(آیت 22،21) {بَلْهُوَقُرْاٰنٌمَّجِيْدٌ …:} اور اگر ان کا جھٹلانا اس خیال سے ہے کہ یہ کلامِالٰہی نہیں یا اس میں شیطان کا کچھ دخل ہے تو ان کی یہ بات بھی غلط ہے، بلکہ یہ بڑی شان والا قرآن ہے، اس لوح میں سے اتارا گیا ہے جس کی فرشتوں کے ذریعے سے حفاظت کی جاتی ہے، کسی شیطان کا اس میں دخل نہیں ہو سکتا۔ اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اگر انھیں شبہ ہے تو وہ بھی اس جیسی کوئی سورت بنا کر لے آئیں، جب یہ نہیں کرسکتے تو اس کے کلامِالٰہی ہونے میں کیا شبہ رہ گیا؟ (ماخوذ از احسن التفاسیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ بلکہ یہ قرآن بلند پایہ ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿بَلْهُوَقُ٘رْاٰنٌمَّجِیْدٌ﴾”بلکہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔“ یعنی وہ نہایت وسیع اور عظیم معانی اور بہت زیادہ علم اور خیر والا ہے ﴿فِیْلَوْحٍمَّحْفُوْظٍ﴾ یعنی وہ تغیر و تبدل اور کمی بیشی سے محفوظ اور شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔ وہ لوح محفوظ میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز درج کر رکھی ہے۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی جلالت، عمدگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی رفعت شان اور قدر و منزلت پر دلالت کرتی ہے۔ وَاللہُأَعْلَمُ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{بل هو قرآنٌ مجيدٌ}؛ أي: وسيع المعاني عظيمها كثير الخير والعلم. {في لوح محفوظٍ}: من التغيير والزيادة والنقص، ومحفوظ من الشياطين، وهو اللوح المحفوظ، الذي قد أثبت الله فيه كلَّ شيء، وهذا يدلُّ على جلالة القرآن وجزالته ورفعة قدره عند الله تعالى. والله أعلم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔