ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 110

لَا یَزَالُ بُنۡیَانُہُمُ الَّذِیۡ بَنَوۡا رِیۡبَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَقَطَّعَ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۱۰﴾٪
ان کی عمارت جو انھوں نے بنائی، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے چینی کا باعث بنی رہے گی، مگر اس صورت میں کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہو جائیں اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
En
ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں شک کی بنیاد پر (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گی، ہاں مگر ان کے دل ہی اگر پاش پاش ہوجائیں تو خیر، اور اللہ تعالیٰ بڑا علم واﻻ بڑی حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 110) {لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِيْ بَنَوْا رِيْبَةً …: رِيْبَةً } بے چینی، جیسا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلصِّدْقُ طُمَانِيْنَةٌ وَالْكِذْبُ رِيْبَةٌ] [أحمد: 200/1، ح: ۱۷۲۸۔ ترمذی: ۲۵۱۸، و صححہ الألبانی] سچ اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ بے چینی کا باعث ہے۔ یعنی یہ مسجد ضرار گرائے جانے کے بعد اس کے بنانے والوں کے دلوں کو بے چین رکھے گی کہ ہمارا نفاق و کفر ظاہر ہو گیا، اب کوئی مسلمان ہمیں دل سے اپنا سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو گا، ان کی یہ حالت موت تک ایسے ہی رہے گی۔ «{ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ کا یہی معنی ہے، نہ ان کا دل نفاق سے پاک ہو گا نہ انھیں اطمینان نصیب ہو گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

110۔ 1 دل پاش پاش ہوجائیں، کا مطلب موت سے ہمکنار ہونا ہے۔ یعنی موت تک یہ عمارت ان کے دلوں میں مذید شک و نفاق پیدا کرنے کا ذریعہ بنی رہے گی، جس طرح کہ بچھڑے کے پجاریوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

110۔ یہ عمارت (مسجد ضرار) جو ان لوگوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی، الا یہ کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ [123] ہو جائیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
[123] گو یہ عمارت گرائی جا چکی ہے مگر ان منافقوں کے دلوں میں نفاق کا روگ اس قدر جڑ پکڑ چکا ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہو سکے گا۔ الا یہ کہ ان کے دلوں کے اندر اتنے چھید ہو جائیں کہ جڑ پکڑنے کی گنجائش ہی نہ رہے۔ دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے مراد ان کا مر جانا ہے یعنی مرتے دم تک نفاق ان کے دلوں سے نکل نہیں سکتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے مسجد کی بنیاد تقویٰ اور رضائے الہٰی پر رکھی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے مسجد ضرار اور مسجد کفر بنائی اور مومنین میں تفریق ڈال دی اور اللہ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لئے اس کو جائے پناہ قرار دیا، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے تو اس مسجد ضرار کی بنیاد گویا ایک گڑھے کے ڈھلتے ہوئے کنارے پر رکھی جو اسے جہنم کی آگ میں لے گری۔ اور حدود سے تجاوز کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتا۔ یعنی مفسدین کے عمل کو اصلاح پزیر نہیں بناتا۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسجد ضرار کو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسبِ فرمان جب اس میں آگ لگا دی گئی تو اس میں دھواں نکل رہا تھا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا کہ بعض لوگوں نے ایک جگہ گڑھا کھودا تو اس میں سے دھواں نکلتا ہوا پایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17262:ضعیف]‏‏‏‏
قتادہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ خلف بن یاسین کوفی کہتے ہیں کہ میں نے منافقین کی اس مسجد کو دیکھا کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے، یہ دیکھا کہ اس میں ایک سوراخ ہے جس میں سے دھواں نکل رہا ہے اور آج کے روز وہ جگہ گندگی پھینکنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17264:ضعیف]‏‏‏‏ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کو روایت کیا، اور قولہ تعالیٰ «لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ» [9-التوبة:110]‏‏‏‏ یعنی ان کی بنائی ہوئی یہ عمارت تو ہمیشہ ان کے دلوں میں شک و شبہ کی باعث ہی رہے گی اور اس عمل شنیع کا اقدام کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں نفاق کا بیج بوتی رہے گی، جیسا کہ گوسالہ پرستوں کے دل میں گوسالہ کی محبت پڑی ہوئی تھی «إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ» البتہ اس صورت میں ان منافقین کی بیخ کنی ہو سکتی ہے جب کہ اس مسجد ہی کو ختم کر کے ان کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ اللہ اپنے بندوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے اور خیر و شر کا بدلہ دینے میں بڑا حکیم ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انھوں نے بنائی، ان کے دلوں میں شبہ یعنی شک اور ریب، جو ان کے دل میں جڑ پکڑ گیا ﴿ اِلَّاۤ اَنْ تَ٘قَ٘طَّ٘عَ قُلُوْبُهُمْ مگر یہ کہ ٹکڑے ہو جائیں ان کے دل کے سوائے اس کے کہ انتہائی ندامت کی بنا پر ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں، وہ اپنے رب کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈریں، تب اس بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا۔ ورنہ یہ مسجد جو انھوں نے بنائی ہے ان کے شک و ریب اور نفاق میں اضافہ کرتی چلی جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کے ظاہر و باطن اور ان کے خفی اور جلی تمام پہلوؤں کو جانتا ہے، نیز وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو بندے چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں۔ ﴿ حَكِیْمٌ وہ صرف وہی کام کرتا ہے یا تخلیق کرتا ہے یا وہ حکم دیتا ہے یا منع کرتا ہے، جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے۔ فللہ الحمد۔
ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:
(۱) کوئی ایسی مسجد تعمیر کرنا جس سے کسی دوسری مسجد کو نقصان پہنچانا مقصود ہو جو اس کے قریب موجود ہو، حرام ہے، نیز یہ کہ مسجد ضرار کو، جس کو تعمیر کرنے والوں کا مقصد ظاہر ہو... منہدم کرنا واجب ہے۔
(۲) کام خواہ کتنا ہی فضیلت والا کیوں نہ ہو، فاسد نیت اس کی نوعیت کو بدل ڈالتی ہے تب وہی کام ممنوع ہو جاتا ہے، جیسے مسجد ضرار کی تعمیر کرنے والوں کی بری نیت نے ان کے اس نیک کام کو برائی میں بدل ڈالا۔
(۳) ہر وہ حالت جس کے ذریعے سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا کیا جائے، گناہ شمار ہوتی ہے اس کو ترک کرنا اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ اسی طرح ہر وہ حالت جس سے اہل ایمان میں اتفاق اور الفت پیدا ہوتی ہے، اس کی پیروی کرنا، اس کا حکم اور اس کی ترغیب دینا ضروری ہے کیونکہ ان کے مسجد ضرار تعمیر کرنے کی یہ علت بیان کی ہے کہ یہ ان کا فاسد مقصد تھا جو اس مسجد کے ممنوع ہونے کا موجب بنا، جیسے یہ مسجد کفر اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کی موجب ہے۔
(۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے معصیت کے مقامات میں نماز پڑھنے اور ان کے قریب جانے سے روکا ہے۔
(۵) گناہ زمین کے ٹکڑوں کو متاثر کرتے ہیں جیسے ان منافقین کے گناہ مسجد ضرار پر اثر انداز ہوئے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح نیکی زمین کے ٹکڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسے مسجد قبا پر اثر انداز ہوئی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کے بارے میں فرمایا: ﴿ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ بنا بریں مسجد قبا کو وہ فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسری مسجد کو حاصل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے مسجد قبا کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے اور اس میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔
(۶) آیات کریمہ میں مندرجہ بالا تعلیل سے چار اہم شرعی قاعدے بھی مستفاد ہوتے ہیں۔
(الف)ہر وہ کام جس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچتا ہو یا جس میں اللہ کی نافرمانی ہو... اور نافرمانی کفر کی ایک شاخ ہے... یا جس سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا ہوتا ہو یا اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عداوت رکھنے والے کی اعانت ہوتی ہو تو یہ کام ممنوع اور حرام ہے۔ اس کے برعکس اور متضاد تمام کام مستحب ہیں۔
(ب)چونکہ مسجد قبا وہ مسجد ہے جس کی اساس تقویٰ پر رکھی گئی ہے (اس کی یہ فضیلت ہے) اس لیے مسجد نبوی جس کی بنیاد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے رکھی، آپ نے اس میں کام بھی کیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس مسجد کو آپ کے لیے چن لیا... وہ فضیلت میں زیادہ اولیٰ ہے۔
(ج) وہ عمل جو اخلاص اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے گا۔
(د) وہ عمل جو برے مقصد اور بدعت و ضلالت پر مبنی ہے یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو جہنم میں لے گرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کی راہ نمائی نہیں کرتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا يزالُ بنيانُهم الذي بَنَوْا رِيبةً في قلوبِهِم}؛ أي: شكًّا وريباً ماكثاً في قلوبهم، {إلَّا أن تَقَطَّعَ قلوبُهم}: بأن يندموا غاية الندم، ويتوبوا إلى ربِّهم، ويخافوه غاية الخوف؛ فبذلك يعفو الله عنهم، وإلاَّ؛ فبنيانُهم لا يزيدهم إلا ريباً إلى ريبهم، ونفاقاً إلى نفاقهم. {والله عليمٌ}: بجميع الأشياء؛ ظاهرها وباطنها، خفيِّها وجليِّها، وبما أسرَّه العباد وأعلنوه، {حكيمٌ}: لا يفعل ولا يخلُقُ ولا يأمر ولا ينهى إلاَّ ما اقتضته الحكمة وأمر به؛ فلله الحمد.

وفي هذه الآيات عدة فوائد:

منها: أنَّ اتِّخاذ المسجد الذي يقصد به الضِّرار لمسجدٍ آخر بقربه أنه محرَّم، وأنه يجب هدمُ مسجد الضرار الذي اطُّلع على مقصود أصحابه.

ومنها: أن العمل، وإن كان فاضلاً، تغيِّره النية، فينقلب منهيًّا عنه؛ كما قَلَبَتْ نيةُ أصحاب مسجد الضرار عملَهم إلى ما ترى.

ومنها: أنَّ كل حالة يحصُلُ بها التفريق بين المؤمنين؛ فإنها من المعاصي التي يتعيَّن تركُها وإزالتها؛ كما أنَّ كل حالة يحصُلُ بها جمع المؤمنين وائتلافهم يتعيَّن اتِّباعها والأمرُ بها والحثُّ عليها؛ لأنَّ الله علَّل اتِّخاذهم لمسجد الضرار بهذا المقصد الموجب للنهي عنه كما يوجب ذلك الكفر والمحاربة لله ورسوله.

ومنها: النهي عن الصلاة في أماكن المعصية والبعد عنها وعن قربها.

ومنها: أن المعصية تؤثر في البقاع كما أثرت معصية المنافقين في مسجد الضرار ونُهي عن القيام فيه، وكذلك الطاعة تؤثر في الأماكن كما أثرت في مسجد قُباء، حتى قال الله فيه: {لَمَسْجِدٌ أسِّس على التقوى من أول يوم أحقُّ أن تقومَ فيه}: ولهذا كان لمسجد قباء من الفضل ما ليس لغيره، حتى كان - صلى الله عليه وسلم - يزور قُباء كلَّ سبتٍ يصلي فيه ، وحثَّ على الصلاة فيه.

ومنها: أنه يُستفادُ من هذه التعاليل المذكورة في الآية أربعُ قواعدَ مهمَّة، وهي: كل عمل فيه مضارَّة لمسلم، أو فيه معصيةٌ لله؛ فإن المعاصي من فروع الكفر، أو فيه تفريقٌ بين المؤمنين، أو فيه معاونةٌ لمن عادى الله ورسوله؛ فإنه محرَّم ممنوع منه، وعكسه بعكسه.

[ومنها: أن الأعمال الحسيّة الناشئة عن معصية الله، لا تزال مبعدة لفاعلها عن الله، بمنزلة الإصرار على المعصية حتى يزيلها ويتوبَ منها توبةً تامَّةً؛ بحيث يتقطع قلبُه من الندم والحسرات].

ومنها: أنه إذا كان مسجدُ قُباء مسجداً أسِّس على التقوى؛ فمسجد النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - الذي أسَّسه بيده المباركة، وعمل فيه، واختاره الله له من باب أولى وأحرى.

ومنها: أن العمل المبنيَّ على الإخلاص والمتابعة هو العمل المؤسَّس على التَّقوى الموصل لعاملِهِ إلى جنات النعيم، والعمل المبنيَّ على سوء القصد وعلى البِدَع والضَّلال هو العمل المؤسَّس على شفا جُرُفٍ هارٍ، فانهار به في نارِ جهنَّم. والله لا يهدي القوم الظالمين.