ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنفال (8) — آیت 49

اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ غَرَّہٰۤؤُ لَآءِ دِیۡنُہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۴۹﴾
جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں ایک بیماری تھی، کہہ رہے تھے ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکا دیا ہے۔ اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے
En
جبکہ منافق کہہ رہے تھے اور وه بھی جن کے دلوں میں روگ تھا کہ انہیں تو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے جو بھی اللہ پر بھروسہ کرے اللہ تعالیٰ بلا شک وشبہ غلبے واﻻ اور حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) ➊ { اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ:} جن کے دلوں میں بیماری سے مراد نئے مسلمان ہیں، جن کے دلوں میں شک ختم ہو کر یقین کی پوری کیفیت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہودی اور مدمقابل مشرکین بھی مراد ہو سکتے ہیں۔
➋ { غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيْنُهُمْ:} یعنی ان کے دینی جوش نے ان کو بالکل دیوانہ بنا دیا ہے، دیکھ رہے ہیں کہ ان کی تھوڑی سی تعداد ہے، کوئی سروسامان بھی نہیں ہے، حتیٰ کہ لڑنے کے لیے ایک کے سوا دوسرا گھوڑا بھی نہیں ہے، مگر چلے ہیں قریش کے مسلح اور عظیم الشان لشکر سے مقابلہ کرنے، پاگل ہی تو ہیں جو اپنی موت کو خود دعوت دے رہے ہیں۔ رسولوں اور ان کے ساتھیوں کو پاگل و دیوانہ کہنے کا یہ سلسلہ پہلے رسول سے لے کر ہمارے رسول تک چلا آیا ہے، کیونکہ کفار وہ بات سمجھ ہی نہیں سکتے جو ایمان سے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ دیکھیے سورۂ ذاریات (۵۲، ۵۳) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسلمانوں کی دلیری دیکھ کر منافق طعن کرنے لگے، اللہ نے فرمایا، یہ غرور (دھوکا کھانا) نہیں، توکل ہے۔ (موضح)
➌ { وَ مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ …:} اور جس کا بھروسا اس سب پر غالب اور کمال حکمت والے پر ہو اس کا دل یقینا مضبوط ہو گا، اس لیے مسلمان کفار کے عظیم الشان لشکر کے ساتھ مقابلے کے لیے ہر طرح سے آمادہ اور پر عزم ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49۔ 1 اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور مسلمانوں کی کامیابی کے بارے میں انہیں شک تھا، یا اس سے مراد مشرکین ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ مدینہ میں رہنے والے یہودی مراد ہوں۔ 49۔ 2 یعنی ان کی تعداد تو دیکھو اور سرو سامان جو حال ہے، وہ بھی ظاہر ہے۔ لیکن مقابلہ کرنے چلے ہیں مشرکین مکہ سے، جو تعداد میں بھی ان سے کہیں زیادہ ہیں اور ہر طرح کے سامان حرب اور وسائل سے مالا مال بھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دین نے ان کو دھوکے اور فریب میں ڈال دیا ہے۔ اور یہ موٹی سی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آرہی۔ 49۔ 3 اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان اہل دنیا کو اہل ایمان کے عزم و ثبات کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے جن کا توکل اللہ کی ذات پر ہے جو غالب ہے یعنی اپنے پر بھروسہ کرنے والوں کو وہ بےسہارا نہیں چھوڑتا اور حکیم بھی ہے اس کے ہر فعل میں حکمت بالغہ ہے جس کے ادراک سے انسانی عقلیں قاصر ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں [54] میں بیماری ہے یہ کہہ رہے تھے کہ: ”ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے“ حالانکہ اگر کوئی شخص اللہ پر بھروسہ کر لے تو اللہ یقیناً سب پر غالب اور حکمت والا ہے
[54] مجاہدین بدر کو یہودیوں اور منافقوں کا طعنہ:۔
مدینہ کے منافق اور یہودی یہ کہتے تھے کہ یہ مسلمان اپنے دینی جوش میں دیوانے ہو گئے ہیں۔ بھلا ان کی اس مٹھی بھر بے سر و سامان جماعت کا قریش جیسی زبردست طاقت سے ٹکر لینے کے لیے تیار ہو جانا دیوانگی نہیں تو کیا ہے۔ یہ لوگ پتہ نہیں کس دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ ہمیں تو اس معرکہ میں ان کی تباہی یقینی نظر آرہی ہے اور سب کچھ دیکھتے بھالتے یہ لوگ اپنی موت کو دعوت دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دیوانے مسلمان نہیں بلکہ دیوانے یہ خود ہیں جو یہ بات نہیں سمجھتے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد کرتا ہے وہ مدد کرنے پر غالب بھی ہے اور ایسے سب طریقے بھی خوب جانتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِذْ یَقُوْلُ الْ٘مُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَ٘رَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنْ یَّتَوَؔكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِیْمٌ وہ حکمت والا ہے۔ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إذ يقول المنافقون والذين في قلوبهم مرضٌ}؛ أي: شكٌّ وشبهةٌ من ضعفاء الإيمان للمؤمنين حين أقدموا مع قلَّتهم على قتال المشركين مع كثرتهم: {غرَّ هؤلاء دينُهم}؛ أي: أوردهم الدينُ الذي هم عليه هذه الموارد التي لا يدان لهم بها ولا استطاعةَ لهم بها، يقولونه احتقاراً لهم واستخفافاً لعقولهم، وهم والله الأخفاءُ عقولاً الضعفاءُ أحلاماً؛ فإنَّ الإيمان يوجبُ لصاحبه الإقدام على الأمور الهائلةِ التي لا يقدِمُ عليها الجيوش العظام؛ فإنَّ المؤمن المتوكِّل على الله الذي يعلم أنه ما من حولٍ ولا قوةٍ ولا استطاعةٍ لأحدٍ إلا بالله تعالى، وأنَّ الخلق لو اجتمعوا كلُّهم على نفع شخص بمثقال ذرَّةٍ؛ لم ينفعوه، ولو اجتمعوا على أن يضرُّوه؛ لم يضرُّوه؛ إلا بشيءٍ قد كتبه الله عليه، وعلم أنَّه على الحقِّ، وأن الله تعالى حكيمٌ رحيمٌ في كلِّ ما قدَّره وقضاه؛ فإنَّه لا يبالي بما أقدم عليه من قوَّةٍ وكثرةٍ، وكان واثقاً بربِّه مطمئن القلب لا فزعاً ولا جباناً، ولهذا قال: {ومن يتوكَّلْ على الله فإنَّ الله عزيزٌ}: لا يغالِبُ قوتَه قوةٌ. {حكيمٌ}: فيما قضاه وأجراه.