ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنفال (8) — آیت 62

وَ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡۤا اَنۡ یَّخۡدَعُوۡکَ فَاِنَّ حَسۡبَکَ اللّٰہُ ؕ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَیَّدَکَ بِنَصۡرِہٖ وَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۙ۶۲﴾
اور اگر وہ ارادہ کریں کہ تجھے دھوکا دیں تو بے شک تجھے اللہ ہی کافی ہے۔ وہی ہے جس نے تجھے اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی۔ En
اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی
En
اگر وه تجھ سے دغا بازی کرنا چاہیں گے تو اللہ تجھے کافی ہے، اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں سے تیری تائید کی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 63،62){ وَ اِنْ يُّرِيْدُوْۤا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ …:} اس جملے میں پچھلی آیت کے جملے { وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ } کی مزید تفصیل و تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین دلایا کہ اگر ان کے ارادے میں فتور بھی ہے تب بھی آپ فکر نہ کریں، آپ کو اللہ تعالیٰ ہر طرح کافی ہے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ اس نے کس طرح اپنی خاص نصرت کے ساتھ آپ کو قوت بخشی، اہل ایمان ساتھی عطا کیے، ان کی باہمی عداوتیں، جو آپ کے پوری زمین کی ہر چیز خرچ کرنے پر بھی دور نہیں ہو سکتی تھیں، اس نے اپنے خاص فضل سے دور کر کے ایمان کی بدولت ان کے دلوں میں الفت و محبت ڈال دی اور انھیں یک جان کر کے آپ کی پشت پر کھڑا کر دیا۔ وہ ہر چیز پر غالب ہے، مگر اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں، وہ کمال درجے کی حکمت بھی رکھتا ہے، اس لیے تم صرف اسی پر بھروسا رکھو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ اور اگر وہ آپ کو دھوکا دینے کا ارادہ رکھتے ہوں تو آپ کے لئے اللہ کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد [64] سے اور مسلمانوں کے ذریعہ آپ کی تائید کی
[64] یہود جیسی غدار قوم سے معاہدہ اور اللہ کی مدد:۔
یعنی امن کا معاہدہ کرنے والے لوگ (یہود) پہلے بھی جب کبھی عہد شکنی اور غداری کے مرتکب ہوئے تو اللہ نے خود بھی آپ کی مدد فرمائی اور بظاہر مسلمانوں کے ذریعہ سے بھی آپ کو یہ تائید حاصل ہو چکی۔ آئندہ بھی اگر کوئی معاہد قوم غداری کی نیت سے آپ سے معاہدہ کرے گی تو اللہ پھر آپ کی اسی طرح مدد فرمائے گا جس طرح پہلے کر چکا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جس قوم سے بدعہدی کا خوف ہو انہیں آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر دو ٭٭
فرمان ہے کہ ’ جب کسی قوم کی خیانت کا خوف ہو تو برابری سے آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر ڈالو، لڑائی کی اطلاع کر دو۔ اس کے بعد اگر وہ لڑائی پر آمادگی ظاہر کریں تو اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کر دو اور اگر وہ پھر صلح پر آمادہ ہو جائیں تو تم پھر صلح و صفائی کر لو۔ ‘
اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کر لی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عنقریب اختلاف ہو گا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کر لینا۔ } ۱؎ [مسند احمد:90/1:ضعیف]‏‏‏‏
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے میں اتری ہے لیکن یہ محل نظر میں ہے سارا قصہ بدر کا ہے۔ بہت سے بزرگوں کا خیال ہے کہ سورۃ براۃ کی آیت سے «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ» ۱؎ [9-التوبہ: 29]‏‏‏‏ سے منسوخ ہے کہ لیکن اس میں بھی نظر ہے کیونکہ اس آیت میں جہاد کا حکم طاقت و استطاعت پر ہے لیکن دشموں کی زیادتی کے وقت ان سے صلح کر لینا بلا شک و شبہ جائز ہے جیسے کہ اس آیت میں ہے اور جیسے کہ حدیبیہ کی صلح اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کی۔
پس اس کے بارے میں کوئی نص اس کے خلاف یا خصوصیت یا منسوخیت کی نہیں آئی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے ’ اللہ پر بھروسہ رکھ وہی تجھے کافی ہے وہی تیرا مددگار ہے۔ اگر یہ دھوکہ بازی کر کے کوئی فریب دینا چاہتے ہیں اور اس درمیان میں اپنی شان و شوکت اور آلات جنگ بڑھانا چاہتے ہیں تو تو بے فکر رہ اللہ تیرا طرف دار ہے اور تجھے کافی ہے اس کے مقابلے کا کوئی نہیں۔ ‘
پھر اپنی ایک اعلیٰ نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ مہاجرین و انصار سے صرف اپنے فضل سے تیری تائید کی۔‘
’ انہیں تجھ پر ایمان لانے تیری اطاعت کرنے کی توفیق دی۔ تیری مدد اور تیری نصرت پر انہیں آمادہ کیا۔ اگرچہ آپ روئے زمین کے تمام خزانے خرچ کر ڈالتے لیکن ان میں وہ الفت وہ محبت پیدا نہ کر سکتے جو اللہ نے خود کر دی۔ ان کی صدیوں پرانی عداوتیں دور کر دیں اور اوس و خزرج انصار کے دونوں قبیلوں میں جاہلیت میں آپس میں خوب تلوار چلا کرتی تھی۔ نور ایمان نے اس عداوت کو محبت سے بدل دیا۔‘
جیسے قرآن کا بیان ہے کہ «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ» ۱؎ [3-آل عمران: 103]‏‏‏‏ ’ اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم آپس میں اپنے دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل ملادئیے اور اپنے فضل سے تمہیں بھائی بھائی بنا دیا تم جہنم کے کنارے تک پہنچ گئے تھے لیکن اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت کے لیے اسی طرح اپنی باتیں بیان فرماتا ہے۔‘
بخاری و مسلم میں ہے کہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ { اے انصاریو کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں پاکر اللہ کی عنایت سے تمہیں راہ راست نہیں دکھائی؟ کیا تم فقیر نہ تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے امیر کر دیا جدا جدا تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہارے دل ملا دیئے۔} آپ کی ہر بات پر انصار کہتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے بھی زیادہ احسان ہم پر ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4330]‏‏‏‏
الغرض اپنے اس انعام و اکرام کو بیان فرما کر اپنی عزت و حکمت کا اظہار کیا کہ ’ وہ بلند جناب ہے اس سے اُمید رکھنے والا نا اُمید نہیں رہتا اس پر توکل کرنے والا سرسبز رہتا ہے اور اپنے کاموں میں اپنے حکموں میں حکیم ہے۔‘
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے قرابت داری کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے۔ جناب باری سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ اگر روئے زمین کے خزانے بھی ختم کر دیتا تو تیرے بس میں نہ تھا کہ ان کے دل ملا دے۔‘
شاعر کہتا ہے «‏‏‏‏إِذَا مَتَّ ذُو الْقُرْبَى إِلَيْكَ بِرَحِمِهِ فَغَشَّكَ وَاسْتَغْنَى فَلَيْسَ بِذِي رَحِمِ وَلَكِنَّ ذَا الْقُرْبَى الَّذِي إِنْ دَعَوْتَهُ» تجھ سے دھوکا کرنے والا تجھ سے بےپرواہی برتنے والا تیرا رشتے دار نہیں بلکہ تیرا حقیقی رشتے دار وہ ہے جو تیری آواز پر لبیک کہے اور تیرے دشمنوں کی سرکوبی میں تیرا ساتھ دے۔
اور شاعر کہتا ہے «وَلَقَدْ صَحِبْتُ النَّاسَ ثُمَّ سَبَرْتُهُمْ وَبَلَوْتُ مَا وَصَلُوا مِنَ الأَسْبَابِ فَإِذَا الْقَرَابَةُ لا تُقَرِّبُ قَاطِعًا وَإِذَا الْمَوَدَّةُ أَقْرَبُ الأَنْسَابِ» میں نے تو خوب مل جل کر آزما کر دیکھ لیا کہ قرابت داری سے بھی بڑھ کر دلوں کا میل جول ہے۔
امام بیہقی فرماتے ہیں میں نہ جان سکا کہ یہ سب قول سیدنا ابن عباسرضی اللہ عنہ کا ہے یا ان سے نیچے کے راویوں میں سے کسی کا ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی یہ محبت راہ حق میں تھی توحید و سنت کی بنا پر تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں احسان کی بھی ناشکری کر دی جاتی ہے لیکن جب اللہ کی جانب سے دل ملا دیئے جاتے ہیں انہیں کوئی جدا نہیں کر سکتا ہے پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت فرمائی۔
عبدہ بن ابی لبابہ فرماتے ہیں میری مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ کر کے فرمایا کہ جب دو شخص اللہ کی راہ میں محبت رکھنے والے آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے خندہ پیشانی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے۔ میں نے کہا یہ کام تو بہت آسان ہے فرمایا یہ نہ کہو یہی الفت وہ ہے جس کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ’ اگر روئے زمین کے خزانے خرچ کر دے تو بھی یہ تیرے بس کی بات نہیں کہ دلوں میں الفت ومحبت پیدا کر دے۔‘
ان کے اس فرمان سے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ مجھ سے بہت زیادہ سمجھ دار ہیں۔ ولید بن ابی مغیث رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے سنا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں میں نے پوچھا صرف مصافحہ سے ہی؟ تو آپ نے فرمایا کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا؟ پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت کی۔ تو ولید رحمہ اللہ نے فرمایا تم مجھ سے بہت بڑے عالم ہو۔ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں سب سے پہلے چیز جو لوگوں میں سے اُٹھ جائے گی و الفت و محبت ہے۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے مل کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے ہوا سے۔ ان کے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں گوہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔} ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:6663،]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو .... اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکر و فریب کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے اور اس مکر و فریب کا ضرر انھی کی طرف لوٹے گا، چنانچہ فرمایا: ﴿وَاِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ کو اللہ کافی ہے یعنی آپ کو جو ایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلَّفَ بَیْنَ قُ٘لُوْبِهِمْ اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے، ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔ ﴿ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا اگر آپ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لیے خرچ کر دیتے۔ ﴿ مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُ٘لُوْبِهِمْ پھر بھی آپ ان کے دلوں کو کبھی جوڑ نہ سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی دلوں کو بدلنے پر قادر نہیں۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ لیکن اللہ نے الفت ڈال دی ان میں، بے شک وہ غالب ہے حکمت والا یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں الفت ڈال دی اور ان کے افتراق اور تفرقہ کے بعد ان کو اکٹھا اور متحد کر دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءًؔ فَاَلَّفَ بَیْنَ قُ٘لُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَؔكُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْؔقَذَكُمْ مِّنْهَا (آل عمران: 3؍103) اور اللہ کی نعمت کو، جو تم پر ہوئی یاد کرو، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی ہوگئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، پس اللہ نے تمھیں اس سے بچا لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولا يُخاف من السلم إلا خَصْلة واحدة، وهي أن يكون الكفار قصدهم بذلك خَدْع المسلمين وانتهاز الفرصة فيهم، فأخبرهم الله أنَّه حسبُهم وكافيهم خداعهم، وأنَّ ذلك يعود عليهم ضرره، فقال: {وإن يريدوا أن يَخْدَعوك فإنَّ حسبَك الله}؛ أي: كافيك ما يؤذيك، وهو القائم بمصالحك ومهمَّاتك؛ فقد سبق لك من كفايته لك ونصره ما يطمئنُّ به قلبك، فَلَهُوَ {الذي أيَّدك بنصره وبالمؤمنين}؛ أي: أعانك بمعونة سماويَّة، وهو النصر منه الذي لا يقاومه شيء، ومعونة بالمؤمنين بأن قيَّضهم لنصرك، {وألَّف بين قلوبهم}: فاجتمعوا، وائتلفوا، وازدادت قوَّتهم بسبب اجتماعهم، ولم يكن هذا بسعي أحدٍ، ولا بقوَّة غير قوَّة الله، فلو {أنفقت ما في الأرض جميعاً}: من ذهبٍ وفضة وغيرهما لتأليفهم بعد تلك النفرة والفرقة الشديدة، {ما ألَّفْتَ بين قلوبهم}: لأنه لا يقدر على تقليب القلوب إلا الله تعالى. {ولكنَّ الله ألَّف بينهم إنَّه عزيزٌ حكيمٌ}: ومن عزَّته أن ألَّف بين قلوبهم وجمعها بعد الفرقة؛ كما قال تعالى: {واذكُروا نعمة الله عليكم إذ كنتُم أعداءً فألَّفَ بين قلوبِكُم فأصبحتُم بنعمتِهِ إخواناً وكنتُم على شفا حُفْرَةٍ من النار فأنقذكم منها}.