ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 93

اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَسۡتَاۡذِنُوۡنَکَ وَ ہُمۡ اَغۡنِیَآءُ ۚ رَضُوۡا بِاَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ ۙ وَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۳﴾
(اعتراض کا) راستہ تو صرف ان لوگوں پر ہے جو تجھ سے اجازت مانگتے ہیں، حالانکہ وہ دولت مند ہیں، وہ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی، سو وہ نہیں جانتے۔ En
الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں
En
بیشک انہیں لوگوں پر راه الزام ہے جو باوجود دولتمند ہونے کے آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ یہ خانہ نشین عورتوں کا ساتھ دینے پر خوش ہیں اور ان کے دلوں پر مہر خداوندی لگ چکی ہے جس سے وه محض بے علم ہو گئے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت93) ➊ {اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَى الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ …:} اللہ تعالیٰ اکثر مقامات پر ہر چیز کے دونوں پہلو بیان کرتا ہے، فرمایا ان پر تو کچھ اعتراض نہیں جن کا ذکر اوپر گزرا، صرف ان لوگوں پر گناہ کا سارا بوجھ ہے جن کے پاس سواری بھی ہے، زاد راہ بھی اور تندرستی بھی اور پھر اغنیاء ہو کر بھی آپ سے اجازت مانگتے ہیں اور اپنی بزدلی، نفاق اور کفر کی وجہ سے پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جانے میں انھیں کوئی عار نہیں، بلکہ اس پر انھیں فخر اور خوشی ہے کہ ہم گرمی میں سفر اور ہلاکت سے بچ گئے۔
➋ { وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ …:} ان کے نفاق کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا کر انھیں ایسا بند کر دیا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے میں اور جہاد فی سبیل اللہ میں کیا لذت ہے اور ان کی کیا فضیلت اور کیا ثواب ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

93۔ 1 یہ منافقین ہیں جن کا تذکرہ آیت 86، 87 میں گزر ا۔ یہاں دوبارہ ان کا ذکر مخلص مسلمانوں کے مقابلے میں ہوا ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ خَوَالِفُ، خَالِفَۃ، ُ (پیچھے رہنے والے) مرد عورتیں، بچے معذور اور شدید بیمار اور بوڑھے ہیں جو جنگ میں شرکت سے معذور ہیں۔ لا یَعْلَمُوْ نَ کا مطلب ہے وہ نہیں جانتے کہ پیچھے رہنا کتنا بڑا جرم ہے، ورنہ شاید وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہ رہتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

93۔ الزام تو ان لوگوں پر ہے جو غنی ہونے کے باوجود آپ سے رخصت مانگتے ہیں انہوں نے پیچھے رہ جانے والیوں کے ساتھ شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ لہذا اب یہ کچھ نہیں جانتے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّمَا السَّبِیْلُ الزام تو یعنی گناہ اور ملامت تو ﴿ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَهُمْ اَغْنِیَآءُ ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر بھی آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ یعنی جو جہاد کے لیے نکلنے پر قادر ہیں اور ان کے پاس کوئی عذر نہیں۔ ﴿ رَضُوْا وہ خوش ہیں۔ یعنی اپنے دین اور اپنی ذات کے بارے میں۔ ﴿ بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ یہ کہ وہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھروں میں رہیں۔ ﴿ وَ اور وہ اس وجہ سے اس حال پر راضی ہیں کہ ﴿ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اس لیے ان کے اندر کوئی بھلائی داخل نہیں ہو سکتی اور وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کو محسوس نہیں کرتے۔ ﴿ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ پس وہ نہیں جانتے۔ کہ یہ اس گناہ کی سزا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّما السبيل}: يتوجَّه واللوم يتناول {الذين يستأذِنونك وهم أغنياءٌ}: قادرون على الخروج لا عذرَ لهم؛ فهؤلاء {رضوا} لأنفسهم، ومن دينهم {أن يكونوا مع الخَوالِفِ}؛ كالنساء والأطفال ونحوهم. {و} إنَّما رضوا بهذه الحال لأنَّ الله طَبَعَ {على قلوبهم}؛ أي: خَتَمَ عليها؛ فلا يدخُلها خيرٌ، ولا يحسُّون بمصالحهم الدينيَّة والدنيويَّة، {فهم لا يعلمون}: عقوبةً لهم على ما اقترفوا.