(آیت 18){ وَالْقَمَرِاِذَااتَّسَقَ: ”اتَّسَقَ“} اوپر مذکور {”وَسَقَ“} سے باب افتعال ہے، جمع ہونا، یعنی چودھویں رات کا پورا چاند بن جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ اور چاند کی جب وہ ماہ کامل [13] بن جاتا ہے
[13]﴿اِتَّسَقَ﴾ کا بھی مادہ ﴿وَسَقَ﴾ ہی ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ اس چیز کے سب اجزاء مجتمع ہو گئے اور وہ مکمل ہو گئی یعنی چاند ہلال سے بڑھتا بڑھتا بدر کامل بن گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔