطل السعي ببطلانها ويضمحلُّ باضمحلالها؟ وهذا كلُّ عملٍ يقصَد به غير وجه الله [تعالى] بهذا الوصف.