ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 92

وَّ لَا عَلَی الَّذِیۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡکَ لِتَحۡمِلَہُمۡ قُلۡتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُکُمۡ عَلَیۡہِ ۪ تَوَلَّوۡا وَّ اَعۡیُنُہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوۡا مَا یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ؕ۹۲﴾
اور نہ ان لوگوں پر کہ جب بھی وہ تیرے پاس آئے ہیں، تاکہ تو انھیں سواری دے تو توُ نے کہا میں وہ چیز نہیں پاتا جس پر تمھیں سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بہ رہی تھیں، اس غم سے کہ وہ نہیں پاتے جو خرچ کریں ۔ En
اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
En
ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لئے کچھ بھی نہیں پاتا، تو وه رنج وغم سے اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں کہ انہیں خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی میسر نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت92) ➊ {وَلَا عَلَى الَّذِيْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ …:} یہ مخلص مسلمانوں کے ایک اور گروہ کا ذکر ہے جن کے پاس اپنی سواریاں نہیں تھیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں لینے کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرے پاس تمھیں سواری دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، اس پر انھیں اتنا صدمہ ہوا کہ وہ رونے لگے اور ایسے روئے گویا آنکھیں پانی کے چشمے بن گئیں، جن سے آنسوؤں کی نالیاں رواں ہوں کہ ہمارے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں کہ ہم جہاد میں شریک ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی گناہ سے بری قرار دیا کہ ان لوگوں پر اعتراض کا کوئی راستہ اور کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ محسنین ہیں۔
➋ اس آیت پر ان لوگوں کو خلوص کے ساتھ غور کرنا چاہیے جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت کے خزانوں کے مالک اور مختار کل ہیں۔ یہ حضرات آپ کے اس فرمان کا ترجمہ کیا کریں گے: «لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ» میں وہ چیز نہیں پاتا جس پر تمھیں سوار کروں۔ ان بھائیوں کو اللہ کا خوف کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مالک الملک اور مختار کل کہہ کر اللہ کا شریک بنانے سے توبہ کرنی چاہیے، کیونکہ یہ گناہ اللہ کے ہاں کسی صورت قابل معافی نہیں ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

92۔ 1 یہ مسلمانوں کے ایک دوسرے گروہ کا ذکر ہے جن کے پاس اپنی سواریاں بھی نہیں تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں سواریاں پیش کرنے سے معذرت کی جس پر انہیں اتنا صدمہ ہوا کہ بےاختیار ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، گویا مخلص مسلمان جو کسی بھی لحاظ سے معقول عذر رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے جو ہر ظاہر باطن سے باخبر ہے ان کو جہاد میں شرکت سے مستثنٰی کردیا۔ بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان معذورین کے بارے میں جہاد میں شریک لوگوں سے فرمایا کہ ' تمہارے پیچھے مدینے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم جس وادی کو بھی طے کرتے ہو اور جس راستے پر چلتے ہو، تمہارے ساتھ وہ اجر میں برابر کے شریک ہیں ' صحابہ کرام نے پوچھا۔ یہ کیوں کر ہوسکتا ہے جب کہ وہ مدینے میں بیٹھے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حَبَسَھُمْ الْعُذرُ (صحیح بخاری) ' عذر نے ان کو وہاں روک دیا ہے '

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

92۔ اور نہ ہی ان لوگوں پر کچھ الزام ہے جو آپ کے پاس آئے کہ آپ انہیں سواری مہیا کریں تو آپ نے کہا کہ: ”میرے پاس تمہارے لئے سواری کا کوئی بندوبست نہیں“ تو وہ واپس چلے گئے اور اس غم سے ان کی آنکھیں اشکبار تھیں کہ ان کے پاس [105] خرچ کرنے کو کچھ نہیں
[105] حقیقی معذوروں کی کیفیت، سواری مانگنے والے:۔
اس آیت میں ایسے حقیقی مومنوں کا ذکر ہے جن کے لیے شرعی عذر موجود تھا۔ یعنی اتنے طویل سفر کے لیے سواری کا بندوبست نہ تھا تاہم وہ جہاد پر جانے کے لیے بے چین تھے۔ وہ درخواست لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری کا کوئی بندوبست کر دیجئے۔ اتفاق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی اس وقت سواری کا کوئی بندوبست نہ تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دے دیا۔ جس سے انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور وہ صدمہ صرف یہ تھا کہ شاید اب ہم جہاد پر نہ جا سکیں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے کے لیے بھیجا۔ میں نے جا کر عرض کی ”یا رسول اللہ! میرے ساتھیوں نے مجھے سواری طلب کرنے کے لیے آپ کے پاس بھیجا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”واللہ میں تمہیں کوئی سواری نہ دوں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصہ میں تھے مگر میں سمجھا نہیں۔ میں غمگین ہو کر واپس آیا اور اپنے ساتھیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی اطلاع دی۔ مجھے ایک تو یہ غم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سواری نہ دی اور دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں مجھ سے خفا نہ ہو جائیں۔ مجھے واپس آئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا بلالؓ مجھے پکار رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا تو وہ کہنے لگے ”چلو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بلا رہے ہیں۔“ میں حاضر خدمت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ اونٹ کے جوڑے ہیں چھ اونٹ لے لو اور اپنے ساتھیوں سے کہنا کہ یہ اونٹ اللہ نے یا اللہ کے رسول نے تمہیں سواری کے لیے دیئے ہیں انہیں کام میں لاؤ۔“
[بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوہ تبوک وہی غزوۃ العسرۃ]
اور بخاری ہی کی ایک دوسری حدیث میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ سیدنا ابو موسیٰؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ نے تو سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب مجھے بہتر عمل کرنے کا موقع ملتا ہے تو میں وہ کام کر لیتا ہوں اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“ [بخاري۔ كتاب الايمان والنذور]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔
پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار یا بالکل ہی نا طاقت ہو، دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب ہیں مثلاً کوئی بیمار ہو گیا ہے یا بالکل فقیر ہو گیا ہے سامان سفر، سامان جہاد مہیا نہیں کر سکتا وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کر سکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں۔ لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہیئے۔
مسلمانوں کے دین الہٰی کے خیرخواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں، ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی سے پوچھا کہ ہمیں بتلائیے اللہ کا خیرخواہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آ جائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔‏‏‏‏
ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے، ان میں سیدنا بلال بن سعد رحمہ اللہ بھی تھے۔ آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: اے حاضرین! کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو؟ سب نے اقرار کیا۔
اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا ہے کہ نیک کاروں پر کوئی راہ نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کے اقراری ہیں پس تو ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ رحمہ اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے۔ رحمت ربانی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا سورۃ برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے؟ جو ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لا سکتا ہوں؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:186/6]‏‏‏‏
پھر ان کا بیان ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لیے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کر دیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ واللہ! میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔‏‏‏‏
یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گزارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے۔ پس جناب باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کر دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17093:ضعیف]‏‏‏‏
یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عمیر، بنی واقف کے ھرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمٰن بن کعب، بنو معلیٰ کے سلمان بن صخر، بنی سلمی کے عمرو بن عنمہ، اور عبداللہ بن عمرو مزنی، اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔
انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول، رسولوں کے سرتاج «صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم» کا فرمان ہے کہ اے میرے مجاہد ساتھیو! تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں۔‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اس لیے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2839]‏‏‏‏
ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1911]‏‏‏‏
پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الواقع کوئی عذر نہیں مالدار، ہٹے کٹے ہیں لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے، عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں زمین پکڑ لیتے ہیں۔
فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر الہٰی لگ چکی ہے، اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہو گئے ہیں۔