ترجمہ و تفسیر — سورۃ المدثر (74) — آیت 6

وَ لَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرُ ۪﴿ۙ۶﴾
اور( اس نیت سے) احسان نہ کر کہ زیادہ حاصل کرے۔ En
اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو
En
اور احسان کرکے زیاده لینے کی خواہش نہ کر En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6){ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ: مَنَّ يَمُنُّ} احسان کرنا۔ {اِسْتَكْثَرَ} (استفعال) زیادہ طلب کرنا۔ {اِسْتَكْثَرَ الشَّيْءَ} کا معنی کسی چیز کو زیادہ سمجھنا بھی آتا ہے۔ یعنی آپ کسی پر احسان کریں تو اس نیت سے نہیں کہ مجھے اس سے زیادہ ملے گا۔ نہ راہ حق کی طرف رہنمائی کے احسان پر کسی سے کوئی توقع رکھیں، نہ کسی کو کچھ دے کر اس سے زیادہ حاصل ہونے کی طلب رکھیں، توقع اور طلب صرف اپنے پروردگار سے رکھیں۔ اس کے علاوہ یہ معنی بھی درست ہے کہ آپ کسی پر جتنا بھی احسان کریں اسے زیادہ نہ سمجھیں۔ اس آیت میں داعی کو ہر قسم کے طمع اور لالچ سے اجتناب کا حکم ہے، کیونکہ یہ چیز دعوت الی اللہ کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یعنی احسان کرکے یہ خواہش نہ کر کہ بدلے میں اس سے زیادہ ملے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اور زیادہ حاصل کرنے کے لیے احسان [6] نہ کیجیے
[6] بے لوث خدمت اور اللہ کے لیے صبر :۔
کسی شخص کی بے لوث خدمت کرنا بڑا حوصلہ مندی کا کام ہے۔ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ اگر وہ کسی پر کوئی دنیوی یا دینی بھلائی کرے تو کسی نہ کسی رنگ میں اس کو اس کا بدلہ ضرور ملنا چاہیے۔ بلکہ بسا اوقات انسان کی طبیعت یہ چاہتی ہے کہ کسی پر اس نے جو احسان کیا ہے اس کا بدلہ اسے اس سے بڑھ کر ملنا چاہیے۔ یہ نظریہ خالصتاً خود غرضانہ اور مادی نظریہ ہے۔ لہٰذا جس عظیم مقصد کے لیے آپ کو تیار کیا جا رہا تھا اور جس طرح آپ کو پوری بنی نوع انسان کی ہدایت کی خدمت سپرد کی جانے والی تھی اس کے لیے ابتدا میں ہی آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ کسی طرح کے فائدہ، لالچ، غرض اور معاوضہ کا طمع رکھے بغیر لوگوں پر دینی اور دنیوی دونوں طرح کی بھلائیاں کرنا ہوں گی اور اس راہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنے بھی مصائب پیش آئیں انہیں خندہ پیشانی سے اللہ کی رضا کی خاطر برداشت کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان باتوں کا بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔