ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطارق (86) — آیت 15

اِنَّہُمۡ یَکِیۡدُوۡنَ کَیۡدًا ﴿ۙ۱۵﴾
بے شک وہ خفیہ تدبیر کرتے ہیں، ایک خفیہ تدبیر۔ En
یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں
En
البتہ کافر داؤ گھات میں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15تا17){ اِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًا …: رُوَيْدًا } مختار الصحاح میں ہے: { فُلاَنٌ يَمْشِيْ عَلٰي رُوْدٍ بِوَزْنِ عُوْدٍ أَيْ عَلٰي مَهْلٍ وَ تَصْغِيْرُهُ رُوَيْدٌ} یعنی {رُوَيْدٌ رُوْدٌ} بروزن {عُوْدٌ} کی تصغیر ہے جس کا معنی مہلت ہے۔ گویا { رُوَيْدًا } کا معنی تھوڑی سی مہلت ہے۔ آیت میں یہ { اَمْهِلْهُمْ } کے مصدر محذوف {إِمْهَالًا} کی صفت ہے۔ یہ لوگ قیامت کو جھٹلانے اور حق کو مٹانے کے لیے خفیہ تدبیریں کر رہے ہیں اور میں خفیہ طور پر ان کے توڑ کے لیے ان سے بھی بڑی تدبیر کر رہا ہوں۔ آپ نہ ان کی مخالفت سے گھبرائیں، نہ جلد عذاب کی دعا کریں اور میرے کہنے پر انھیں تھوڑی سی مہلت دیں، آخر انھوں نے میرے ہی پاس آنا ہے، پھر میں جانوں اور یہ جانیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو دین حق لے کر آئے ہیں، اس کو ناکام کرنے کے لئے سازشیں کرتے ہیں، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا اور فریب دیتے ہیں اور منہ پر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دل میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ یہ لوگ ایک تدبیر کر رہے ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔