تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { حَتّٰى يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کو پناہ دینے سے اصل مقصود دعوت دین، قرآن سنانا اور اسلام کا تعارف کروانا ہے، پھر اگر وہ مسلمان نہ ہوں تو انھیں جلدی رخصت کر دینا چاہیے، یہ نہیں کہ وہ اپنے اڈے بنا کر جاسوسی کریں اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور عورت کی امان کے سلسلہ میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: فتح مکہ کے موقعہ پر ام ہانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پس پردہ غسل فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”کون ہے؟“ ام ہانی کہنے لگیں ”میں ام ہانی ہوں“ پھر ام ہانی نے عرض کیا ”اے اللہ کے رسول! میری ماں کے لڑکے (علیؓ) یہ کہتے ہیں کہ وہ ہبیرہ (ام ہانی کے خاوند کا نام) کے لڑکے کو قتل کر دیں گے جبکہ میں اسے پناہ دے چکی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ام ہانی! جس کو تم نے پناہ دی ہم نے بھی اس کو پناہ دی۔“ [بخاري كتاب الغسل۔ باب التستر فى الغسل]
مسلمانوں کی اس راستبازی اور ایفائے عہد کی بنا پر دشمن دھوکا دے کر بھی امان حاصل کر لیتے تھے۔ چنانچہ عراق و ایران کی جنگوں میں خارق کے مقام پر سیدنا ابو عبیدہ ابن الجراح اور ایرانیوں کے سپہ سالار جاپان کی افواج کا مقابلہ ہوا۔ جاپان شکست کھا کر گرفتار ہو گیا۔ مگر جس مجاہد نے اسے گرفتار کیا تھا وہ اسے پہچانتا نہیں تھا۔ جاپان نے اس کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے عوض دو نوجوان غلام دینے کا وعدہ کر کے امان لے لی۔ اتنے میں کسی دوسرے نے اسے پہچان لیا اور پکڑ کر ابو عبیدہ کے پاس لے گئے۔ سیدنا ابو عبیدہ نے یہ صورت حال دیکھ کر فرمایا: اگرچہ ایسے دشمن کو چھوڑ دینا ہمارے حق میں بہت مضر ثابت ہو گا مگر ایک مسلمان اسے پناہ دے چکا ہے اس لیے بد عہدی جائز نہیں چنانچہ اس امان کی بنا پر اسے چھوڑ دیا گیا۔ [تاريخ اسلام۔ حميد الدين ص 132]
اب اس کے مقابلہ میں عیسائی دنیا کی صلیبی جنگوں میں امان، کا قصہ بھی سن لیجئے۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد طرابلس کے مسلمان بادشاہ نے کاؤنٹ بوہیمانڈ کو پیغام بھیجا کہ وہ معاہدہ کرنے کو تیار ہے اور ساتھ ہی دس گھوڑے اور سونا بھی خیر سگالی کے طور پر بھیجا اور یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا جب کاؤنٹ امان دے چکنے کے بعد پورے شہر کے زن و مرد کو موت کی گھاٹ اتار رہا تھا۔ بوہیمانڈ نے ترجمان کے ذریعہ مسلمان امیروں کو بتایا کہ اگر وہ صدر دروازے کے اوپر والے محل میں پناہ لے لیں تو ان کو، ان کی بیویوں اور ان کے بچوں کو پناہ دے دی جائے گی اور ان کا مال واپس کر دیا جائے گا۔ شہر کا ایک کونا بھی مسلمانوں کی لاشوں سے خالی نہ تھا اور چلنا پھرنا دشوار ہو گیا تھا بوہیمانڈ نے جن کو پناہ دی تھی ان کا سونا چاندی اور زیورات ان سے لے لیے اور ان میں سے بعض کو تو مروا دیا اور باقی ماندہ کو انطاکیہ میں غلام بنا کر بیچ ڈالا گیا۔ [پهلي صليبي جنگ ص 45 بحواله جهاد از بريگيڈيئر گلزار احمد ص 267]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ اس لیے کہ یہ بےعلم لوگ ہیں انہیں دینی معلومات بہم پہنچاؤ اللہ کی دعوت اس کے بندوں کے کانوں تک پہنچا دو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو تیرے پاس دینی باتیں سننے کے لیے آئے خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو وہ امن میں ہے یہاں تک کہ کلام اللہ سنے پھر جہاں سے آیا ہے وہاں باامن پہنچ جائے۔
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جو دین سمجھنے کے لیے آۓ اور اسے جو پیغام لے کر آۓ امن دے دیا کرتے تھے حدیبیہ والے سال بھی یہی ہوا قریش کے جتنے قاصد آئے یہاں انہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ عروہ بن مسعود، مکرزبن حفص، سہیل بن عمرو وغیرہ یکے بعد دیگرے آتے رہے۔
آخر یہ شخص سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا کی کوفہ میں امارت کے زمانے میں قتل کر دیا گیا۔ اسے ابن النواحہ کہا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا کہ یہ مسیلمہ کا ماننے والا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور فرمایا: ”اب تو قاصد نہیں ہے اب تیری گردن مارنے سے کوئی امر مانع نہیں، اسے قتل کر دیا گیا۔ اللہ کی لعنت اس پر ہو۔
الغرض دارالحرب سے جو قاصد آئے یا تاجر آئے یا صلح کا طالب آئے یا آپس میں اصلاح کے ارادے سے آئے یا جزیہ لے کر حاضر ہو امام یا نائب امام نے اسے امن وامان دے دیا ہو تو جب تک وہ دارالاسلام میں رہے یا اپنے وطن نہ پہنچ جائے اسے قتل کرنا حرام ہے۔ علماء کہتے ہیں ایسے شخص کو دارالاسلام میں سال بھر تک نہ رہنے دیا جائے، زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک وہ یہاں ٹھہر سکتا ہے۔ پھر چار ماہ سے زیادہ اور سال بھر کے اندر کے دو قول امام شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ علماء کے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما كان ما تقدَّم من قوله: {فإذا انسلخ الأشهرُ الحُرُم فاقتُلوا المشركين حيث وجدتموهم وخُذوهم واحصُروهم واقعُدوا لهم كلَّ مرصد}: أمراً عامًّا في جميع الأحوال وفي كلِّ الأشخاص منهم؛ ذكر تعالى أن المصلحة إذا اقتضت تقريب بعضهم؛ جاز، بل وجب ذلك، فقال: {وإنْ أحدٌ من المشركين استجارَكَ}؛ أي: طلب منك أن تجيره وتمنعه من الضَّرر لأجل أن يسمع كلام الله وينظر حالة الإسلام، {فأجِرْه حتَّى يسمعَ كلام الله}: ثم إنْ أسلم؛ فذاك، وإلاَّ؛ فأبلِغْه مأمَنَه؛ أي: المحل الذي يأمن فيه.
والسبب في ذلك أن الكفار قومٌ لا يعلمون؛ فربَّما كان استمرارُهم على كفرهم لجهل منهم إذا زال اختاروا عليه الإسلام؛ فلذلك أمر الله رسوله. وأمَّتُه أسوتُه في الأحكام أن يجيروا من طَلَبَ أن يسمع كلام الله.
وفي هذا حجةُ صريحةٌ لمذهب أهل السنة والجماعة، القائلين بأن القرآن كلام الله غير مخلوق؛ لأنَّه تعالى هو المتكلِّم به، وأضافه إلى نفسه إضافة الصفة إلى موصوفها، وبطلان مذهب المعتزلة ومن أخذ بقولهم أنَّ القرآن مخلوقٌ، وكم من الأدلَّة الدالَّة على بطلان هذا القول، ليس هذا محل ذكرها!