تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
{ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:2673:اسنادہ فیه جهالة]
مروی ہے کہ { جب ابوطالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا: کسی کو بھیج کر اپنے بھتیجے سے کہلواؤ کہ وہ تمہارے پاس جنتی انگور کا ایک خوشہ بھجوا دے تاکہ تیری بیماری جاتی رہے۔ جس وقت قاصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے۔ سنتے ہی فرمانے لگے: اللہ نے جنت کی کھانے پینے کی چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:166/3:مرسل]
پھر ان کی بدکرداری بیان فرمائی کہ یہ لوگ دین حق کو ایک ہنسی کھیل سمجھے ہوئے تھے۔ دنیا کی زینت اور اس کے بناؤ چناؤ میں ہی عمر بھر مشغول رہے۔ یہ چونکہ اس دن کو بھول بسر گئے تھے۔ اس کے بدلے ہم بھی ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے جو کسی بھول جانے والے کا معاملہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے، اس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ فرماتا ہے: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى» ۱؎ [20-طه:52] ’ نہ وہ بہکے، نہ بھولے۔ ‘
اور جیسے دوسری آیت میں ہے «قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى» ۱؎ [20-طه:126]
فرمان ہے «وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا» ۱؎ [45-الجاثية:34] ’ تیرے پاس ہماری نشانیاں آئی تھیں جنہیں تو بھلا بیٹھا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ ‘ وغیرہ۔
پس یہ بھلائیوں سے بالقصد بھلا دیئے جائیں گے۔ ہاں برائیاں اور عذاب برابر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلایا، ہم نے انہیں آگ میں چھوڑا، رحمت سے دور کیا جیسے یہ عمل سے دور تھے۔
صحیح حدیث میں ہے: { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ یا عزت آبرو نہیں دی تھی؟ کیا گھوڑے اور اونٹ تیرے مطیع نہیں کئے تھے؟ اور کیا تجھے قسم قسم کی راحتوں میں آزاد نہیں رکھا تھا؟ بندہ جواب دے گا کہ ہاں پروردگار! بیشک تو نے ایسا ہی کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر کیا تو میری ملاقات پر ایمان رکھتا تھا؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پس میں بھی آج تجھے ایسا ہی بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھول گیا تھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2968]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ينادي أصحاب النار أصحاب الجنة حين يبلغُ منهم العذابُ كلَّ مبلغ وحين يمسُّهم الجوع المفرط والظمأ الموجع؛ يستغيثون بهم فيقولون: {أفيضوا علينا من الماءِ أو ممَّا رزقكم الله}: من الطعام، فأجابهم أهل الجنة بقولهم: {إنَّ الله حرَّمَهما}؛ أي: ماء الجنة وطعامها {على الكافرين}: وذلك جزاء لهم على كفرهم بآيات الله واتخاذهم دينهم الذي أُمروا أن يستقيموا عليه ووُعدوا بالجزاء الجزيل عليه {لهواً ولعباً}؛ أي: لهت قلوبهم وأعرضت عنه ولعبوا واتَّخذوه سخريًّا، أو أنهم جعلوا بدل دينهم اللهو واللعب، واستعاضوا بذلك عن الدين القيم، {وغرَّتْهم الحياة الدنيا}: بزينتها وزخرفها وكثرة دعاتِها، فاطمأنوا إليها ورضوا بها وفرحوا وأعرضوا عن الآخرة ونسوها. {فاليوم ننساهم}؛ أي: نتركهم في العذاب، {كما نسوا لقاء يومهم هذا}: فكأنهم لم يُخْلقوا إلا للدُّنيا، وليس أمامهم عرض ولا جزاء، {وما كانوا بآياتنا يجحدون}: والحال أن جحودهم هذا لا عن قصور في آيات الله وبيِّناته، بل قد {جئناهم بكتابٍ فصَّلْناه}؛ أي: بينا فيه جميع المطالب التي يحتاج إليها الخلق {على علم}؛ من الله بأحوال العباد في كل زمان ومكان، وما يصلُحُ لهم وما لا يصلُحُ ليس تفصيله تفصيل غير عالم بالأمور، فتجهله بعض الأحوال فيحكم حكماً غير مناسب، بل تفصيل من أحاط علمه بكل شيء ووسعتْ رحمتُهُ كلَّ شيء. {هدىً ورحمةً لقوم يؤمنون}؛ أي: تحصل للمؤمنين بهذا الكتاب الهداية من الضلال وبيان الحق والباطل والغي والرشد، ويحصُل أيضاً لهم به الرحمة، وهي الخير والسعادة في الدنيا والآخرة، فينتفي عنهم بذلك الضلال والشقاء.