تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيْنُهُمْ:} یعنی ان کے دینی جوش نے ان کو بالکل دیوانہ بنا دیا ہے، دیکھ رہے ہیں کہ ان کی تھوڑی سی تعداد ہے، کوئی سروسامان بھی نہیں ہے، حتیٰ کہ لڑنے کے لیے ایک کے سوا دوسرا گھوڑا بھی نہیں ہے، مگر چلے ہیں قریش کے مسلح اور عظیم الشان لشکر سے مقابلہ کرنے، پاگل ہی تو ہیں جو اپنی موت کو خود دعوت دے رہے ہیں۔ رسولوں اور ان کے ساتھیوں کو پاگل و دیوانہ کہنے کا یہ سلسلہ پہلے رسول سے لے کر ہمارے رسول تک چلا آیا ہے، کیونکہ کفار وہ بات سمجھ ہی نہیں سکتے جو ایمان سے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ دیکھیے سورۂ ذاریات (۵۲، ۵۳) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مسلمانوں کی دلیری دیکھ کر منافق طعن کرنے لگے، اللہ نے فرمایا، یہ غرور (دھوکا کھانا) نہیں، توکل ہے۔“ (موضح)
➌ { وَ مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ …:} اور جس کا بھروسا اس سب پر غالب اور کمال حکمت والے پر ہو اس کا دل یقینا مضبوط ہو گا، اس لیے مسلمان کفار کے عظیم الشان لشکر کے ساتھ مقابلے کے لیے ہر طرح سے آمادہ اور پر عزم ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إذ يقول المنافقون والذين في قلوبهم مرضٌ}؛ أي: شكٌّ وشبهةٌ من ضعفاء الإيمان للمؤمنين حين أقدموا مع قلَّتهم على قتال المشركين مع كثرتهم: {غرَّ هؤلاء دينُهم}؛ أي: أوردهم الدينُ الذي هم عليه هذه الموارد التي لا يدان لهم بها ولا استطاعةَ لهم بها، يقولونه احتقاراً لهم واستخفافاً لعقولهم، وهم والله الأخفاءُ عقولاً الضعفاءُ أحلاماً؛ فإنَّ الإيمان يوجبُ لصاحبه الإقدام على الأمور الهائلةِ التي لا يقدِمُ عليها الجيوش العظام؛ فإنَّ المؤمن المتوكِّل على الله الذي يعلم أنه ما من حولٍ ولا قوةٍ ولا استطاعةٍ لأحدٍ إلا بالله تعالى، وأنَّ الخلق لو اجتمعوا كلُّهم على نفع شخص بمثقال ذرَّةٍ؛ لم ينفعوه، ولو اجتمعوا على أن يضرُّوه؛ لم يضرُّوه؛ إلا بشيءٍ قد كتبه الله عليه، وعلم أنَّه على الحقِّ، وأن الله تعالى حكيمٌ رحيمٌ في كلِّ ما قدَّره وقضاه؛ فإنَّه لا يبالي بما أقدم عليه من قوَّةٍ وكثرةٍ، وكان واثقاً بربِّه مطمئن القلب لا فزعاً ولا جباناً، ولهذا قال: {ومن يتوكَّلْ على الله فإنَّ الله عزيزٌ}: لا يغالِبُ قوتَه قوةٌ. {حكيمٌ}: فيما قضاه وأجراه.