تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
بعض مفسرین مثلاً صاحب المنار نے یہ تفسیر کی ہے کہ شیطان انسانی شکل میں نہیں آیا بلکہ یہ تمام باتیں بطور وسوسہ اس نے ان کے دلوں میں ڈالیں کہ میں تمھارا حمایتی ہوں، یعنی جن بتوں اور خداؤں کو تم پوجتے ہو وہ ہر طرح سے تمھاری حمایت اور مدد کریں گے اور اس وقت تم اتنی تعداد اور قوت میں ہو کہ تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ وہ اپنے بتوں اور خداؤں کے بھروسے پر جو درحقیقت شیطان پر بھروسا تھا اور اپنی قوت کے زعم میں شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسے پر اپنی فتح کا یقین کر بیٹھے، مگر بدر کے میدان میں لڑائی شروع ہونے کے بعد انھیں مسلمان دگنے نظر آنے لگے تو شیطان کے سارے دلائے ہوئے وسوسے اور یقین باطل ہو گئے۔ سید رشید رضا نے شیطان کے انسانی صورت میں آنے کی روایات کی صحت میں شک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ روایات ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں جو اس وقت پانچ برس کے تھے، انھوں نے کسی اور ہی سے سنی ہوں گی، مگر صحابہ کی مرسلات بھی قبول ہوتی ہیں، کیونکہ انھوں نے کسی نہ کسی صحابی ہی سے سنی ہوتی ہیں جو سب معتبر ہیں۔
ابن کثیر کی تخریج {” هداية المستنير“} میں لکھا ہے کہ ابن کثیر نے ان آیات کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کئی روایات ذکر کی ہیں جن میں سے کوئی بھی ضعف سے خالی نہیں، مگر ان کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان واقعات کا اصل ضرور ہے، اس لیے انھیں بیان کرنے میں کوئی مانع نہیں اور {” الاستيعاب في بيان الأسباب “} میں سلیم الہلالی اور محمد بن موسیٰ نے لکھا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی (یہاں مذکور) روایت حسن ہے، اس میں دو علتیں بیان کی گئی ہیں مگر ان کی کچھ حیثیت نہیں۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی کوئی وضاحت صحیح حدیث میں نہیں آئی اور یہ معاملہ غیب سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے اگرچہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ شیطان نے واقعی انسانی وجود میں آ کر انھیں یہ کہا یا محض دل میں غرور پیدا کر کے انھیں دھوکا دیا، مگر قرآن کے الفاظ {” قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ “} اور {” نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيْهِ “} سے یہی راجح نظر آتا ہے کہ وہ ظالم انسانی شکل میں آیا تھا اور شیطان کا بعض اوقات انسانی شکل میں آنا کچھ بعید نہیں، جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز میں حملہ آور ہوا تو آپ نے پکڑ کر اس کا گلا گھونٹا، مگر پھر سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد کر کے اسے چھوڑ دیا۔ [بخاری، الصلاۃ، باب الأسیر أو الغریم یربط فی المسجد: ۴۶۱] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بھی تین دن نظر آتا رہا اور وہ گرفتار کر کے اسے چھوڑ دیتے رہے، اس لیے اس اہم موقع پر خود اس کا آنا کوئی بعید نہیں ہے۔
➋ {اِنِّيْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ:} یعنی مجھے وہ فرشتے نظر آ رہے ہیں جو تمھیں نظر نہیں آ رہے۔
➌ { اِنِّيْۤ اَخَافُ اللّٰهَ:} ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے اس دن تک مہلت دی جو اللہ کے علم میں ہے۔ دیکھیے سورۂ حجر (38،37) اور سورۂ ص (81،80) قیامت تک وعدہ نہیں فرمایا اس لیے ہو سکتا ہے کہ ابلیس نے فرشتوں کو دیکھ کر یہ سمجھا ہو کہ میری مہلت کی مدت ختم ہو چکی ہے، اس لیے اس نے اللہ سے ڈرنے کا ذکرکیا، ورنہ وہ ظالم کب اللہ سے ڈرتا تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ ابوجہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہیئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہو جائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔
اللہ ان کے اعمال کا احاطہٰ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لیے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بیفکر رہو۔
«يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا» ۱؎ [4-النساء: 120] ’ شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔‘ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشرکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔
جبرائیل علیہ السلام شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16198:منقطع]
اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گر پڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بے تعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،]
ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بے فکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لیے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گر پڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،]
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکے سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آ گئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کر دیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہو جائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بے خطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔
اس نے جبرائیل علیہ السلام کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کر دیتا ہے پھر روپوش ہو جاتا ہے۔
قران فرماتا ہے «كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [59-الحشر: 16] ’ شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ ‘
اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [14-إبراهيم: 22] ’ جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔‘
انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہو جاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بے خوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کر دو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔
ابوجہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہو جاؤ، وہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گرفتار کر لیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔
یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ «إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» ۱؎ [7-الاعراف: 123] ’ یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔‘ اس نے بھی کہا تھا کہ «إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ» ۱؎ [20-طہٰ: 71] ’ جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہو جاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آ رہی ہیں۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16204:ضعیف]
رب العالمین فرماتا ہے ’ انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔‘
دشمن الٰہی ابوجہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آ کر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا۔
جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کر دیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام الحکمت سے ہوتے ہیں وہ ہرچیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذ زيَّنَ لهم الشيطان أعمالهم}: حسَّنها في قلوبهم [وخدعهم]، {وقال لا غالبَ لكمُ اليومَ من الناس}: فإنكم في عَدَدٍ وعُدَدٍ وهيئةٍ لا يقاومكم فيها محمدٌ ومن معه. {وإني جارٌ لكم}: من أن يأتيكم أحدٌ ممَّن تخشون غائلته؛ لأنَّ إبليس قد تبدَّى لقريش في صورة سراقة بن مالك بن جُعْشُم المدلجي، وكانوا يخافون من بني مدلج لعداوةٍ كانت بينهم، فقال لهم الشيطان: أنا جارٌ لكم! فاطمأنت نفوسُهم وأتوا على حَرْدٍ قادرينَ. فلما {تراءتِ الفئتان}: المسلمون والكافرون، فرأى الشيطان جبريلَ عليه السلام يَزَع الملائكة؛ خاف خوفاً شديداً، {ونكص على عقبيه}؛ أي: ولى مدبراً، {وقال}: لمن خدعهم وغرهم: {إني بريء منكم إني أرى ما لا ترون}؛ أي: أرى الملائكة الذين لا يدان لأحد بقتالهم؛ {إني أخاف الله}؛ أي: أخاف أن يعاجِلَني بالعقوبة في الدنيا، {والله شديد العقاب}.
ومن المحتمل أن يكون الشيطان [قد] سوَّلَ لهم، ووسوس في صدورهم أنَّه لا غالبَ لهم اليوم من الناس وأنَّه جار لهم، فلما أوردهم موارِدَهم؛ نكص عنهم، وتبرَّأ منهم؛ كما قال تعالى: {كَمَثَل الشيطان إذْ قال للإنسانِ اكفُرْ فلمَّا كَفَرَ قال إنِّي بريءٌ منك إني أخافُ اللهَ ربَّ العالمين فكانَ عاقِبَتَهُما أنَّهما في النارِ خالِدَيْن فيها وذلك جزاء الظالمين}.