ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 49

اَہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا یَنَالُہُمُ اللّٰہُ بِرَحۡمَۃٍ ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمۡ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿۴۹﴾
کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم نے قسمیں کھائی تھیں کہ اللہ انھیں کوئی رحمت نہیں پہنچائے گا؟ جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔ En
(پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا
En
کیا یہ وہی ہیں جن کی نسبت تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نہ کرے گا، ان کو یوں حکم ہوگا کہ جاؤ جنت میں تم پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم مغموم ہوگے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49){ اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ:} قریش کے کھاتے پیتے لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غریب و نادار مسلمانوں کو دیکھتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ ان لوگوں کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اﷲ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت سے نوازے۔ اب اعراف والے جہنم میں ان لوگوں کو پہچان کر جو نادار مسلمانوں سے اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے، کہیں گے کہ دیکھو یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اﷲ تعالیٰ انھیں کوئی رحمت نہیں پہنچائے گا، دیکھ لو! اب یہ وہی ہیں جنھیں کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49۔ 1 اس سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو دنیا میں غریب و مسکین اور مفلس و نادار قسم کے تھے جن کا مذاق مذکورہ منکرین اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے اگر یہ اللہ کے محبوب ہوتے تو ان کا دنیا میں یہ حال نہ ہوتا؟ پھر مزید جسارت کرتے ہوئے دعویٰ کرتے کہ قیامت والے دن بھی اللہ کی رحمت ہم پر ہوگی نہ کہ ان پر (ابن کثیر) بعض نے اس کا قائل اصحاب الاعراف کو بتلایا ہے اور بعض کہتے ہیں جب اصحاب الاعراف جہنمیوں کو یہ کہیں گے کہ تمہارا جتھہ اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا۔ تو اس وقت اللہ کی طرف سے جنتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جائے گا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھاتے تھے کہ ان پر اللہ کی رحمت نہیں ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ کیا یہ (اہل جنت) وہی لوگ نہیں جن کے متعلق تم قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں اپنی رحمت سے کچھ بھی نہ دے گا“ (انہیں تو آج یہ کہا گیا ہے کہ) جنت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا اور نہ تم غمزدہ ہی ہو گے“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کفر کے ستون اور ان کا حشر ٭٭
کفر کے جن ستونوں کو، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری اکثریت جمعیت کہاں گئی؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی؟ تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے۔
اس کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بدبختو! انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو! میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ با آرام، بے کھٹکے جنت میں جاؤ۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی برائیاں بھی ان کی نہ تھیں کہ دوزخ میں جائیں تو یہ اعراف پر ہی روک دیئے گئے، لوگوں کو ان کے اندازے سے پہچانتے ہوں گے۔
جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کر چکے گا، شفاعت کی اجازت دے گا۔ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم علیہ السلام! آپ ہمارے باپ ہیں، ہماری شفاعت اللہ تعالیٰ کی جناب میں کیجئے۔ آپ جواب دیں گے: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہو، اپنی روح اس میں پھونکی ہو، اپنی رحمت اس پر اپنے غضب سے پہلے پہنچائی ہو، اپنے فرشتوں سے اسے سجدہ کرایا ہو؟ سب جواب دیں گے: نہیں، ایسا آپ کے سوا نہیں۔ آپ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں! تم میرے لڑکے ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔
اب سب لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا اور کوئی خلیل اللہ ہوا ہو؟ یا اللہ کے بارے میں اس کی قوم نے آگ میں پھینکا ہو؟ سب کہیں گے: آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔ فرمائیں گے: مجھے اس کی حقیقت معلوم نہیں، میں تمہاری درخواست شفاعت نہیں لے جا سکتا، تم میرے لڑکے موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ موسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ بتاؤ میرے سوا اللہ نے کسی کو اپنا کلیم اللہ بنایا، اپنی سرگوشیوں کے لیے نزدیکی عطا فرمائی؟ جواب دیں گے کہ نہیں۔ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری سفارش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہاں! تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔
لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ان سے شفاعت طلبی کا تقاضا کریں گے۔ یہ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ نے بے باپ کے پیدا کیا ہو؟ جواب ملے گا کہ نہیں۔ پوچھیں گے: جانتے ہو کہ کوئی مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم اللہ میرے سوا اچھا کرتا ہو یا کوئی مردہ کو بحکم اللہ زندہ کر دیتا ہو؟ کہیں گے کہ کوئی نہیں۔ فرمائیں گے کہ میں تو آج اپنے نفس کے بچاؤ میں ہوں، میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں۔ مجھ میں اتنی طاقت کہاں کہ تمہاری سفارش کر سکوں، ہاں! تم سب کے سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔
چنانچہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اپنا سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ ہاں ہاں! میں اسی لیے موجود ہوں، پھر میں چل کر اللہ کے عرش کے سامنے ٹھہر جاؤں گا۔ اپنے رب عزوجل کے پاس پہنچ جاؤں گا اور ایسی ایسی اس کی تعریفیں بیان کروں گا کہ کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہوں۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا، پھر مجھ سے فرمایا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھاؤ، مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، قبول کی جائے گی۔
پس میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا: میرے رب! میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ سب تیرے ہی ہے۔ پھر تو ہر ہر پیغمبر اور ہر ایک فرشتہ رشک کرنے لگے گا۔ یہی مقام، مقام محمود ہے۔
پھر میں ان سب کو لے کر جنت کی طرف آؤں گا۔ جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور وہ میرے لیے اور ان کے لئے کھول دیا جائے گا۔ پھر انہیں ایک نہر کی طرف لے جائیں گے جس کا نام نہر الحیوان ہے، اس کے دونوں کناروں پر سونے کے محل ہیں جو یاقوت سے جڑاؤ کئے گئے ہیں، اس میں غسل کریں گے جس سے جنتی رنگ اور جنتی خوشبو ان میں پیدا ہو جائے گی اور چمکتے ہوئے ستاروں جیسے وہ نورانی ہو جائیں گے۔ ہاں! ان کے سینوں پر سفید نشان باقی رہ جائیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے۔ انہیں مساکین اہل جنت کہا جائے گا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر وہ اہل جنت کی طرف، جو دنیا میں کمزور و ناتواں اور محتاج ہوا کرتے تھے۔۔۔ اشارہ کر کے اہل جہنم سے کہیں گے ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ اب یہ وہی ہیں یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا ﴿ الَّذِیْنَ اَ٘قْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا۔ یعنی تم لوگ اہل ایمان کے ساتھ نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہوئے نہایت خود پسندی کے ساتھ قسمیں اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے نہیں نوازے گا۔ اب تم اپنی قسموں میں جھوٹے ہوگئے ہو۔ اس چیز کی حقیقت تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی ہے جسے تم کسی شمار میں نہیں لایا کرتے تھے۔
﴿اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ یعنی اپنے اعمال کے صلہ میں جنت میں داخل ہو جاؤ یعنی کمزور اور ناتواں لوگوں کو اکرام و احترام کے ساتھ کہا جائے گا کہ اپنے نیک اعمال کی جزا کے طور پر جنت میں داخل ہوجاؤ ﴿ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ مستقبل میں تمھیں کسی تکلیف کا خوف نہ ہوگا ﴿ وَلَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ اور جو کچھ گزر گیا ہے تم اس پر غمزدہ نہیں ہو گے۔ بلکہ تم محفوظ و مامون اور مطمئن اور ہر بھلائی پر فرحاں و شاداں ہو گے۔۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَٞۖ۰۰وَاِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَٞۖ۰۰وَاِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَـكِهِیْنَٞۖ۰۰وَاِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ۰۰ وَمَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰؔفِظِیْنَؕ۰۰ فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ۰۰ عَلَى الْاَرَآىِٕكِ١ۙ یَنْظُ٘رُوْنَؕ۰۰ (المطففین:83؍29-35) وہ مجرم جو دنیا میں اہل ایمان پر ہنسا کرتے تھے جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کیا کرتے تھے اپنے گھر واپس لوٹتے تو اکڑفوں کے ساتھ اتراتے ہوئے لوٹتے اور جب اہل ایمان کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ ہیں۔ حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج اہل ایمان کافروں پر ہنسیں گے اور اپنے تختوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے۔
اہل علم اور مفسرین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اصحاب اعراف سے کیا مراد ہے اور ان کے اعمال کیا ہیں۔ اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ نہ تو ان کی برائیاں زیادہ ہوں گی جس کی بنا پر وہ جہنم میں داخل ہو جائیں اور نہ ان کی نیکیاں زیادہ ہوں گی کہ جنت میں داخل ہو جائیں۔ پس جب تک اللہ چاہے گا یہ لوگ مقام اعراف میں قیام کریں گے پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں جنت میں داخل کرے گا کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کرتی اور غالب آتی ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أشاروا لهم إلى أناس من أهل الجنة كانوا في الدنيا فقراء ضعفاء يستهزئ بهم أهل النار، فقالوا لأهل النار: {أهؤلاء}: الذين أدخلهم الله الجنة، {الذين أقسمتُم لا ينالُهُم الله برحمةٍ}: احتقاراً لهم وازدراءً وإعجاباً بأنفسكم، قد حنثتم في أيمانكم، وبدا لكم من الله ما لم يكن لكم في حساب. {ادخلوا الجنة}: بما كنتم تعملونَ؛ أي: قيل لهؤلاء الضعفاء إكراماً واحتراماً: ادخلوا الجنة بأعمالكم الصالحة، {لا خوفٌ عليكم}: فيما يُستقبل من المكاره، {ولا أنتم تحزنونَ}: على ما مضى، بل آمنون مطمئنُّون فرحون بكل خير. وهذا كقولِهِ تعالى: {إنَّ الذين أجرموا كانوا من الذين آمنوا يضحكونَ. وإذا مَرُّوا بهم يتغامَزون ... } إلى أن قال: {فاليومَ الذين آمنوا مِنَ الكُفَّارِ يضحكون. على الأرائكِ ينظُرونَ}.

واختلف أهل العلم والمفسِّرون من هم أصحاب الأعراف وما أعمالهم، والصحيح من ذلك أنهم قوم تساوت حسناتهم وسيئاتهم؛ فلا رجحتْ سيئاتهم فدخلوا النار، ولا رجحت حسناتهم فدخلوا الجنة، فصاروا في الأعراف ما شاء الله، ثم إن الله تعالى يدخِلُهم برحمته الجنة؛ فإن رحمته تسبق وتغلب غضبه، ورحمته وسعت كلَّ شيءٍ.