تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { كُلَّ مَرْصَدٍ:} گھات کی جگہ سے مراد وہ راستہ یا جگہ ہے جہاں سے دشمن کے گزرنے کی توقع ہو اور جہاں سے اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کرنا ممکن ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین سے صرف میدان جنگ میں لڑنا ہی کافی نہیں، بلکہ جس طریقے سے بھی تم ان پر قابو پا کر انھیں قتل کر سکتے ہو ضرور کرو۔
➌ {فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ …:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” جن سے وعدہ ٹھہر گیا تھا اور دغا ان سے نہ دیکھی ان کی صلح قائم رہی اور جن سے کچھ وعدہ نہ تھا ان کو فرصت ملی چار مہینے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دل کی خبر اللہ کو ہے، ظاہر میں جو مسلمان ہو وہ سب کے برابر امان میں ہے اور ظاہر مسلمانی کی حد ٹھہرائی ایمان لانا، کفر سے توبہ کرنا اور نماز اور زکوٰۃ۔ اس واسطے جب کوئی شخص نماز چھوڑ دے تو اس سے امان اٹھ گئی۔“ (موضح) یہی وہ حکم ہے جس کی بنا پر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ کے منکرین سے جنگ کی اور فرمایا کہ میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی دیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر جب وہ یہ (تین) کام کر لیں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کر لیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ [بخاری، الإیمان، باب: «فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ…» : ۲۵]
یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت میں آپ کے تمام احکام کی فرماں برداری کا اقرار آ جاتا ہے، اگر ان میں سے کسی حکم کا انکار کرے، جو عام سب کو معلوم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے تو مرتد ٹھہرے گا اور اگر کسی حکم کا انکار تو نہ کرے مگر عمل نہ کر سکے تو گناہ گار مسلمان ہو گا، کافر نہیں ہو گا۔ البتہ مسلمان ہونے کی ظاہری نشانیاں وہ ہیں جو اوپر ذکر ہوئیں، ان کا صرف اقرار کرنا یا دل میں ماننا کافی نہیں، بلکہ ان پر عمل کرنا خون اور مال کی حفاظت کا ضامن ٹھہرایا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
یعنی ان مشرکوں کو محض اسلام لانے کا اعلان یا توبہ کرنا ہی کافی نہیں بلکہ انہیں اپنے دعویٰ کو درست ثابت کرنے کے لیے نماز کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ اور اگر کوئی مشرک ظاہری طور پر یہ تینوں شرائط پوری کر دے تو اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا خواہ اس کی نیت میں فتور بدستور موجود ہو۔ اور اگر ایسی صورت ہو تو اللہ اس سے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایسے لوگوں سے نمٹ لے گا۔ اس آیت سے یہ اصول مستنبط ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان خواہ وہ موروثی مسلمان ہو یا نو مسلم ہو اگر وہ نماز قائم کرتا اور زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو ایک اسلامی حکومت میں اسے حقوق شہریت مل سکتے ہیں اور اگر نہیں کرتا تو اسے مسلمانوں جیسے حقوق نہیں مل سکتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ضحاک رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے لیکن اس میں ذرا تأمل ہے بلکہ مراد اس سے یہاں وہ چار مہینے ہیں جن میں مشرکین کو پناہ ملی تھی کہ ان کے بعد تم سے لڑائی ہے۔ چنانچہ خود اسی سورت میں اس کا بیان اور آیت میں آ رہا ہے۔
فرماتا ہے ان چار ماہ کے بعد مشرکوں سے جنگ کرو انہیں قتل کرو انہیں گرفتار کرو جہاں بھی پالو۔ پس یہ عام ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ خاص ہے حرم میں لڑائی نہیں ہو سکتی۔
جیسے فرمان ہے «وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» ۱؎ [2- البقرة: 191] مسجد الحرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک کہ وہ اپنی طرف سے لڑائی کی ابتداء نہ کریں۔ اگر یہ وہاں تم سے لڑیں تو پھر تمہیں بھی ان سے لڑائی کرنے کی اجازت ہے چاہو قتل کرو چاہو قید کر لو ان کے قلعوں کا محاصرہ کرو ان کے لیے ہر گھاٹی میں بیٹھ کر تاک لگاؤ انہیں زد پر لا کر مارو۔ یعنی یہی نہیں کہ مل جائیں تو جھڑپ ہو جائے خود چڑھ کر جاؤ۔ ان کی راہیں بند کرو اور انہیں مجبور کر دو کہ یا تو اسلام لائیں یا لڑیں۔
اس لیے فرمایا کہ اگر وہ توبہ کر لیں، پابند نماز ہو جائیں، زکوٰۃ دینے لگیں تو بےشک ان کی راہیں کھول دو ان پر سے تنگیاں اٹھالو۔ زکوٰۃ کے مانعین سے جہاد کرنے کی اسی جیسی آیتوں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دلیل لی تھی کہ لڑائی اس شرط پر حرام ہے کہ اسلام میں داخل ہو جائیں اور اسلام کے واجبات بجا لائیں۔
اس آیت میں ارکان اسلام کو ترتیب وار بیان فرمایا ہے اعلٰی پھر ادنٰی پس شہادت کے بعد سب سے بڑا رکن اسلام نماز ہے جو اللہ عزوجل کا حق ہے۔ نماز کے بعد زکوٰۃ ہے جس کا نفع فقیروں، مسکینوں، محتاجوں کو پہنچتا ہے اور مخلوق کا زبردست حق جو انسان کے ذمے ہے ادا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر نماز کے ساتھ ہی زکوٰۃ کا ذکر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ”تمہیں نمازوں کے قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم کیا گیا ہے جو زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز بھی نہیں۔“ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ ہرگز کسی کی نماز قبول نہیں فرماتا جب تک وہ زکوٰۃ ادا نہ کرے۔“ اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے آپ کی فقہ سب سے بڑھی ہوئی تھی جو آپ نے زکوٰۃ کے منکروں سے جہاد کیا۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے لوگوں سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ جب تک کہ وہ یہ گواہی نہ دیں کہ بجز اللہ تعالیٰ برحق کے اور کوئی لائق عبادت نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ ان دونوں باتوں کا اقرار کر لیں ہمارے قبلے کی طرف منہ کر لیں، ہمارا ذبیحہ کھانے لگیں، ہم جیسی نمازیں پڑھنے لگیں تو ہم پر ان کے خون ان کے مال حرام ہیں مگر احکام اسلام حق کے ماتحت انہیں ہر وہ حق حاصل ہے جو اور مسلمانوں کا ہے اور ان کے ذمے ہر وہ چیز ہے جو اور مسلمانوں کے ذمے ہے۔“ یہ روایت صحیح بخاری میں اور سنن میں بھی ہے سوائے ابن ماجہ کے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:392]
ابن جریر میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو دنیا سے اس حال میں جائے کہ اللہ تعالیٰ اکیلے کی خالص عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو وہ اس حال میں جائے گا کہ اللہ اس سے خوش ہو گا۔“
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ» ۱؎ [9-التوبہ: 5] پس توبہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد برحق ہے پس توبہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد برحق کے سوا اوروں کی عبادت سے دست بردار ہو جائیں نماز اور زکوٰۃ کے پابند ہو جائیں۔
اور آیت میں ہے کہ ان تینوں کاموں کے بعد وہ تمہارے دینی برادر ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13489:ضعیف]
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ تلوار کی آیت ہے اس نے ان تمام عہد و پیمان کو چاک کر دیا جو مشرکوں سے تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”برأت کے نازل ہونے پر چار مہینے گزر جانے کے بعد کوئی عہد و ذمہ باقی نہیں رہا، پہلی شرطیں برابری کے ساتھ توڑ دی گئیں اب اسلام اور جہاد باقی رہ گیا۔“ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار تلواروں کے ساتھ بھیجا ایک تو مشرکین عرب میں۔“
فرماتا ہے «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ» ۱؎ [9- التوبہ: 5] مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ یہ روایت اسی طرح مختصراً ہے۔
میرا خیال ہے کہ دوسری تلوار اہل کتاب میں، فرماتا ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ» ۱؎ [9- التوبہ: 29] الخ اللہ تبارک و تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہ لانے والوں اور اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرام کردہ کو حرام نہ ماننے والوں اور اللہ تعالیٰ کے سچے دین کو قبول کرنے والوں سے جو اہل کتاب ہیں جہاد کرو تاوقتیکہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دینا قبول نہ کر لیں۔
چوتھی تلوار باغیوں میں، ارشاد ہے «وَاِنْ طَاىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا» ۱؎ [49- الحجرات: 9] اگر مسلمانوں کی دو جماعتوں میں لڑائی ہو جائے تو ان میں صلح کرا دو پھر بھی اگر کوئی جماعت دوسری کو دباتی چلی جائے تو ان باغیوں سے تم لڑو جب تک کہ وہ پلٹ کر اللہ کے حکم کی ماتحتی میں نہ آ جائیں۔
ضحاک رحمہ اللہ اور سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”آیت یہ تلوار آیت «فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً» ۱؎ [47-محمد: 4] سے منسوخ ہے“ یعنی بطور احسان کے یا فدیہ لے کر کافر قیدیوں کو چھوڑ دو۔ قتادہ رحمہ اللہ اس کے برعکس کہتے ہیں کہ ”پچھلی آیت پہلی سے منسوخ ہے۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {فإذا انسلخَ الأشهرُ الحُرُم}؛ أي: التي حُرِّم فيها قتال المشركين المعاهَدين، وهي أشهر التَّسْيير الأربعة، وتمام المدة لمن له مدة أكثر منها؛ فقد برِئَت منهم الذمة. {فاقتُلوا المشركين حيث وجدتموهم}: في أيِّ مكان وزمان، {وخذوهم}: أسرى، {واحصُروهم}؛ أي: ضيِّقوا عليهم؛ فلا تَدَعوهم يتوسَّعون في بلاد الله وأرضه التي جعلها الله معبداً لعباده؛ فهؤلاء ليسوا أهلاً لسُكناها، ولا يستحقُّون منها شبراً؛ لأنَّ الأرض أرض الله، وهم أعداؤه المنابذون له ولرسله، المحاربون الذين يريدون أن تخلو الأرض من دينه، ويأبى الله إلاَّ أن يُتِمَّ نورَه ولو كره الكافرون. {واقعُدوا لهم كلَّ مرصدٍ}؛ أي: كلَّ ثنيَّة وموضع يمرُّون عليه، ورابطوا في جهادهم، وابذلوا غاية مجهودكم في ذلك، ولا تزالوا على هذا الأمر حتى يتوبوا من شركهم. ولهذا قال: {فإن تابوا}: من شركهم، {وأقاموا الصَّلاة}؛ أي: أدَّوها بحقوقها، {وآتوا الزكاةَ}: لمستحقيها، {فَخلُّوا سبيلَهم}؛ أي: اتركوهم، وليكونوا مثلكم لهم ما لكم، وعليهم ما عليكم. {إنَّ الله غفورٌ رحيمٌ}: يغفر الشرك فما دونه للتائبين، ويرحمهم بتوفيقهم للتوبة ثم قبولها منهم.
وفي هذه الآية دليل على أن من امتنع من أداء الصلاة أو الزكاة؛ فإنه يقاتَل حتَّى يؤديها؛ كما استدلَّ بذلك أبو بكر الصديق رضي الله عنه.