تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مجاہدین ایران میں جہاد کے لیے گئے تو کسریٰ کے جرنیل نے مسلمانوں کے سفیر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم لوگ کیا ہو؟“ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کا تعارف کرانے کے بعد فرمایا: ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے رب کا پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو قتل کر دیا جائے گا وہ جنت کی ایسی نعمتوں میں جائے گا جو کبھی کسی کے دیکھنے میں نہیں آئیں اور جو ہم میں سے باقی رہے گا وہ تمھاری گردنوں کا مالک بنے گا۔“ [بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ …: ۳۱۵۹] جہاد کے بے شمار فضائل کے لیے کتب احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
➋ {وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ:} اس میں حصر کے لیے {” هُوَ “} ضمیر لا کر اور خبر {” الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ “} پر الف لام لا کر واضح فرمایا کہ فوزِ عظیم ہے تو بس یہ ہے، اس کے سوا کوئی کامیابی عظیم نہیں، بلکہ معمولی اور بے وقعت ہے۔
➌ حسن بصری رحمہ اللہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھیے، جانیں ہیں تو اسی نے دیں، اموال ہیں تو اس نے عطا فرمائے، پھر وہ ہم ہی سے سودا کر رہا ہے کہ ہم اس کے راستے میں خرچ کریں گے اور وہ ہمیں اس کے بدلے جنت میں داخل ہی نہیں کرے گا بلکہ وہ اسے ہماری ملکیت بنا دے گا۔ {” لَهُمُ “} پہلے آنے سے حصر کا معنی حاصل ہوا {” بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ “} کہ جنت انھی کی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى خبراً صدقاً ويعدُ وعداً حقًّا بمبايعةٍ عظيمةٍ ومعاوضةٍ جسيمةٍ، وهو أنه {اشترى}: بنفسه الكريمة {من المؤمنين أنفسهم وأموالهم}: فهي الثَّمن والسلعة المَبيعة، {بأنَّ لهم الجنة}: التي فيها ما تشتهيه الأنفس وتَلَذُّ الأعين من أنواع اللَّذَّات والأفراح والمسرَّات والحور الحسان والمنازل الأنيقات، وصفة العقد والمبايعة بأن يبذُلوا لله نفوسَهم وأموالَهم في جهاد أعدائه؛ لإعلاء كلمتِهِ وإظهار دينه. فيقاتلون {في سبيل الله فيَقْتُلون ويُقْتَلونَ}: فهذا العقد والمبايعة قد صدرت من الله مؤكَّدة بأنواع التأكيدات. {وعداً عليه حقًّا في التوراة والإنجيل والقرآن}: التي هي أشرفُ الكتب التي طرقَتِ العالم وأعلاها وأكملها، وجاء بها أكملُ الرسل أولو العزم، وكلُّها اتَّفقت على هذا الوعد الصادق. {ومن أوفى بعهدِهِ من الله فاستَبْشِروا}: أيُّها المؤمنون، القائمون بما وعدكم الله {ببيعِكُمُ الذي بايَعْتُم به}؛ أي: لتفرحوا بذلك وليبشِّر بعضُكم بعضاً ويحثَّ بعضُكم بعضاً. {وذلك هو الفوز العظيم}: الذي لا فوز أكبرُ منه ولا أجلُّ؛ لأنه يتضمَّن السعادةَ الأبديَّة والنعيم المقيم، والرِّضا من الله الذي هو أكبر من نعيم الجنات.
وإذا أردت أن تعرف مقدار الصفقة؛ فانظُرْ إلى المشتري؛ مَنْ هو؟ وهو الله جلَّ جلاله، وإلى العِوَضِ، وهو أكبر الأعواض وأجلُّها؛ جنات النعيم، وإلى الثمن المبذول فيها، وهو النفس والمال، الذي هو أحبُّ الأشياء للإنسان، وإلى مَن جرى على يديه عقدُ هذا التبايُع، وهو أشرف الرسل، وبأيِّ كتاب رُقِمَ؟ وهي كتب الله الكبار المنزلة على أفضل الخلق.