تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کر لی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عنقریب اختلاف ہو گا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کر لینا۔ } ۱؎ [مسند احمد:90/1:ضعیف]
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے میں اتری ہے لیکن یہ محل نظر میں ہے سارا قصہ بدر کا ہے۔ بہت سے بزرگوں کا خیال ہے کہ سورۃ براۃ کی آیت سے «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ» ۱؎ [9-التوبہ: 29] سے منسوخ ہے کہ لیکن اس میں بھی نظر ہے کیونکہ اس آیت میں جہاد کا حکم طاقت و استطاعت پر ہے لیکن دشموں کی زیادتی کے وقت ان سے صلح کر لینا بلا شک و شبہ جائز ہے جیسے کہ اس آیت میں ہے اور جیسے کہ حدیبیہ کی صلح اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کی۔
پس اس کے بارے میں کوئی نص اس کے خلاف یا خصوصیت یا منسوخیت کی نہیں آئی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے ’ اللہ پر بھروسہ رکھ وہی تجھے کافی ہے وہی تیرا مددگار ہے۔ اگر یہ دھوکہ بازی کر کے کوئی فریب دینا چاہتے ہیں اور اس درمیان میں اپنی شان و شوکت اور آلات جنگ بڑھانا چاہتے ہیں تو تو بے فکر رہ اللہ تیرا طرف دار ہے اور تجھے کافی ہے اس کے مقابلے کا کوئی نہیں۔ ‘
پھر اپنی ایک اعلیٰ نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ مہاجرین و انصار سے صرف اپنے فضل سے تیری تائید کی۔‘
جیسے قرآن کا بیان ہے کہ «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ» ۱؎ [3-آل عمران: 103] ’ اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم آپس میں اپنے دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل ملادئیے اور اپنے فضل سے تمہیں بھائی بھائی بنا دیا تم جہنم کے کنارے تک پہنچ گئے تھے لیکن اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت کے لیے اسی طرح اپنی باتیں بیان فرماتا ہے۔‘
بخاری و مسلم میں ہے کہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ { اے انصاریو کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں پاکر اللہ کی عنایت سے تمہیں راہ راست نہیں دکھائی؟ کیا تم فقیر نہ تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے امیر کر دیا جدا جدا تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہارے دل ملا دیئے۔} آپ کی ہر بات پر انصار کہتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے بھی زیادہ احسان ہم پر ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4330]
الغرض اپنے اس انعام و اکرام کو بیان فرما کر اپنی عزت و حکمت کا اظہار کیا کہ ’ وہ بلند جناب ہے اس سے اُمید رکھنے والا نا اُمید نہیں رہتا اس پر توکل کرنے والا سرسبز رہتا ہے اور اپنے کاموں میں اپنے حکموں میں حکیم ہے۔‘
شاعر کہتا ہے «إِذَا مَتَّ ذُو الْقُرْبَى إِلَيْكَ بِرَحِمِهِ فَغَشَّكَ وَاسْتَغْنَى فَلَيْسَ بِذِي رَحِمِ وَلَكِنَّ ذَا الْقُرْبَى الَّذِي إِنْ دَعَوْتَهُ» تجھ سے دھوکا کرنے والا تجھ سے بےپرواہی برتنے والا تیرا رشتے دار نہیں بلکہ تیرا حقیقی رشتے دار وہ ہے جو تیری آواز پر لبیک کہے اور تیرے دشمنوں کی سرکوبی میں تیرا ساتھ دے۔
اور شاعر کہتا ہے «وَلَقَدْ صَحِبْتُ النَّاسَ ثُمَّ سَبَرْتُهُمْ وَبَلَوْتُ مَا وَصَلُوا مِنَ الأَسْبَابِ فَإِذَا الْقَرَابَةُ لا تُقَرِّبُ قَاطِعًا وَإِذَا الْمَوَدَّةُ أَقْرَبُ الأَنْسَابِ» میں نے تو خوب مل جل کر آزما کر دیکھ لیا کہ قرابت داری سے بھی بڑھ کر دلوں کا میل جول ہے۔
امام بیہقی فرماتے ہیں میں نہ جان سکا کہ یہ سب قول سیدنا ابن عباسرضی اللہ عنہ کا ہے یا ان سے نیچے کے راویوں میں سے کسی کا ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی یہ محبت راہ حق میں تھی توحید و سنت کی بنا پر تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں احسان کی بھی ناشکری کر دی جاتی ہے لیکن جب اللہ کی جانب سے دل ملا دیئے جاتے ہیں انہیں کوئی جدا نہیں کر سکتا ہے پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت فرمائی۔
عبدہ بن ابی لبابہ فرماتے ہیں میری مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ کر کے فرمایا کہ ”جب دو شخص اللہ کی راہ میں محبت رکھنے والے آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے خندہ پیشانی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے۔“ میں نے کہا یہ کام تو بہت آسان ہے فرمایا ”یہ نہ کہو یہی الفت وہ ہے جس کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ’ اگر روئے زمین کے خزانے خرچ کر دے تو بھی یہ تیرے بس کی بات نہیں کہ دلوں میں الفت ومحبت پیدا کر دے۔‘
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے مل کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے ہوا سے۔ ان کے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں گوہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔} ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:6663،]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولا يُخاف من السلم إلا خَصْلة واحدة، وهي أن يكون الكفار قصدهم بذلك خَدْع المسلمين وانتهاز الفرصة فيهم، فأخبرهم الله أنَّه حسبُهم وكافيهم خداعهم، وأنَّ ذلك يعود عليهم ضرره، فقال: {وإن يريدوا أن يَخْدَعوك فإنَّ حسبَك الله}؛ أي: كافيك ما يؤذيك، وهو القائم بمصالحك ومهمَّاتك؛ فقد سبق لك من كفايته لك ونصره ما يطمئنُّ به قلبك، فَلَهُوَ {الذي أيَّدك بنصره وبالمؤمنين}؛ أي: أعانك بمعونة سماويَّة، وهو النصر منه الذي لا يقاومه شيء، ومعونة بالمؤمنين بأن قيَّضهم لنصرك، {وألَّف بين قلوبهم}: فاجتمعوا، وائتلفوا، وازدادت قوَّتهم بسبب اجتماعهم، ولم يكن هذا بسعي أحدٍ، ولا بقوَّة غير قوَّة الله، فلو {أنفقت ما في الأرض جميعاً}: من ذهبٍ وفضة وغيرهما لتأليفهم بعد تلك النفرة والفرقة الشديدة، {ما ألَّفْتَ بين قلوبهم}: لأنه لا يقدر على تقليب القلوب إلا الله تعالى. {ولكنَّ الله ألَّف بينهم إنَّه عزيزٌ حكيمٌ}: ومن عزَّته أن ألَّف بين قلوبهم وجمعها بعد الفرقة؛ كما قال تعالى: {واذكُروا نعمة الله عليكم إذ كنتُم أعداءً فألَّفَ بين قلوبِكُم فأصبحتُم بنعمتِهِ إخواناً وكنتُم على شفا حُفْرَةٍ من النار فأنقذكم منها}.