(آیت 7) {وَلِرَبِّكَفَاصْبِرْ:} یعنی آپ کسی پر جو احسان کریں یا کسی کو جو عطیہ دیں اس کی جزا صرف اپنے رب ہی سے لینے کے لیے صبر کریں۔ {”وَلِرَبِّكَفَاصْبِرْ“} میں یہ معنی بھی داخل ہے کہ آپ کو حق کا پیغام پہنچانے میں بہت سے مصائب و مشکلات کا سامنا ہو گا، عرب و عجم سے لڑائی درپیش ہو گی، آپ ان تمام مصائب پر صبر کریں اور یہ صبر صرف اور صرف اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے ہو، اس ہمت اور اولو العزمی کے بغیر دعوت کا کام سر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ لقمان نے اپنے بیٹے کو فرمایا تھا: «وَاْمُرْبِالْمَعْرُوْفِوَانْهَعَنِالْمُنْكَرِوَاصْبِرْعَلٰىمَاۤاَصَابَكَاِنَّذٰلِكَمِنْعَزْمِالْاُمُوْرِ» [لقمان: ۱۷]”اور نیکی کا حکم کر اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، یقینا یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر کیجیے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلِرَبِّكَفَاصْبِرْ﴾ یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا، اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کیا، آپ نے ہر اس ہستی سے براءت کا اظہار کیا جو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی تھی اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، شر اور شر پسندوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد آپ کا احسان ہے بغیر اس کے کہ آپ اس پر ان سے کسی جزا یا شکر گزاری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے رب کی خاطر کامل ترین صبر کیا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی نافرمانی سے اجتناب پر اور اس کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا، یہاں تک کہ آپ اولوالعزم انبیاء و مرسلین پر بھی فوقیت لے گئے۔ صَلَوَاتُاللہِوَسَلَامُہُعَلَیْہِوَعَلَیْھِمْأَجْمَعِینَ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولربِّكَ فاصْبِرْ}؛ أي: احتسبْ بصبرك واقصدْ به وجهَ الله تعالى.
فامتثل رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - لأمر ربِّه، وبادر فيه ، فأنذر الناس وأوضح لهم بالآياتِ البيناتِ جميع المطالب الإلهيَّة، وعظَّم الله تعالى، ودعا الخلق إلى تعظيمه، وطهَّر أعماله الظاهرة والباطنة من كل سوءٍ، وهجر كلَّ ما يُعْبَدُ من دون الله وما يُعْبَدُ معه من الأصنام وأهلها والشرِّ وأهله، وله المنَّة على الناس بعد منَّة الله، من غير أن يطلبَ عليهم بذلك جزاءً ولا شكوراً، وصبر لربِّه أكمل صبر: فصبر على طاعة الله، وعن معاصيه، وصبر على أقداره المؤلمة، حتى فاق أولي العزم من المرسَلين. صلواتُ الله وسلامُه عليه وعليهم أجمعين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔