اس آیت کی تفسیر آیت 15 میں تا آیت 17 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16۔ 1 جو روئے زمین کو منور کرنے والا اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ تاکہ اس کی روشنی میں انسان معاش کے لیے جو انسانوں کی انتہائی ناگزیر ضرورت ہے کسب و محنت کرسکے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ [9] بنایا
[9] یہ آسمانوں میں جگمگانے والے چاند اور سورج ہمارے لئے محض روشنی کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ انسان کی زندگی کا بہت حد تک انہی پر انحصار ہے۔ سورج کی وجہ سے ہماری زمین پر رات اور دن وجود میں آتے ہیں۔ موسموں میں تبدیلی آتی ہے۔ فصلیں پکتی ہیں، پھلوں میں رس پڑتا ہے اور انہی چیزوں سے انسان اور دوسری جاندار مخلوق کو غذا مہیا ہوتی ہے تم پر اللہ کے یہ کیا کم احسان ہیں پھر بھی تم اللہ کے نا قدر شناس اور نمک حرام بنتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔