تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بدبختو! انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو! میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ با آرام، بے کھٹکے جنت میں جاؤ۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی برائیاں بھی ان کی نہ تھیں کہ دوزخ میں جائیں تو یہ اعراف پر ہی روک دیئے گئے، لوگوں کو ان کے اندازے سے پہچانتے ہوں گے۔
اب سب لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا اور کوئی خلیل اللہ ہوا ہو؟ یا اللہ کے بارے میں اس کی قوم نے آگ میں پھینکا ہو؟ سب کہیں گے: آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔ فرمائیں گے: مجھے اس کی حقیقت معلوم نہیں، میں تمہاری درخواست شفاعت نہیں لے جا سکتا، تم میرے لڑکے موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ موسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ بتاؤ میرے سوا اللہ نے کسی کو اپنا کلیم اللہ بنایا، اپنی سرگوشیوں کے لیے نزدیکی عطا فرمائی؟ جواب دیں گے کہ نہیں۔ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری سفارش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہاں! تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔
لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ان سے شفاعت طلبی کا تقاضا کریں گے۔ یہ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ نے بے باپ کے پیدا کیا ہو؟ جواب ملے گا کہ نہیں۔ پوچھیں گے: جانتے ہو کہ کوئی مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم اللہ میرے سوا اچھا کرتا ہو یا کوئی مردہ کو بحکم اللہ زندہ کر دیتا ہو؟ کہیں گے کہ کوئی نہیں۔ فرمائیں گے کہ میں تو آج اپنے نفس کے بچاؤ میں ہوں، میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں۔ مجھ میں اتنی طاقت کہاں کہ تمہاری سفارش کر سکوں، ہاں! تم سب کے سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔
چنانچہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اپنا سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ ہاں ہاں! میں اسی لیے موجود ہوں، پھر میں چل کر اللہ کے عرش کے سامنے ٹھہر جاؤں گا۔ اپنے رب عزوجل کے پاس پہنچ جاؤں گا اور ایسی ایسی اس کی تعریفیں بیان کروں گا کہ کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہوں۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا، پھر مجھ سے فرمایا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھاؤ، مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، قبول کی جائے گی۔
پھر میں ان سب کو لے کر جنت کی طرف آؤں گا۔ جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور وہ میرے لیے اور ان کے لئے کھول دیا جائے گا۔ پھر انہیں ایک نہر کی طرف لے جائیں گے جس کا نام نہر الحیوان ہے، اس کے دونوں کناروں پر سونے کے محل ہیں جو یاقوت سے جڑاؤ کئے گئے ہیں، اس میں غسل کریں گے جس سے جنتی رنگ اور جنتی خوشبو ان میں پیدا ہو جائے گی اور چمکتے ہوئے ستاروں جیسے وہ نورانی ہو جائیں گے۔ ہاں! ان کے سینوں پر سفید نشان باقی رہ جائیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے۔ انہیں مساکین اہل جنت کہا جائے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أشاروا لهم إلى أناس من أهل الجنة كانوا في الدنيا فقراء ضعفاء يستهزئ بهم أهل النار، فقالوا لأهل النار: {أهؤلاء}: الذين أدخلهم الله الجنة، {الذين أقسمتُم لا ينالُهُم الله برحمةٍ}: احتقاراً لهم وازدراءً وإعجاباً بأنفسكم، قد حنثتم في أيمانكم، وبدا لكم من الله ما لم يكن لكم في حساب. {ادخلوا الجنة}: بما كنتم تعملونَ؛ أي: قيل لهؤلاء الضعفاء إكراماً واحتراماً: ادخلوا الجنة بأعمالكم الصالحة، {لا خوفٌ عليكم}: فيما يُستقبل من المكاره، {ولا أنتم تحزنونَ}: على ما مضى، بل آمنون مطمئنُّون فرحون بكل خير. وهذا كقولِهِ تعالى: {إنَّ الذين أجرموا كانوا من الذين آمنوا يضحكونَ. وإذا مَرُّوا بهم يتغامَزون ... } إلى أن قال: {فاليومَ الذين آمنوا مِنَ الكُفَّارِ يضحكون. على الأرائكِ ينظُرونَ}.
واختلف أهل العلم والمفسِّرون من هم أصحاب الأعراف وما أعمالهم، والصحيح من ذلك أنهم قوم تساوت حسناتهم وسيئاتهم؛ فلا رجحتْ سيئاتهم فدخلوا النار، ولا رجحت حسناتهم فدخلوا الجنة، فصاروا في الأعراف ما شاء الله، ثم إن الله تعالى يدخِلُهم برحمته الجنة؛ فإن رحمته تسبق وتغلب غضبه، ورحمته وسعت كلَّ شيءٍ.