ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 111

اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَ یُقۡتَلُوۡنَ ۟ وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ وَ الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۱﴾
بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہو جائو جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے
En
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ وه لوگ اللہ کی راه میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، اس پر سچا وعده کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیاده اپنے عہد کو کون پورا کرنے واﻻ ہے، تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ، اور یہ بڑی کامیابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 111) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ …: فَاسْتَبْشِرُوْا۠ اَلْاِسْتِبْشَارُ} ایسی زبردست خوشی جس کے اثرات بشرے یعنی چہرے پر بھی ظاہر ہوں۔ سین اور تاء کے اضافے سے بشریٰ، یعنی خوش خبری کے مفہوم میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ جہاد کی اس سے بہتر اور اس سے بڑھ کر مؤثر ترغیب آپ کسی آیت میں نہیں پائیں گے، کیونکہ اسے ایک سودے اور معاہدے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے جو سودا رب العزت کے ساتھ ہے۔ سودے کا سامان مومنوں کی جانیں اور مال ہیں اور قیمت اس کی اتنی قیمتی اور بے مثال ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی، نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک آیا۔ یہ سودا اور معاہدہ صرف اس پر نہیں کہ وہ قتل کیے جائیں گے تو قیمت ملے گی، بلکہ اللہ کے دین کی نصرت اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے وہ کفار کو قتل کریں گے تب بھی یہی قیمت ملے گی۔ پھر اس معاہدے کی باقاعدہ تسجیل (رجسٹری) آسمانی کتابوں تورات، انجیل اور قرآن میں کی گئی، اس سے بڑھ کر سودے کی پختگی کا تحریری ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کا سچا پکا عہد قرار دے کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنا عہد کون پورا کرنے والا ہے۔ سو اس کا ادھار دوسرے تمام نقدوں سے بڑھ کر ہے، پھر اس کا ادھار وعدہ جنت یقینی ہے۔ اس آیت کے علاوہ دیکھیے سورۂ حدید (۲۱)، سورۂ صف (۱۰ تا ۱۲) اور سورۂ توبہ (۲۰ تا ۲۲) اور اگر کچھ زندگی باقی ہے تو وہ بھی اس کے بے پایاں انعام سے خالی نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے کہ جو اس کے راستے میں جہاد کرے اور اسے اس کے راستے میں نکالنے والی چیز اس کی راہ میں جہاد اور اس کی باتوں کو سچا یقین کرنے کے سوا کچھ نہ ہو تو وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، یا اسے اس کے گھر میں اجر یا غنیمت سمیت واپس لائے گا جس گھر سے وہ نکل کر گیا تھا۔ [بخاری، فرض الخمس، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : أحلت لکم الغنائم: ۳۱۲۳]
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مجاہدین ایران میں جہاد کے لیے گئے تو کسریٰ کے جرنیل نے مسلمانوں کے سفیر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم لوگ کیا ہو؟ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کا تعارف کرانے کے بعد فرمایا: ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے رب کا پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو قتل کر دیا جائے گا وہ جنت کی ایسی نعمتوں میں جائے گا جو کبھی کسی کے دیکھنے میں نہیں آئیں اور جو ہم میں سے باقی رہے گا وہ تمھاری گردنوں کا مالک بنے گا۔ [بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ …: ۳۱۵۹] جہاد کے بے شمار فضائل کے لیے کتب احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
➋ {وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ:} اس میں حصر کے لیے { هُوَ } ضمیر لا کر اور خبر { الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ } پر الف لام لا کر واضح فرمایا کہ فوزِ عظیم ہے تو بس یہ ہے، اس کے سوا کوئی کامیابی عظیم نہیں، بلکہ معمولی اور بے وقعت ہے۔
➌ حسن بصری رحمہ اللہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھیے، جانیں ہیں تو اسی نے دیں، اموال ہیں تو اس نے عطا فرمائے، پھر وہ ہم ہی سے سودا کر رہا ہے کہ ہم اس کے راستے میں خرچ کریں گے اور وہ ہمیں اس کے بدلے جنت میں داخل ہی نہیں کرے گا بلکہ وہ اسے ہماری ملکیت بنا دے گا۔ { لَهُمُ } پہلے آنے سے حصر کا معنی حاصل ہوا { بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ } کہ جنت انھی کی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

111۔ 1 یہ اللہ کے ایک خاص فضل و کرم کا بیان ہے کہ اس نے مومنوں کو، ان کی جان و مال کے عوض، جو انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیے، جنت عطا فرما دی، جب کہ یہ جان و مال بھی اسی کا عطیہ ہے۔ پھر قیمت اور معاوضہ بھی جو عطا کیا یعنی جنت وہ نہایت ہی بیش قیمت ہے۔ 111۔ 2 یہ اسی سودے کی تاکید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچا وعدہ پچھلی کتابوں میں بھی اور قرآن میں بھی کیا ہے۔ اور اللہ سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والا کون ہوسکتا ہے۔ 111۔ 3 یہ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے لیکن یہ خوشی اسی وقت منائی جاسکتی ہے جب مسلمان کو بھی یہ سودا منظور ہو۔ یعنی اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے انہیں دریغ نہ ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

111۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے [124] بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ تورات، انجیل، اور قرآن سب کتابوں میں اللہ کے ذمہ یہ پختہ وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو وفا کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے؟ لہذا (اے مسلمانو)! تم نے جو سودا کیا ہے اس پر خوشیاں مناؤ اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے
[124] جان و مال فروخت کرنے کا مفہوم:۔
اس کا ایک مفہوم تو ترجمہ سے ہی واضح ہو جاتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کرتے ہیں پھر خواہ وہ شہید ہو جائیں یا بچ کر آجائیں بہرصورت ان کو جنت ضرور ملے گی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ حقیقت میں تو ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مومنوں کی جانوں اور اموال کا بھی ہے لیکن اس نے یہ چیزیں بطور امانت دے رکھی ہیں اور ان میں تصرف کا اختیار بھی انسان کو دے رکھا ہے۔ اسی اختیار سے دستبردار ہو جانے اور اس اختیار کو اللہ کی رضا کے تابع بنا دینے کی قیمت یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت عطا کرے گا اور چونکہ یہ قیمت یعنی جنت نقد بہ نقد نہیں ملتی بلکہ ادھار ہے جو مرنے کے بعد ہی ملے گی۔ لہٰذا یہ توثیق بھی فرما دی۔ اللہ کا یہ وعدہ سب الہامی کتابوں میں بالخصوص تورات، انجیل اور قرآن میں موجود ہے مزید برآں یہ وضاحت بھی فرما دی کہ اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔ لہٰذا مومنوں کے لیے اس وعدہ میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اہل ایمان نے اپنی جانوں اور اموال میں تصرف کے جملہ اختیارات تو اللہ کے ہاتھ فروخت کر دیئے ہیں اور بوقت ضرورت جان و مال کا نذرانہ پیش کرنا اور جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لینا پھر شہید ہو جانا یا بچ کر آجانا یہ سب کچھ وقتی باتیں اور اسی اصل معاہدہ بیع کا ایک حصہ ہیں۔ اصل معاہدہ بیع یہی ہے کہ مومن اپنی جان میں اور اموال میں اللہ کی مرضی کے مطابق ہی تصرف کرے گا۔ یہ معاہدہ بیع انسان کی موت تک چلتا ہے۔ اس سے پہلے یہ پتہ چل ہی نہیں سکتا کہ انسان نے یہ معاہدہ بیع اپنی عمر بھر نبھایا بھی ہے یا نہیں۔ اور جب موت آجاتی ہے تو اس وقت اسے اس کی قیمت یعنی جنت فوراً مل جاتی ہے۔ اس صورت میں ادھار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس مفہوم کے مطابق یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص کو زندگی بھر جہاد کا موقع ہی میسر نہ آیا ہو۔ مگر اس نے اپنی جان، اپنے مال اور اپنے اختیار تصرف کو اللہ کی مرضی کے تحت رکھا ہو تو اس سے بھی جنت کا وعدہ ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مجاہدین کے لئے استثنائی انعامات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن بندے جب راہ حق میں اپنے مال اور اپنی جانیں دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم سے انہیں جنت عطا فرمائے گا۔ بندہ اپنی چیز جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کی اطاعت گذاری سے مالک الملک خوش ہو کر اس پر اپنا اور فضل کرتا ہے سبحان اللہ کتنی زبردست اور گراں قیمت پروردگار کیسی حقیر چیز پر دیتا ہے۔ دراصل ہر مسلمان اللہ سے یہ سودا کر چکا ہے۔ اسے اختیار ہے کہ وہ اسے پورا کرے یا یونہی اپنی گردن میں لٹکائے ہوئے دنیا سے اٹھ جائے۔ اسی لیے مجاہدین جب جہاد کے لیے جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اسنے اللہ تعالیٰ سے بیوپار کیا۔ یعنی وہ خرید و فروخت جسے وہ پہلے سے کر چکا تھا اس نے پوری کی۔ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے لیلۃالعقبہ میں بیعت کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے لیے اور اپنے لیے جو چاہیں شرط منوالیں۔ آپ نے فرمایا میں اپنے رب کے لیے تم سے یہ شرط قبول کراتا ہوں کہ اسی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرنا۔ اور اپنے لیے تم سے اس بات کی پابندی کراتا ہوں کہ جس طرح اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہو میری بھی حفاظت کرنا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا جب ہم یونہی کریں تو ہمیں کیا ملے گا؟
آپ نے فرمایا جنت! یہ سنتے ہی خوشی سے کہنے لگا واللہ اس سودے میں تو ہم بہت ہی نفع میں رہیں گے۔ بس اب پختہ بات ہے نہ ہم اسے توڑیں گے نہ توڑنے کی درخواست کریں گے پس یہ آیت نازل ہوئی یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، نہ اس کی پرواہ ہوتی ہے کہ ہم مارے جائیں گے نہ اللہ کے دشمنوں پر وار کرنے میں انہیں تامل ہوتا ہے، مرتے ہیں اور مارتے ہیں۔ ایسوں کے لیے یقیناً جنت واجب ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں نکل کھڑا ہو جہاد کے لیے، رسولوں کی سچائی مان کر، اسے یا تو فوت کر کے بہشت بریں میں اللہ تبارک و تعالیٰ لے جاتا ہے یا پورے پورے اجر اور بہترین غنیمت کے ساتھ واپس اسے لوٹاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمے ضروری کر لی ہے اور اپنے رسولوں پر اپنی بہترین کتابوں میں نازل بھی فرمائی ہے۔ موسیٰ پر اتری ہوئی تورات میں، عیسیٰ پر اتری ہوئی انجیل میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے ہوئے قرآن میں اللہ کا یہ وعدہ موجود ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔ اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اللہ سے زیادہ وعدوں کا پورا کرنے والا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ نہ اس سے زیادہ سچائی کسی کی باتوں میں ہوتی ہے۔ «وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثاً» [4-النساء: 87]‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہوگا «وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلاً» [4-النساء: 122]‏‏‏‏ اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے زیادہ سچا ہو۔ «فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ ۚ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» [التوبہ-۱۱۱]‏‏‏‏ جس نے اس خرید و فروخت کو پورا کیا اس کے لیے خوشی ہے اور مبارکباد ہے، وہ کامیاب ہے اور جنتوں کی ابدی نعمتوں کا مالک ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ سچی خبر دیتا ہے۔ ایک عظیم بیع اور ایک بہت بڑے معاوضے کا سچا وعدہ کرتا ہے اور وہ بیع یہ ہے ﴿ اشْتَرٰى اس نے خرید لیا۔ یعنی اللہ نے بنفس نفیس خرید لیا ﴿ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ مومنوں سے ان کے جانوں اور ان کے مالوں کو یعنی ان کی جان اور ان کے مال کی قیمت لگا دی گئی ہے اور یہ فروخت شدہ مال تجارت ہے۔ ﴿ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ اس کے بدلے میں ان کے لیے (وہ) جنت ہے جس میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی نفس خواہش کریں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی انواع و اقسام کی لذتیں، فرحتیں، مسرتیں، خوبصورت حوریں اور دلکش مکانات ہوں گے۔
اس عقد و بیع کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر، اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد میں، اس کے کلمہ کو سربلند کرنے اور اس کے دین کو غالب کرنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کرتے ہیں۔ ﴿ یُقَاتِلُوْنَؔ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَؔ وَیُقْتَلُوْنَؔ وہ لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں، پس مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں یہ عقد و بیع بہت سی تاکیدات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی ہے ﴿ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْ٘قُ٘رْاٰنِ وعدہ ہو چکا ہے اس کے ذمے سچا تورات میں، انجیل میں اور قرآن میں۔ جو ان تمام کتابوں میں سب سے افضل و اعلیٰ کتاب ہے اور یہ کتابیں سب سے کامل کتابیں ہیں جو اس دنیا میں بھیجی گئیں اور ان کتابوں کو لانے والے سب سے کامل اور اولوالعزم رسول ہیں، یہ تمام کتابیں اس سچے وعدے پر متفق ہیں۔
﴿ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا۠ اور کون ہے اللہ سے زیادہ قول کا پورا، پس خوشی کرو۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر قائم رہنے والے مومنو! ﴿ بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ اس سودے پر جو تم نے اس سے کیا ہے تاکہ تم اس کا عزم کر لو تاکہ تم ایک دوسرے کو خوشخبری دو اور ایک دوسرے کو جہاد کی ترغیب دو ﴿ وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ جس سے بڑی اور جلیل القدر اور کوئی کامیابی نہیں کیونکہ یہ کامیابی ابدی سعادت، دائمی نعمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے، کو متضمن ہے۔
اگر آپ اس معاہدۂ بیع کی قدر و منزلت کو جاننا چاہیں تو خریدار کی طرف دیکھیں کہ وہ کون ہے؟ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات گرامی ہے اور اس عوض کی طرف نظر کریں جو سب سے بڑا معاوضہ ہے اور اس معاوضے میں سب سے جلیل القدر چیز جنت ہے اور اس قیمت پر غور کریں جو اس معاوضے کے بدلے میں خرچ کی گئی ہے اور وہ ہے جان اور مال جو انسان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب چیز ہے اور اس ہستی کی طرف دیکھیں جس کے ہاتھ پر یہ معاہدۂ بیع منعقد ہوا ہے، وہ تمام رسولوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہستی ہے۔ یہ معاہدہ کون سی کتابوں میں رقم کیا گیا ہے... اللہ تعالیٰ کی عظیم کتابوں میں یہ معاہدہ تحریر کیا گیا ہے جو مخلوق میں سب سے افضل ہستیوں پر نازل کی گئی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى خبراً صدقاً ويعدُ وعداً حقًّا بمبايعةٍ عظيمةٍ ومعاوضةٍ جسيمةٍ، وهو أنه {اشترى}: بنفسه الكريمة {من المؤمنين أنفسهم وأموالهم}: فهي الثَّمن والسلعة المَبيعة، {بأنَّ لهم الجنة}: التي فيها ما تشتهيه الأنفس وتَلَذُّ الأعين من أنواع اللَّذَّات والأفراح والمسرَّات والحور الحسان والمنازل الأنيقات، وصفة العقد والمبايعة بأن يبذُلوا لله نفوسَهم وأموالَهم في جهاد أعدائه؛ لإعلاء كلمتِهِ وإظهار دينه. فيقاتلون {في سبيل الله فيَقْتُلون ويُقْتَلونَ}: فهذا العقد والمبايعة قد صدرت من الله مؤكَّدة بأنواع التأكيدات. {وعداً عليه حقًّا في التوراة والإنجيل والقرآن}: التي هي أشرفُ الكتب التي طرقَتِ العالم وأعلاها وأكملها، وجاء بها أكملُ الرسل أولو العزم، وكلُّها اتَّفقت على هذا الوعد الصادق. {ومن أوفى بعهدِهِ من الله فاستَبْشِروا}: أيُّها المؤمنون، القائمون بما وعدكم الله {ببيعِكُمُ الذي بايَعْتُم به}؛ أي: لتفرحوا بذلك وليبشِّر بعضُكم بعضاً ويحثَّ بعضُكم بعضاً. {وذلك هو الفوز العظيم}: الذي لا فوز أكبرُ منه ولا أجلُّ؛ لأنه يتضمَّن السعادةَ الأبديَّة والنعيم المقيم، والرِّضا من الله الذي هو أكبر من نعيم الجنات.

وإذا أردت أن تعرف مقدار الصفقة؛ فانظُرْ إلى المشتري؛ مَنْ هو؟ وهو الله جلَّ جلاله، وإلى العِوَضِ، وهو أكبر الأعواض وأجلُّها؛ جنات النعيم، وإلى الثمن المبذول فيها، وهو النفس والمال، الذي هو أحبُّ الأشياء للإنسان، وإلى مَن جرى على يديه عقدُ هذا التبايُع، وهو أشرف الرسل، وبأيِّ كتاب رُقِمَ؟ وهي كتب الله الكبار المنزلة على أفضل الخلق.