ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنفال (8) — آیت 41

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ اِنۡ کُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا یَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴۱﴾
اور جان لو کہ تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو تو بے شک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے، اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی، جس دن دو جماعتیں مقابل ہوئیں اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ En
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
جان لو کہ تم جس قسم کی جو کچھ غنیمت حاصل کرو اس میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت داروں کا اور یتیموں اور مسکینوں کا اور مسافروں کا، اگر تم اللہ پر ایمان ﻻئے ہو اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر اس دن اتارا ہے، جو دن حق وباطل کی جدائی کا تھا جس دن دو فوجیں بھڑ گئی تھیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) ➊ {وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ:} غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے جنگ کی صورت میں حاصل ہو، اگر ان سے جنگ کے بغیر کوئی مال حاصل ہو تو اسے فے کہتے ہیں، اس کا ذکر سورۂ حشر (۶ تا ۹) میں ہے، مثلاً کفار خود ہی ہتھیار پھینک دیں، یا صلح کی صورت میں ان سے جزیہ وصول ہو، یا زمین کا خراج وغیرہ ہو۔ غنیمت اور فے بعض اوقات ایک دوسرے کے معنی میں بھی آ جاتے ہیں۔ { غَنَمٌ} کا معنی بھیڑ بکریاں ہے، جو عرب میں اکثر جنگ کے بعد غالب فریق کے قبضے میں آتی تھیں۔ بعد میں قبضے میں آنے والی ہر چیز کو غنیمت کہنے لگے۔
➋ سورت کے شروع میں انفال کو اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت قرار دیا گیا تھا، اب غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بیان ہوتا ہے۔ ایک مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے «وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ» میں لڑائی کا حکم ہے جس کے نتیجے میں عموماً مالِ غنیمت حاصل ہوتا ہے، اس لیے اب اس کے خرچ کی جگہیں بیان فرمائیں۔
➌ { مِنْ شَيْءٍ:} اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی چیز بڑی سے بڑی ہو یا چھوٹی سے چھوٹی، کوئی شخص اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق سوئی دھاگا حتیٰ کہ اونٹ کی اون کی گچھی تک جمع کروانا ہو گی، اگر رکھے گا تو یہ غلول (خیانت) شمار ہو گا، جس کی وعید سورۂ آل عمران (۱۶۱) میں ہے۔
➍ { فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ …:} مطلب یہ ہے کہ کل غنیمت کے پانچ حصے کیے جائیں گے، چار حصے ان لوگوں کو ملیں گے جنھوں نے جنگ میں شرکت کی، ان میں بھی پیادے کو ایک حصہ اور سوار کو تین حصے ملیں گے، ایک اس کا اپنا اور دو حصے گھوڑے کے اور خمس (پانچواں حصہ) ان اغراض کے لیے الگ کر لیا جائے گا جن کا آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بھی امت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر احسان ہے، ورنہ پہلی امتوں میں تو اموال غنیمت حلال ہی نہ تھے بلکہ انھیں جلا دیا جاتا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا نام بطور برکت و تمہید آیا ہے، کیونکہ سب مال اللہ ہی کا ہے۔ اصل میں خمس کے مصرف پانچ ہیں، ایک حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اور اپنی بیویوں کی ضروریات کے بعد عام مسلمانوں کی مصلحت میں خرچ کرتے تھے، مثلاً مجاہدین کے لیے اسلحہ اور سواریاں وغیرہ۔ آپ کے بعد خلیفۂ وقت جہاں مناسب سمجھے خرچ کرنے میں آپ کا جانشین ہو گا۔ خمس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے مال غنیمت میں سے کوئی ایک چیز مثلاً کوئی ہتھیار یا گھوڑا یا لونڈی اپنے لیے رکھنے کا اختیار تھا، اسے {صَفِيٌّ} کہتے ہیں۔ { وَ لِذِي الْقُرْبٰى } سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہیں، آپ کے جد اعلیٰ عبد مناف کی اولاد چار قبیلے تھے، بنو ہاشم، بنو مطلب، بنو عبد شمس اور بنو نوفل۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم میں سے تھے، مگر آپ نے { ذَوِي الْقُرْبٰي} میں سے پہلے دو قبیلوں کو خمس میں سے حصہ دیا، بعد والے دو کو نہیں دیا اور ان کے پوچھنے پر بتایا کہ بنو مطلب اسلام لانے سے پہلے بھی بنو ہاشم کے ساتھی رہے ہیں، جبکہ آخری دونوں قبیلے اس وقت مخالفت میں سر گرم رہتے تھے۔ { الْيَتٰمٰى } وہ نا بالغ بچے جن کے باپ فوت ہو چکے ہوں۔ { الْمَسٰكِيْنِ } وہ ضرورت مند جن کی آمدنی ضرورت سے کم ہو۔ { ابْنِ السَّبِيْلِ } راہ گیر مسافر۔ اس خمس کا پانچ حصوں میں تقسیم کا طریقہ کیا ہو گا؟ کیا سب کو برابر دیا جائے گا، یا حسب ضرورت خرچ کیا جائے گا؟ امام مالک اور اکثر سلف رحمہم اللہ کا خیال ہے کہ امام (خلیفۂ اسلام) کو اختیار ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت، مثلاً جہاد کی تیاری، اسلحہ کی خریداری وغیرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس طرح چاہے اسے تقسیم یا خرچ کرے۔ اسی پر خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم کا عمل رہا ہے۔ (قرطبی) نسائی کی حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کی کوہان سے دو انگلیوں میں تھوڑی سی پشم پکڑی، پھر فرمایا: میرے لیے فے (غنیمت) میں سے کچھ نہیں، حتیٰ کہ یہ (پشم) بھی نہیں، مگر پانچواں حصہ اور وہ پانچواں حصہ بھی تمھی میں لوٹایا جائے گا۔ [نسائی،أول کتاب قسم الفیٔ: ۴۱۴۴، و صححہ الألبانی] پھر ضروری نہیں کہ پانچ حصوں میں برابر تقسیم کرے، جہاں زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہو زیادہ کر سکتا ہے۔ حافظ ابن تیمیہ اور ابن کثیر رحمھما اللہ نے اس کو سب سے صحیح قول قرار دیا ہے۔
➎ {وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا:} یعنی جو فرشتے، آیات و معجزات اور نصرتِ الٰہی بدر میں اللہ تعالیٰ نے اتارے۔ { عَبْدِنَا } میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا بندہ کہہ کر خاص اعزاز بخشا، جیسا کہ «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» [بنی إسرائیل: ۱] میں اور «وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا» [البقرۃ: ۲۳] میں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا یہ اعزاز بہت عزیز تھا، آپ کی مشہور دعا ہے: [اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِيْ بِيَدِكَ] [أحمد: 391/1، ح: ۳۷۱۱، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ]
➏ {يَوْمَ الْفُرْقَانِ: الْفُرْقَانِ } واضح فیصلہ، یعنی بدر کے دن جس میں حق اور باطل کا فیصلہ ہوا، حق کو فتح ہوئی اور باطل مغلوب ہوا۔ (ابن کثیر) حق و باطل کے درمیان یہ پہلی باقاعدہ جنگ تھی جو ۱۷ رمضان بروز جمعہ (بروایت ابن جریر عن علی) واقع ہوئی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41۔ 1 غنیمت سے مراد وہ مال ہے جو کافروں سے کافروں پر لڑائی میں فتح و غلبہ حاصل ہونے کے بعد حاصل ہو پہلی امتوں میں اس کے لئے یہ طریقہ تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد کافروں سے حاصل کردہ سارا مال ایک جگہ ڈھیر کردیا جاتا اور آسمان سے آگ آتی اور اسے جلا کر بھسم کر ڈالتی۔ لیکن امت مسلمہ کے لئے یہ مال غنیمت حلال کردیا گیا۔ اور جو مال بغیر لڑائی کے صلح کے ذریعہ یا جزیہ و خراج سے وصول ہو اسے فییٔ کہا جاتا ہے تھوڑا ہو یا زیادہ، قیمتی ہو یا معمولی سب کو جمع کر کے اس کی حسب ضابطہ تقسیم کی جائے گی۔ کسی سپاہی کو اس میں سے کوئی چیز تقسیم سے قبل اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں۔ 41۔ 2 اللہ کا لفظ تو بطور تبرک کے ہے، نیز اس لئے ہے کہ ہر چیز کا اصل مالک وہی ہے اور حکم بھی اسی کا چلتا ہے، مراد اللہ اور اس کے رسول کے حصہ سے ایک ہی ہے، یعنی سارے مال غنیمت کے پانچ حصے کرکے چار حصے تو ان مجاہدین میں تقسیم کئے جائیں گے جنہوں نے جنگ میں حصہ لیا۔ ان میں پیادہ کو ایک حصہ اور سوار کو تین گنا حصہ ملے گا۔ پانچواں حصہ، جسے عربی میں خمس کہتے ہیں، کہا جاتا کہ اس کے پھر پانچ حصے کئے جائیں گے۔ ایک حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسے مفاد عامہ میں خرچ کیا جائے گا) جیسا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ حصہ مسلمانوں پر ہی خرچ فرماتے تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھی ہے ' میرا جو پانچواں حصہ ہے وہ بھی مسلمانوں کے مصالح پر ہی خرچ ہوتا ہے ' دوسرا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا، پھر یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا کہا جاتا ہے کہ یہ خمس حسب ضرورت خرچ کیا جائے۔ 41۔ 3 اس نزول سے مراد فرشتوں کا اور آیات الٰہی (معجزات وغیرہ) کا نزول ہے جو بدر میں ہوا۔ 41۔ 4 بدر کی جنگ 2 ہجری 17 رمضان المبارک کو ہوئی۔ اس دن کو یوم الفرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ کافروں اور مسلمانوں کے درمیان پہلی جنگ تھی اور مسلمانوں کو فتح و غلبہ دے کر واضح کردیا گیا کہ اسلام حق ہے اور کفر شرک باطل ہے۔ 41۔ 5 یعنی مسلمانوں اور کافروں کی فوجیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ اور جان لو کہ جو کچھ تم بطور غنیمت حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لئے، رسول کے لئے اور اس کے قرابت داروں [43] مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اس (فتح و نصرت) پر جو فیصلہ کے دن ہم نے اپنے بندے [43۔ 1] پر نازل کی تھی جبکہ دونوں لشکروں میں مقابلہ ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
[43] اللہ اور اس کے رسول کے پانچویں حصہ کی تقسیم کیسے ہو گی؟
اس آیت میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیا جا رہا ہے۔ جس سے اس سورۃ کی ابتدا ہوئی تھی۔ وہاں صرف اتنا جواب دیا گیا کہ چونکہ یہ فتح خالصتاً اللہ کی امداد کے نتیجہ میں حاصل ہوئی تھی اس لیے سب اموال زائدہ (غنیمت سمیت) اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔ لہذا تمہیں آپس کا نزاع فوری طور پر بند کر دینا چاہیئے اور تفصیلی جواب یہ ہے کہ اموال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا اور باقی 5/4 حصہ مجاہدین کا ہے۔ چنانچہ غنیمت کا مال پورے کا پورا ایک جگہ اکٹھا کیا گیا اور اس کا 5/4 حصہ جہاد میں حصہ لینے والے مجاہدین میں برابر تقسیم کر دیا گیا۔ اب جو اللہ اور اس کے رسول کا پانچواں حصہ تھا اس کے پانچ مصرف بیان فرمائے۔ تاہم ان حصوں میں کمی بیشی اور تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صوابدید پر چھوڑ دی گئی۔ اس میں جو اللہ کا حصہ ہے یعنی پانچویں کا پانچواں حصہ یہ جہاد کی ضرورتوں اور مساجد کی تعمیر اور دیکھ بھال پر خرچ ہو گا، اور رسول کا جو حصہ ہے وہ آپ کی گھریلو یا خانگی ضروریات کے لیے مقرر ہوا۔ کیونکہ دینی مصروفیات کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی دوسرا کام کاج نہ کر سکتے تھے۔ تیسرا حصہ آپ کے رشتہ داروں یعنی بنی ہاشم، یا بنو عبد مناف کا تھا اور ان میں سے جس کو مستحق سمجھتے تھے اور جتنا سمجھتے دے دیتے تھے یہ اس لیے کہ بنو ہاشم نے آڑے وقتوں میں اسلام کی بہت حد تک حمایت اور مدد کی تھی اور اس لیے بھی کہ ان لوگوں کے لیے زکوٰۃ کا مال لینا ممنوع قرار دیا گیا تھا اور چوتھا اور پانچواں مصرف محتاجوں اور مسافروں کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا حصہ ختم ہوا اور باقی صرف تین مصرف رہ گئے اور بعض کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ موجودہ امیر المومنین کو اور قرابت داروں کا حصہ خاندان نبوت کے محتاجوں کے لیے ہے۔ کیونکہ زکوٰۃ لینا ان کے لیے ممنوع ہے اور ہمارے خیال میں معاملہ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حالات میں بہت تغیر رونما ہو چکا ہے اور اسی لحاظ سے ان مسائل میں بھی شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق تبدیلی ہو گی۔ مثلاً دور نبوی میں صحابہ رضاکارانہ یا فرض سمجھ کر جہاد پر نکلتے، سواری اور ہتھیاروں کا اہتمام خود کرتے تھے جس کے عوض انہیں حصہ ملتا تھا مگر آج فوج کا محکمہ ہی الگ ہوتا ہے اور اس کی ابتدا دور فاروقی سے ہی ہو گئی تھی۔ یہ فوجی یا مجاہدین تنخواہ دار ہوتے ہیں۔ اسلحہ اور سواری کا اہتمام حکومت کے ذمہ ہوتا ہے۔ لہذا اب عام مسلمانوں پر جہاد فرض نہ رہا اور تنخواہ کی وجہ سے مجاہدین میں ایسی تقسیم کا قصہ بھی ختم ہوا۔ امیر کے حصہ کا بھی کیونکہ وہ خود سرکاری خزانہ کا تنخواہ دار ہوتا ہے اور فقراء وغیرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنا ویسے ہی ایک اسلامی حکومت کا فریضہ ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جنگوں کے طریق کار کا نقشہ یکسر بدل چکا ہے۔
بنو ہاشم کے لئے صدقات کی حرمت کے متعلق اجتہاد کی ضرورت:۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اموال غنیمت کی تقسیم میں ایسی تبدیلی کی وجہ سے بنو ہاشم کے محتاجوں کی امداد کا مسئلہ ختم ہو گیا اور صدقات بالخصوص زکوٰۃ ویسے ہی ان کے لیے ممنوع ہے تو بنو ہاشم کے محتاجوں کی امداد کی آج کیا صورت ہو سکتی ہے۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ کسی ملک میں اسلامی نظام بھی قائم نہ ہو؟ بعض علماء کے نزدیک صدقات و زکوٰۃ کی بنو ہاشم کے لیے ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ صدقات و زکوٰۃ کی تقسیم بحیثیت قائد ملت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقات اپنے خاندان کے لیے حرام قرار دیئے تھے۔ پھر بھی منافق لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقات کی تقسیم میں الزام لگاتے رہے۔ لہٰذا آج ان صدقات کی ممانعت کا حکم مسلمانوں کے امیر اور اس کے خاندان کے لیے ہو گا۔ اسی طرح جو لوگ آج کل بنو ہاشم کی اولاد یا سید کہلاتے ہیں ان کے لیے صدقات و زکوٰۃ کی حرمت بھی ختم ہو جانی چاہیے۔ لہذا ان مسائل میں اجتہاد کرنا ضروری ہے کہ موجودہ دور میں بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی اولاد دنیا کے کس کس ملک میں پائی جاتی ہے اور ان کے محتاجوں کی امداد کس ذریعہ سے ممکن ہے۔
[43۔ 1]
غزوہ بدر یوم الفرقان کیسے تھا؟
یہ یوم الفرقان اس لحاظ سے تھا کہ اس معرکہ نے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ حق کس فریق کے ساتھ ہے اور باطل پر کونسا فریق ہے اور یہ جمعۃ المبارک کا دن 17 رمضان المبارک 2 ھ تھا اور جمعہ کا دن تھا۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نازل کیا تھا؟ تو اس سے مراد بارش بھی ہو سکتی ہے اور فرشتے بھی اور تائید الٰہی کی دوسری صورتیں بھی جن میں اکثر کا ذکر گزر چکا ہے اور کچھ آگے مذکور ہیں اور سب چیزیں اور اسباب اس لیے پیدا ہو گئے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے ظاہری اور باطنی اسباب پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص نزول ملائکہ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ریت یا مٹی پھینکنے سے کافروں کے اندھا ہونے کو یا ایسے ہی دوسرے خوارق کو تسلیم نہیں کرتا یا ان کی تاویل کرتا ہے وہ اللہ پر پوری طرح ایمان نہیں رکھتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مال غنیمت کی تقسیم کا بیان ٭٭
اللہ تعالیٰ یہاں مال غنیمت کی تفصیل بیان کرتا ہے جو اس نے خاص طور پر امت کے لئے حلال کیا ہے۔ اس سے قبل تمام اگلی امتوں پر مال غنیمت حرام تھا۔ لیکن اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے اسے حلال کر دیا۔ اس کی تقسیم کی تفصیل یہاں بیان ہو رہی ہے۔ مال غنیمت وہ ہے جو مسلمانوں کو جہاد کے بعد کافروں سے ہاتھ لگے اور جو مال بغیر لڑے جنگ کے ہاتھ آئے مثلاً صلح ہو گئی اور مقررہ تاوان جنگ ان سے وصول کیا یا کوئی مر گیا اور لاوارث تھا یا جزئیے اور خراج کی رقم وغیرہ وہ فے ہے۔ سلف و خلف کی ایک جماعت کا اور امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا یہی خیال ہے۔ بعض لوگ غنیمت کا اطلاق فے پر اور فے کا اطلاق غنیمت پر بھی کرتے ہیں۔
اسی لیے قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت سورۃ الحشر کی «‏‏‏‏مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ» ۱؎ [59-الحشر: 7]‏‏‏‏ کی ناسخ ہے۔
اب مال غنیمت میں فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ آیت تو فے کے بارے میں ہے اور یہ غنیمت کے بارے میں۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ ان دونوں قسم کے مال کی تقسیم امام کی رائے پر ہے۔ پس مقررہ حشر کی آیت اور اس آیت میں کوئی اختلاف نہیں جبکہ امام کی مرضی ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
آیت میں بیان ہے کہ خمس یعنی پانچواں حصہ مال غنیمت میں سے نکال دینا چاہیئے۔ چاہے وہ کم ہو یا زیادہ ہو۔ گو سوئی ہو یا دھاگہ ہو۔ پروردگار عالم فرماتا ہے «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:161]‏‏‏‏ ’ جو خیانت کرے گا وہ اسے لے کر قیامت کے دن پیش ہو گا اور ہر ایک کو اس عمل کا پورا بدلہ ملے گا کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔‘
کہتے ہیں کہ خمس میں سے اللہ کے لیے مقرر شدہ حصہ کعبے میں داخل کیا جائے گا۔
حضرت ابوالعالیہ ریاحی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ غنیمت کے مال کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ حصے کرتے تھے۔ چار مجاہدین میں تقسیم ہوتے پانچویں میں سے آپ مٹھی بھر کر نکال لیتے اسے کعبے میں داخل کر دیتے پھر جو بچا اس کے پانچ حصے کر ڈالتے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قرابت داروں کا۔ ایک یتیموں کا ایک مسکینوں کا ایک مسافروں کا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16117]‏‏‏‏
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں اللہ کا نام صرف بطور تبرک ہے گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کے بیان کا وہ شروع ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوئی لشکر بھیجتے اور مال غنیمت کا مال ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پانچ حصے کرتے اور پھر پانچویں حصے کے پانچ حصے کر ڈالتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔
پس یہ فرمان کہ «أَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ» یہ صرف کلام کے شروع کیلئے ہے۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ پانچویں حصے میں سے پانچواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے بہت سے بزرگوں کا قول یہی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی حصہ ہے۔
اسی کی تائید بیھقی کی اس صحیح سند والی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وادی القریٰ میں آ کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنیمت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کا ہے باقی کے چار حصے لشکریوں کے۔ } اس نے پوچھا تو اس میں کسی کو کسی پر زیادہ حق نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہرگز نہیں یہاں تک کہ تو اپنے کسی دوست کے جسم سے تیر نکالے تو اس تیر کا بھی تو اس سے زیادہ مستحق نہیں۔ } ۱؎ [بیہقی فی السنن الکبری:324/6]‏‏‏‏
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے مال کے پانجویں حصے کی وصیت کی اور فرمایا کیا میں اپنے لیے اس حصے پر رضامند نہ ہو جاؤں جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنا رکھا ہے؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال غنیمت کے پانچ حصے برابر کئے جاتے تھے چار تو ان لشکریوں کو ملتے تھے جو اس جنگ میں شامل تھے پھر پانچویں حصے کے چار حصے کئے جاتے تھے ایک چوتھائی اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پھر یہ حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیتے تھے یعنی پانچویں حصے کا پانچواں حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہو اس کا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کا حصہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا ہے۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ ہے وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے اختیار ہے جس کام میں آپ چاہیں لگائیں۔
مقدام بن معدیکرب عبادہ بن صامت ابودرداء اور حارث بن معاویہ کندی رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ذکر ہونے لگا تو ابوداؤد نے عبادہ بن صامت سے کہا فلاں فلاں غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جہاد میں خمس کے ایک اونٹ کے پیچھے صحابہ رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی سلام کے بعد کھڑے ہو گئے اور چند بال چٹکی میں لے کر فرمایا کہ مال غنیمت کے اونٹ کے یہ بال بھی مال غنیمت میں سے ہی ہیں اور میرے نہیں ہیں میرا حصہ تو تمہارے ساتھ صرف پانچواں ہے اور پھر وہ بھی تم ہی کو واپس دے دیا جاتا ہے پس سوئی دھاگے تک ہر چھوٹی بڑی چیز پہنچا دیا کرو، خیانت نہ کرو، خیانت عار ہے اور خیانت کرنے والے کیلئے دونوں جہان میں آگ ہے۔ قریب والوں سے دور والوں سے راہ حق میں جہاد جاری رکھو۔ شرعی کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال تک نہ کرو۔ وطن میں اور سفر میں اللہ کی مقرر کردہ حدیں جاری کرتے رہو اللہ کے لیے جہاد کرتے رہو جہاد جنت کے بہت بڑے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اسی جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ غم و رنج سے نجات دیتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2850،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ یہ حدیث حسن ہے اور بہت ہی اعلیٰ ہے۔
صحاح ستہ میں اس سند سے مروی نہیں لیکن مسند ہی کی دوسری روایت میں دوسری سند سے خمس کا اور خیانت کا ذکر مروی ہے۔ ابوداؤد اور نسائی میں بھی مختصراً یہ حدیث مروی ہے اس حصے میں سے نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بعض چیزیں اپنی ذات کے لیے بھی مخصوص فرما لیا کرتے تھے لونڈی غلام تلوار گھوڑا وغیرہ۔۱؎ [سنن ابوداود:2694،قال الشيخ الألباني:]‏‏‏‏
جیسا کہ محمد بن سیرین اور عامر شعبی رحمہ اللہ علیہم اور اکثر علماء نے فرمایا ہے ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ذوالفقار نامی تلوار بدر کے دن کے مال غنیمت میں سے تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اسی کے بارے میں احد والے دن خواب دیکھا تھا۔۱؎ [سنن ترمذي:1561،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی اسی طرح آئیں تھیں۔۱؎ [سنن ابوداود:2994،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابوداؤد وغیرہ میں ہے یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے ان کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ہم نے اسے پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ { یہ محمد رسول اللہ کی طرف سے زہیر بن اقیش کی طرف ہے کہ اگر تم اللہ کی وحدت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دو اور نمازیں قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور غنیمت کے مال سے خمس ادا کرتے رہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اور خالص حصہ ادا کرتے رہو تو تم اللہ اور اس کے رسول کی امان میں ہو۔ } ہم نے ان سے پوچھا کہ تجھے یہ کس نے لکھ دیا ہے اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۱؎ [سنن ابوداود:2999،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پس ان صحیح احادیث کی دلالت اور ثبوت اس بات پر ہے اسی لیے اکثر بزرگوں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خواص میں سے شمار کیا ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔
اور لوگ کہتے ہیں کہ خمس میں امام وقت مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق جو چاہے کر سکتا ہے، جیسے کہ مال فے میں اسے اختیار ہے۔ ہمارے شیخ علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہی قول امام مالک رحمہ اللہ کا ہے اور اکثر سلف کا ہے اور یہی سب سے زیادہ صحیح قول ہے۔ جب یہ ثابت ہو گیا اور معلوم ہو گیا تو یہ بھی خیال رہے کہ خمس جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا اسے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا جائے بعض تو کہتے ہیں کہ اب یہ حصہ امام وقت یعنی خلیفتہ المسلمین کا ہو گا۔ سیدنا ابوبکر، سیدنا علی رضی اللہ عنہم،قتادہ رحمہ اللہ اور ایک جماعت کا یہی قول ہے۔
اور اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کی مصلحت میں صرف ہو گا ایک قول ہے کہ یہ بھی اہل حاجت کی بقایا قسموں پر خرچ ہو گا یعنی قرابت دار یتیم مسکین اور مسافر۔ امام ابن جریر کا مختار مذہب یہی ہے اور بزرگوں کا فرمان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا حصہ یتیموں مسکینوں اور مسافروں کو دے دیا جائے۔
عراق والوں کی ایک جماعت کا یہی قول ہے اور کہا گیا ہے خمس کا یہ پانچواں حصہ سب کا سب قرابت داروں کا ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن محمد بن علی اور علی بن حسین رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ یہ ہمارا حق ہے پوچھا گیا کہ آیت میں یتیموں اور مسکینوں کا بھی ذکر ہے تو امام علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد بھی ہمارے یتیم اور مسکین ہیں۔
امام حسن بن محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کہ کلام کا شروع اس طرح ہوا ہے ورنہ دنیا آخرت کا سب کچھ اللہ ہی کا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان دونوں حصوں کے بارے میں کیا ہوا اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کو ملے گے۔ بعض کہتے ہیں آپ کے قرابت داروں کو۔ بعض کہتے ہیں خلیفہ کے قرابت داروں کو ان کی رائے میں ان دونوں حصوں کو گھوڑوں اور ہتھیاروں کے کام میں لگایا جائے اسی طرح خلافت صدیقی و فاروقی میں ہوتا بھی رہا ہے۔
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حصے کو جہاد کے کام میں خرچ کرتے تھے۔ پوچھا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس بارے میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا وہ اس بارے میں ان سے سخت تھے۔ اکثر علماء رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔
ہاں ذوی القربیٰ کا جو حصہ ہے وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا ہے۔ اس لیے کہ اولاد عبدالمطلب نے اولاد ہاشم کی جاہلیت میں اور اول اسلام میں موافقت کی اور انہی کے ساتھ انہوں نے گھاٹی میں قید ہونا بھی منظور کر لیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستائے جانے کی وجہ سے یہ لوگ بگڑ بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں تھے، ان میں سے مسلمان تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی وجہ سے۔ کافر خاندانی طرف داری اور رشتوں ناتوں کی حمایت کی وجہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کی فرمانبرداری کی وجہ سے ستائے گئے ہاں بنو عبدشمس اور بنو نوفل گو یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے۔
لیکن وہ ان کی موافقت میں نہ تھے بلکہ ان کے خلاف تھے انہیں الگ کر چکے تھے اور ان سے لڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ قریش کے تمام قبائل ان کے مخالف ہیں اسی لیے ابوطالب نے اپنے قصیدہ لامیہ میں ان کی بہت ہی مذمت کی ہے کیونکہ یہ قریبی قرابت دار تھے اس قصیدے میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں بہت جلد اللہ کی طرف سے ان کی اس شرارت کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔
ان بیوقوفوں نے اپنے ہو کر ایک خاندان اور ایک خون کے ہو کر ہم سے آنکھیں پھیر لی ہیں وغیرہ۔ ایک موقعہ پر ابن جبیر بن معطم بن عدی بن نوفل اور سیدنا عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور شکایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے خمس میں سے بنو عبدالملطب کو تو دیا لیکن ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری کے لحاظ سے وہ اور ہم بالکل یکساں اور برابر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو! بنو ہاشم اور بنو المطلب تو بالکل ایک ہی چیز ہیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3140]‏‏‏‏۔
بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ { انہوں نے تو مجھ سے نہ کبھی جاہلیت میں جدائی برتی نہ اسلام میں۔} ۱؎ [سنن ابوداود:2980،قال الشيخ الألباني:]‏‏‏‏
مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اللہ کو علم تھا کہ بنو ہاشم میں فقراء ہیں پس صدقے کی جگہ ان کا حصہ مال غنیمت میں مقرر کر دیا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ قرابت دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ علی بن حسین رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
بعض کہتے ہیں یہ سب قریش ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے استفتاء کیا گیا کہ ذوی القربیٰ کون ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب تحریر فرمایا کہ ہم تو کہتے تھے ہم ہیں لیکن ہماری قوم نہیں مانتی وہ سب کہتے ہیں کہ سارے ہی قریش ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1812]‏‏‏‏ بعض روایتوں میں صرف پہلا جملہ ہی ہے۔
دوسرے جملے کی روایت کے راوی ابو معشر نجیح بن عبدالرحمٰن مدنی کی روایت میں ہی یہ جملہ ہے کہ سب کہتے ہیں کہ سارے قریش ہیں۔ اس میں ضعف بھی ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے لیے لوگوں کے میل کچیل سے تو میں نے منہ پھیر لیا خمس کا پانچواں حصہ تمہیں کافی ہے۔ } یہ حدیث حسن ہے اس کے راوی ابراہیم بن مہدی کو امام ابوحاتم ثقہ بتاتے ہیں لیکن یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ یہ منکر روایتیں لاتے ہیں۔ ۱؎ [میزان الاعتدال:68/1]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
آیت میں یتیموں کا ذکر ہے یعنی مسلمانوں کے وہ بچے جن کا باپ فوت ہو چکا ہو۔ پھر بعض تو کہتے ہیں کہ یتیمی کے ساتھ فقیری بھی ہو تو وہ مستحق ہیں اور بعض کہتے ہیں ہر امیر فقیر یتیم کو یہ الفاظ شامل ہیں۔ «مَسَاكِينِ» سے مراد وہ محتاج ہیں جن کے پاس اتنا نہیں کہ ان کی فقیری اور ان کی حاجت پوری ہو جائے اور انہیں کافی ہو جائے۔ «ابْنِ السَّبِيلِ» وہ مسافر ہے جو اتنی حد تک وطن سے نکل چکا ہو یا جا رہا ہو کہ جہاں پہنچ کر اسے نماز کو قصر پڑھنا جائز ہو اور سفر خرچ کافی اس کے پاس نہ رہا ہو۔ اس کی تفسیر سورۃ برات کی «‏‏‏‏إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ» ۱؎ [9-التوبہ: 60]‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ہمارا اللہ پر بھروسہ ہے اور اسی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہارا اللہ پر اور اس کی اتاری ہوئی وحی پر ایمان ہے تو جو وہ فرما رہا ہے لاؤ یعنی مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ الگ کر دیا کرو۔‘
بخاری و مسلم میں ہے کہ وفد عبدالقیس کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تمہیں چار باتوں کا حکم کرتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں۔ جانتے بھی ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز کو پابندی سے ادا کرنا زکوٰۃ دینا اور غنیمت میں سے خمس ادا کرنا۔} ۱؎ [صحیح بخاری:53]‏‏‏‏
پس خمس کا دینا بھی ایمان میں داخل ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری شریف میں باب باندھا ہے کہ خمس کا ادا کرنا ایمان میں ہے پھر اس حدیث کو وارد فرمایا ہے اور ہم نے شرح صحیح بخاری میں اس کا پورا مطلب واضح بھی کر دیا ہے «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» ۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنا ایک احسان و انعام بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے حق و باطل میں فرق کر دیا۔ اپنے دین کو غالب کیا اپنے نبی کی اور آپ کے لشکریوں کی مدد فرمائی اور جنگ بدر میں انہیں غلبہ دیا۔ کلمہ ایمان کلمہ کفر پر چھا گیا۔ ‘
پس یوم الفرقان سے مراد بدر کا دن ہے جس میں حق و باطل کی تمیز ہوگئی۔ بہت سے بزرگوں سے یہی تفسیر مروی ہے۔ یہی سب سے پہلا غزوہ تھا۔ مشرک لوگ عتبہ بن ربیعہ کی ماتحتی میں تھے جمعہ کے دن انیس یا سترہ رمضان کو یہ لڑائی ہوئی تھی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تین سو دس سے کچھ اوپر تھے اور مشرکوں کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تھی۔
باوجود اس کے اللہ تبارک و تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی ستر سے زائد تو کافر مارے گئے اور اتنے ہی قید کر لیے گئے۔
مستدرک حاکم میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لیلتہ القدر کو گیارہویں رات میں ہی یقین کے ساتھ تلاش کرو اس لیے کہ اس کی صبح کو بدر کی لڑائی کا دن تھا۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لیلتہ الفرقان جس دن دونوں جماعتوں میں گھمسان کی لڑائی ہوئی رمضان شریف کی سترہویں تھی یہ رات بھی جمعہ کی رات تھی۔ غزوے اور سیرت کے مرتب کرنے والے کے نزدیک یہی صحیح ہے۔
ہاں یزید بن ابوجعد رحمہ اللہ جو اپنے زمانے کے مصری علاقے کے امام تھے فرماتے ہیں کہ بدر کا دن پیر کا دن تھا لیکن کسی اور نے ان کی متابعت نہیں کی اور جمہور کا قول یقیناً ان کے قول پر مقدم ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔