اس آیت کی تفسیر آیت 16 میں تا آیت 18 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم ؑ کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہوگا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پائی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ اور اللہ نے تمہیں زمین سے عجیب طرح اگایا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔