ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 91

لَیۡسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَی الۡمَرۡضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ مَا یُنۡفِقُوۡنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوۡا لِلّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ مَا عَلَی الۡمُحۡسِنِیۡنَ مِنۡ سَبِیۡلٍ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ۙ۹۱﴾
نہ کمزوروں پر کوئی حرج ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جو وہ چیز نہیں پاتے جو خرچ کریں، جب وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے خلوص رکھیں۔ نیکی کرنے والوں پر (اعتراض کا) کوئی راستہ نہیں اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
ضعیفوں پر اور بیماروں پر اور ان پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ بھی نہیں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وه اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کرتے رہیں۔ ایسے نیک کاروں پر الزام کی کوئی راه نہیں، اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت ورحمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت91) ➊ {لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ …:} اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو واقعی معذور تھے اور ان کا عذر واضح تھا۔ ان میں سب سے پہلے { الضُّعَفَآءِ } ہیں، ان سے مراد لنگڑے، لولے، اندھے، بوڑھے، عورتیں اور بچے ہیں۔ دوسرے {الْمَرْضٰى} (مریض کی جمع) جو بیماری کی وجہ سے نہیں جا سکتے، دوسری جگہ فرمایا: «لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِيْضِ حَرَجٌ» ‏‏‏‏ [الفتح: ۱۷] نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ مریض پر کوئی تنگی۔ اور تیسرے وہ تندرست طاقت رکھنے والے جو مالی استطاعت نہیں رکھتے کہ جہاد کے سفر اور اس کے سازو سامان مثلاً سواری اور ہتھیار وغیرہ کی تیاری کر سکیں۔ چنانچہ فرمایا: «لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [البقرۃ: ۲۸۶]اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق۔
➋ { اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ:} یعنی وہ کام نہ کرتے ہوں جس سے اللہ کے دین، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا مومنوں کو کوئی نقصان اور ان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ] دین خیر خواہی (خلوص) ہی کا نام ہے۔ ہم نے کہا: کس کے لیے؟ فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے حکام کے لیے اور ان کے تمام لوگوں کے لیے۔ [مسلم، الإیمان، باب بیان أن الدین النصیحۃ: ۵۵، عن تمیم رضی اللہ عنہ] عام لوگوں کی خیر خواہی میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ جب مجاہدین جہاد پر گئے ہوئے ہوں تو یہ لوگ شہر میں رہیں، ان کے گھروں کی، کاروبار کی اور بال بچوں کی خبر گیری رکھیں، ان کی عزت و آبرو کی ہر طرح سے حفاظت کریں، مجاہدین کی ضروریات بھیجتے رہیں، جھوٹی خبریں یا افواہیں نہ پھیلائیں، کسی قسم کا فساد برپا نہ کریں اور مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے والوں کا منہ بند کریں۔
➌ { مَا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ:} یعنی یہ لوگ معذور ہیں، اگر جہاد میں شرکت نہ کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آئے، مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: بے شک مدینہ میں کئی لوگ ہیں، تم کسی راستے پر نہیں چلے اور نہ تم نے کوئی وادی طے کی ہے، مگر وہ تمھارے ساتھ رہے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: یارسول اللہ! اور وہ مدینہ ہی میں تھے؟ فرمایا: (ہاں) وہ مدینہ ہی میں تھے، انھیں عذر نے روک رکھا تھا۔ [بخاری، المغازی، باب: ۴۴۲۳]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

91۔ 1 اس آیت میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو واقعی معذور تھے اور ان کا عذر بھی واضح تھا مثلاً 1۔ ضعیف و ناتواں یعنی بوڑھے قسم کے لوگ، اور نابینا یا لنگڑے وغیرہ معذورین بھی اسی ذیل میں آجاتے ہیں، بعض نے انہیں بیماروں میں شامل کیا ہے، 2۔ بیمار، 3۔ جن کے پاس جہاد کے اخراجات نہیں تھے اور بیت المال بھی ان کے اخراجات کا متحمل نہیں تھا، اللہ اور رسول کی خیر خواہی سے مراد، جہاد کی ان کے دلوں میں تڑپ، مجاہدین سے محبت رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول کے دشمنوں سے عداوت، اور حتی الا مکان اللہ اور رسول کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں، اگر جہاد میں شرکت کرنے سے معذور ہوں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

91۔ کمزور اور مریض اور وہ لوگ جن کے پاس شرکت جہاد کے لئے خرچ کرنے کو کچھ نہیں، (اگر پیچھے رہ جائیں) تو کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیرخواہ [104] ہوں۔ ایسے محسنین پر کوئی الزام نہیں اور اللہ درگزر کرنے والا رحم کرنے والا ہے
[104] تین طرح کے معذور اور عذر قبول ہونے کی شرط خیرخواہی اور اموال غنیمت میں ان کا حصہ:۔
اس آیت میں تین طرح کے لوگوں کو جہاد سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ایک وہ جو بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے اتنے کمزور ہو چکے ہوں کہ جہاد پر جانے کے قابل ہی نہ رہے ہوں۔ دوسرے مریض جو اس وقت جہاد پر جا ہی نہ سکتے ہوں اور اس شق میں ایسے تیماردار بھی شامل ہیں جن کا بیمار کے پاس رہنا لازمی ہو اور اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو جیسے غزوہ بدر میں سیدنا عثمانؓ صرف اس وجہ سے شامل نہ ہو سکے تھے کہ ان کی زوجہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار تھیں اور جب مجاہدین واپس آئے تو ان کی وفات ہو چکی تھی۔ اور تیسرے وہ لوگ جن کے پاس جہاد کے لیے خرچ نہ ہو۔ کیونکہ اس دور میں ہر مجاہد کو اپنی سواری، اسلحہ اور زاد راہ کا خود انتظام کرنا ہوتا تھا اور اس کے عوض انہیں مال غنیمت سے مقر رہ حصہ ملتا تھا۔ پھر ان تینوں قسم کے معذورین کے ساتھ یہ لازمی شرط بھی عائد کر دی کہ ”وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ ہوں۔“ بالفاظ دیگر جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ نہ ہوں ان کا کوئی عذر قابل قبول نہ ہو گا کیونکہ ایسے لوگ صرف منافق ہی ہو سکتے ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک شخص بیمار ہے اور اس بیماری کی حالت میں جہاد کا اعلان ہو جاتا ہے۔ اب اگر وہ شخص منافق ہے تو اس کے احساسات یہ ہوں گے کہ کیا اچھا ہوا کہ میں اس وقت بیمار ہوں اور جہاد سے بچنے کا یہ کیسا معقول بہانہ میسر آگیا ہے۔ اس کے برعکس ایک مومن کے احساسات یہ ہوں گے کہ کاش میں اس وقت بیمار نہ ہوتا اور اس اجر سے محروم نہ رہتا جو جہاد کرنے والوں کو ملے گا، یا وہ یہ آرزو کرے گا کہ اللہ اسے جلد از جلد صحت عطا کرے تاکہ وہ بھی جہاد میں شامل ہو سکے یا وہ اپنے تیمار داروں سے کہے گا کہ میرا اللہ مالک ہے تم وقت ضائع نہ کرو اور جہاد پر چلے جاؤ۔ غرض ایک ایک بات سے انسان کی نیت اور احساسات کا پتہ چل سکتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ مریض ہونے کے لحاظ سے تو یہ دونوں یکساں ہیں مگر ان کے احساسات بالکل متضاد ہیں کہ یہ احساسات ہی انہیں منافق اور مومن کی قسموں میں تقسیم کر دیتے ہیں اور جن لوگوں کے احساسات میں اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی ہے انہی کا عذر شرعی لحاظ سے قابل قبول ہے اور ایسے لوگوں کو جہاد میں شامل ہی سمجھا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے:
سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جب تم کوئی سفر کرتے ہو یا کوئی وادی عبور کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔“ صحابہ کرامؓ نے پوچھا: اس کے باوجود کہ وہ مدینہ میں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کے باوجود کہ وہ مدینہ میں ہیں انہیں عذر نے روکا ہے۔“ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب نزول النبى الحجر۔ مسلم۔ كتاب الامارة۔ باب ثواب من حبسه عن الغزو مرض او عذر]
بلکہ ایسے معذور لوگوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اموال غنیمت سے حصہ بھی نکالا ہے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ جنگ خیبر کی فتح کے فوراً بعد جو مہاجر حبشہ سے ہجرت کر کے پہنچے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اموال غنائم میں شریک کر لیا تھا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب غزوة خيبر]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔
پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار یا بالکل ہی نا طاقت ہو، دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب ہیں مثلاً کوئی بیمار ہو گیا ہے یا بالکل فقیر ہو گیا ہے سامان سفر، سامان جہاد مہیا نہیں کر سکتا وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کر سکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں۔ لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہیئے۔
مسلمانوں کے دین الہٰی کے خیرخواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں، ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی سے پوچھا کہ ہمیں بتلائیے اللہ کا خیرخواہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آ جائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔‏‏‏‏
ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے، ان میں سیدنا بلال بن سعد رحمہ اللہ بھی تھے۔ آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: اے حاضرین! کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو؟ سب نے اقرار کیا۔
اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا ہے کہ نیک کاروں پر کوئی راہ نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کے اقراری ہیں پس تو ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ رحمہ اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے۔ رحمت ربانی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا سورۃ برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے؟ جو ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لا سکتا ہوں؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:186/6]‏‏‏‏
پھر ان کا بیان ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لیے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کر دیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ واللہ! میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔‏‏‏‏
یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گزارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے۔ پس جناب باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کر دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17093:ضعیف]‏‏‏‏
یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عمیر، بنی واقف کے ھرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمٰن بن کعب، بنو معلیٰ کے سلمان بن صخر، بنی سلمی کے عمرو بن عنمہ، اور عبداللہ بن عمرو مزنی، اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔
انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول، رسولوں کے سرتاج «صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم» کا فرمان ہے کہ اے میرے مجاہد ساتھیو! تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں۔‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اس لیے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2839]‏‏‏‏
ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1911]‏‏‏‏
پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الواقع کوئی عذر نہیں مالدار، ہٹے کٹے ہیں لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے، عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں زمین پکڑ لیتے ہیں۔
فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر الہٰی لگ چکی ہے، اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہو گئے ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں:
(۱) جو شرعی طور پر معذور ہیں۔
(۲) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ نہیں ہے (حرج) کمزوروں پر۔جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لیے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
﴿ وَلَا عَلَى الْ٘مَرْضٰى اور نہ بیماروں پر یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لیے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً: لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ۔ ﴿ وَلَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے وہ تیزی سے سفر کر سکیں۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لیے کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں، صادق الایمان ہوں، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں، مثلاً: لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لیے ان کا حوصلہ بڑھانا۔ ﴿ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ نیکی کرنے والوں پر کوئی راستہ نہیں یعنی ایسا راستہ جس سے نیکی کرنے والوں کو کوئی ضرر پہنچے کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بھلائی سے کام لے کر ملامت کو ساقط کر دیا۔ بندۂ مومن جس چیز پر قادر ہے جب اس میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اس سے وہ امور ساقط ہو جاتے ہیں جن پر وہ قادر نہیں۔ اس آیت کریمہ سے اس شرعی قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ جو کوئی کسی دوسرے شخص پر اس کی جان اور مال وغیرہ میں احسان کرتا ہے، پھر اس احسان کے نتیجے میں کوئی نقصان یا اتلاف واقع ہو جاتا ہے تو اس احسان کرنے والے پر کوئی ضمان نہیں۔ کیونکہ وہ محسن ہے اور محسن پر کوئی گرفت نہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ غیر محسن..... جو کام کو عمدہ طریقے سے انجام نہ دے، اس کی حیثیت کوتاہی کرنے والے کی ہو گی، اس لیے اس پر ضمان عائد کیا جائے گا۔
﴿ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور بے پایاں رحمت ہی ہے کہ اس نے قدرت نہ رکھنے والے بے بس لوگوں کو معاف کر دیا ہے اور ان کی نیت کے مطابق ان کو وہ ثواب عطا کرتا ہے جو وہ قدرت رکھنے والوں کو عطا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر المعتذرين، وكانوا على قسمين: قسم معذور في الشرع، وقسم غير معذورٍ؛ ذَكَرَ ذلك بقوله: {ليس على الضُّعفاء}: في أبدانهم وأبصارهم، الذين لا قوَّة لهم على الخروج والقتال، {ولا على المرضى}: وهذا شاملٌ لجميع أنواع المرض، التي لا يقدر صاحبُهُ على الخروج والجهاد من عَرَج وعمىً وحُمَّى وذات الجنب والفالج وغير ذلك. {ولا على الذين لا يَجِدونَ ما يُنفقون}؛ أي: لا يجدون زاداً ولا راحلةً يتبلَّغون بها في سفرهم؛ فهؤلاء ليس عليهم حَرَجٌ، بشرط أن ينصحوا لله ورسوله؛ بأن يكونوا صادقي الإيمان، وأن يكون من نيَّتهم وعزمهم أنهم لو قدروا لجاهدوا، وأن يفعلوا ما يقدِرون عليه من الحثِّ والترغيب والتَّشجيع على الجهاد.

{ما على المحسنين من سبيل}؛ أي: من سبيل يكونُ عليهم فيه تَبِعَةٌ؛ فإنهم بإحسانهم فيما عليهم من حقوق الله وحقوق العباد أسقطوا توجُّه اللوم عليهم، وإذا أحسن العبدُ فيما يقدِرُ عليه؛ سقط عنه ما لا يقدرُ عليه.

ويُستدلُّ بهذه الآية على قاعدة، وهي أنَّ مَن أحسن على غيره في نفسه أو في ماله ونحو ذلك، ثم ترتَّب على إحسانه نقصٌ أو تلفٌ: أنَّه غير ضامن؛ لأنه محسنٌ، ولا سبيل على المحسنين؛ كما أنه يدلُّ على أن غير المحسن، وهو المسيء؛ كالمفرط؛ أن عليه الضمان. {والله غفورٌ رحيم}: من مغفرته ورحمته عفا عن العاجزين، وأثابهم بنيَّتهم الجازمة ثوابَ القادرين الفاعلين.