اور ان کے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی، اگر تو زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتا ان کے دلوں کے درمیان الفت نہ ڈالتا اور لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی۔ بے شک وہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
En
اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے
ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا ہے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے وه غالب حکمتوں واﻻ ہے
En
اس آیت کی تفسیر آیت 62 میں تا آیت 64 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
63۔ 1 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں پر جو احسانات فرمائے، ان میں سے ایک بڑے احسان کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مومنین کے ذریعے سے مدد فرمائی، وہ آپ کے دست بازو اور محافظ و معاون بن گئے۔ مومنین پر یہ احسان فرمایا کہ ان کے درمیان پہلے جو عداوت تھی، اسے محبت و الفت میں تبدیل فرما دیا، پہلے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، اب ایک دوسرے کے جانثار بن گئے، پہلے ایک دوسرے کے دلی دشمن تھے اب آپس میں رحیم و شفیق ہوگئے صدیوں پرانی باہمی عداوتوں کو اس طرح ختم کر کے، باہم پیار اور محبت پیدا کردینا یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی اور اس کی قدرت و مشیت کی کارفرمائی تھی، ورنہ یہ ایساکام تھا کہ دنیا بھر کے خزانے بھی اس پر خرچ کردیئے جاتے تب بھی یہ گوہر مقصود حاصل نہ ہوتا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا ذکر اس آیت کریمہ میں فرمایا ہے: (اِذْكُنْتُمْاَعْدَاۗءًفَاَلَّفَبَيْنَقُلُوْبِكُمْفَاَصْبَحْتُمْبِنِعْمَتِھٖٓاِخْوَانًا) 3۔ آل عمران:13) میں بھی فرمایا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی غنائم حنین کے موقع پر انصار سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا " اے جماعت انصار! کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ تم گمراہ تھے اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت نصیب فرمائی۔ تم محتاج تھے اللہ نے تمہیں میرے ذریعے سے خوش حال کردیا اور تم ایک دوسرے سے الگ الگ تھے اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں آپس میں جوڑ دیا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو بات کہتے انصار اس کے جواب میں یہی کہتے اللہ و رسولہ امن "۔ اللہ اور اس کے رسول کے احسانات اس سے کہیں زیادہ ہیں " (صحیح بخاری)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
63۔ اور ان (صحابہ کرامؓ) کے دلوں میں الفت ڈال دی۔ اگر آپ وہ سب کچھ خرچ کر ڈالتے جو اس زمین میں موجود ہے تو بھی آپ ان کے دلوں میں الفت [65] پیدا نہ کر سکتے تھے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے ان میں الفت ڈال دی کیونکہ وہ سب پر غالب اور حکمت والا ہے
[65] جانی دشمن قبائل میں الفت و محبت اللہ کی قدرت کا کرشمہ:۔
یعنی مسلمانوں کی جماعت میں تقریباً عرب کے تمام قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے اور عرب میں قبائلی نظام کی وجہ سے یہ سب ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔ بالخصوص انصار کے قبائل اوس و خزرج کی تو یہ کیفیت تھی کہ مسلمانوں کی مدینہ میں آمد سے پہلے یہ دونوں قبیلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور ایک دوسرے کا وجود ہی صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تلے ہوئے تھے۔ یہ محض اللہ ہی کا فضل و کرم ہے کہ صرف دو تین سال کے عرصہ میں ان کے دلوں میں ایسی محبت و الفت ڈال دی کہ آج وہ حقیقی بھائیوں سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے کے ہمدرد بن گئے ہیں اور ایسا عظیم الشان کارنامہ محض دنیوی اسباب سے کبھی سر انجام نہیں پا سکتا تھا۔ پھر ان سب مسلمانوں کی الفتوں کا اجتماعی مرکز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی اور یہ سب کچھ اللہ کی قدرت کا کرشمہ اور اس کی کمال حکمت کی دلیل ہے کہ اس نے باطل کی سرکوبی کے لیے مسلمانوں کو اس طرح متحد و متفق بنا دیا۔ (نیز دیکھئے۔ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 103 کا حاشیہ)
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔