(آیت 4) {وَاَنَّهٗكَانَيَقُوْلُسَفِيْهُنَا …: ”سَفِيْهُنَا“} (ہمارا بے وقوف) سے مراد ایک فرد بھی ہو سکتا ہے اور ایک گروہ بھی۔ فرد ہو تو ابلیس یا ان جنوں کا سردار مراد ہے۔ گروہ ہو تو مطلب یہ ہے کہ ہم میں سے کئی بے وقوف اور احمق لوگ اللہ تعالیٰ پر ایسی زیادتی کی باتیں تھوپا کرتے تھے کہ اس کا کوئی شریک ہے یا اس کی اولاد اور بیوی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 (ہمارے بےوقوف) سے بعض نے شیطان مراد لیا ہے اور بعض نے ان کے ساتھی جن اور بعض نے بطور جنس ؛ یعنی ہر وہ شخص جو یہ گمان باطل رکھتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ شَطَطًا کے کئ معنی کئے گئے ہیں، ظلم، جھوٹ، باطل، کفر میں مبالغہ وغیرہ۔ مقصد، راہ اعتدال سے دوری اور حد سے تجاوز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات کہ اللہ کی اولاد ہے ان بیوقوفوں کی بات ہے جو راہ اعتدال سے دور، حد متجاوز اور کاذب و افترا پرداز ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اور یہ کہ ہمارے نادان لوگ اللہ کے ذمے بہت سی جھوٹی [3] باتیں لگاتے رہے ہیں
[3]﴿سَفِيْهُنَا﴾ میں سفیہ سے مراد ایک فرد بھی ہو سکتا ہے اور اس صورت میں وہ ابلیس ہے۔ جس نے جن و انسان کو گمراہ کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے اور سفیہ سے مراد نادانوں کا گروہ بھی ہو سکتا ہے اور جھوٹی باتوں سے مراد تمام شرکیہ عقائد ہیں۔ بالخصوص یہ کہ اللہ کی بیوی بھی ہے اور اولاد بھی یا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں یا یہ کہ کائنات میں کئی دیوی، دیوتا اور اللہ کے پیارے ایسے ہیں جنہیں اللہ نے کائنات میں تصرف امور کے بعض اختیارات سونپ رکھے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔