ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 26

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمۡ لِبَاسًا یُّوَارِیۡ سَوۡاٰتِکُمۡ وَ رِیۡشًا ؕ وَ لِبَاسُ التَّقۡوٰی ۙ ذٰلِکَ خَیۡرٌ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۲۶﴾
اے آدم کی اولاد! بے شک ہم نے تم پر لباس اتارا ہے، جو تمھاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہے اور زینت بھی اور تقویٰ کالباس! وہ سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں
اے آدم (علیہ السلام) کی اوﻻد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوے کا لباس، یہ اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) ➊ {يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا:} یعنی آسمان سے پانی اتارا، جس سے روئی اگتی ہے، ریشم اور پشم کا سامان مہیا ہوتا ہے، پھر تمھیں زراعت، شجرکاری، حیوان پروری، کپڑا بننے اور دوسری چیزیں بنانے کا طریقہ سکھا دیا۔ راغب نے فرمایا کہ یہاں {اَنْزَلَ} بمعنی { خَلَقَ } ہے، جیسے: «وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ» ‏‏‏‏ [الحدید: ۲۵] اور ہم نے لوہا اتارا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یعنی دشمن نے جنت کے کپڑے تم سے اتروائے، پھر ہم نے تم کو دنیا میں لباس کی تدبیر سکھا دی۔ (موضح)
➋ {يُوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا:} یعنی لباس کا مقصد ستر پوشی اور زینت ہے۔ اس کے علاوہ وہ سردی، گرمی اور چوٹ وغیرہ سے بھی بچانے کے باعث بنتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ» ‏‏‏‏ [النحل: ۸۱] اور اس نے تمھارے لیے کچھ قمیصیں بنائیں جو تمھیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ قمیصیں جو تمھیں تمھاری لڑائی میں بچاتی ہیں۔
➌ {وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ:} یعنی اس ظاہری لباس کے علاوہ جس سے تم صرف بدن ڈھانکتے ہو یا زینت کا کام لیتے ہو ایک اور معنوی لباس بھی ہے جو ہر لباس سے بہتر ہے، لہٰذا تمھیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے اور وہ ہے پرہیز گاری، یعنی اﷲ کا خوف، ایمان اور عمل صالح کا لباس۔ بعض نے کہا ہے کہ { لِبَاسُ التَّقْوٰى } سے مراد اون کھدر وغیرہ کی قسم کا کھردرا اور موٹا لباس ہے، جسے صوفی لوگ پہنتے ہیں، مگر یہ صحیح نہیں، خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین، جن کی پرہیز گاری بے مثال تھی، عمدہ لباس بھی پہنا کرتے تھے اور وسعت کے باوجود سادہ لباس بھی پہنتے تھے۔ بعض نے زرہ وغیرہ فوجی لباس مراد لیا ہے جو دشمن سے بچاؤ کا ذریعہ بنتا ہے۔ (قرطبی۔ روح المعانی) ہاں یہ ضرور ہے کہ جس لباس کی ممانعت آئی ہے وہ نہ پہنا جائے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اب وہی لباس پہنو جس میں پرہیز گاری ہو، یعنی مرد ریشمی (اور زعفرانی رنگ کا) لباس نہ پہنے، دامن لمبا نہ رکھے جو ٹخنوں کو ڈھانک لے اور جو منع ہوا ہے سو نہ کرے اور عورت بہت باریک (یا تنگ) لباس نہ پہنے کہ لوگوں کو بدن نظر آوے اور اپنی زینت نہ دکھائے۔
➍ {لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ:} تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور اﷲ تعالیٰ کی اس بڑی نعمت کی قدر کریں، یا نصیحت حاصل کریں اور برے کاموں سے بچیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26۔ 1 سَوْآت، ُ، ُ جسم کے وہ حصے جنہیں چھپانا ضروری ہے جیسے شرم گاہ اور وہ لباس جو حسن و رعنائی کے لئے پہنا جائے۔ گویا لباس کی پہلی قسم ضروریات سے اور دوسری قسم تتمہ اضافہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قسموں کے لباس کے لئے سامان اور مواد پیدا فرمایا۔ 26۔ 2 اس سے مراد بعض کے نزدیک وہ لباس ہے جو متقین قیامت والے دن پہنیں گے۔ بعض کے نزدیک ایمان، بعض کے نزدیک عمل صالح مشیت الٰہی وغیرہ ہیں۔ مفہوم سب کا تقریبًا ایک ہے کہ ایسالباس، جسے پہن کر انسان تکبر کرنے کی بجائے، اللہ سے ڈرے اور ایمان و عمل صالح کے تقاضوں کا اہتمام کرے۔ 26۔ 3 اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ زیب وزینت اور آرائش کے لئے بھی اگرچہ لباس پہننا جائز ہے، تاہم لباس میں ایسی سادگی زیادہ پسندیدہ ہے جو انسان کے زہد اور تقوے ٰ کی مظہر ہو۔ علاوہ ازیں نیا لباس پہن کر یہ دعا بھی پڑھی جائے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا پڑھا کرتے تھے: (واَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّزِیْ کَسَانِی مَائْو وَارِیْ بِہٖ عَوْرَبِّی وَاَتَجَمَّلْ بِہِ فِیْ حَیَاتِیْ) تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے ایسا لباس پہنایا جس میں اپنا ستر چھپالوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کروں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ اے بنی آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا جو تمہاری شرمگاہوں کو ڈھانپتا ہے اور زینت بھی ہے [23] اور لباس تو تقویٰ ہی کا بہتر [24] ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ شاید لوگ کچھ سبق حاصل کریں
[23] لباس کے اخلاقی اور طبعی فوائد اور لباس کا بنیادی مقصد:
لباس کو نازل کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدمؑ کو فوری طور پر الہام کیا گیا کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپیں اور ممکن ہے اس سے مراد شرم و حیا کی وہ فطری جبلت ہو جو انسان کے اندر رکھ دی گئی ہے اور اس سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آدمؑ کے زمین پر آجانے کے بعد بارش ہوئی جس سے زمین میں سے روئی یا دوسری ریشہ دار نباتات اگ آئیں جس سے انہوں نے لباس بنا لیا ہو اور لباس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے بدن کو ڈھانپا جا سکے اور اس لباس کے اللہ تعالیٰ نے دو فائدے بتائے ایک اخلاقی دوسرا طبعی۔ اخلاقی فائدہ یہ ہے کہ اپنے مقامات ستر ڈھانپ کر بے حیائی سے بچا جا سکے اور طبعی فائدہ یہ ہے کہ لباس انسان کے لیے زینت ہے اور یہ سردی اور گرمی کے موسمی اثرات سے بھی بچاتا ہے اور اخلاقی فائدے کو اللہ تعالیٰ نے پہلے بیان فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ لباس کا بنیادی مقصد سترکو ڈھانپنا ہے۔
[24] تقویٰ کے لباس کا مفہوم:
تقویٰ کے لباس کا مطلب یہ ہے کہ لباس پردہ پوش یا ساتر ہو ایسا پتلا یا شفاف نہ ہو کہ پہننے کے باوجود جسم کی سلوٹیں اور مقامات ستر سب کچھ نظر آتا رہے۔ دوسرے یہ کہ لباس فاخرانہ اور متکبرانہ نہ ہو نہ دامن دراز ہو اور نہ اپنی حیثیت سے کم تر درجہ ہی کا اور گندہ ہو کیونکہ یہ سب باتیں تقویٰ کے خلاف ہیں تیسرے وہ لباس ایسا بھی نہ ہو کہ مرد عورتوں کا لباس پہن کر عورت بننے کی کوشش کرنے لگیں اور عورتیں مردوں کا سا پہن کر مرد بننے کی کوشش کرنے لگیں کیونکہ اس سے ان کی اپنی اپنی جنس کی توہین ہوتی ہے اور چوتھے یہ کہ اپنا لباس ترک کر کے کسی حاکم یا سربرآوردہ قوم کا لباس استعمال نہ کریں کیونکہ سربرآوردہ قوم کی تہذیب و تمدن اور اس کا لباس اختیار کرنے سے جہاں تمہارا قومی تشخص مجروح ہو گا وہاں یہ بات اس قوم کے مقابلہ میں تمہاری ذہنی مرعوبیت کی بھی دلیل ہو گی اور پانچویں یہ کہ مرد ریشمی لباس نہ پہنیں۔ اور بعض علماء کے نزدیک لباس سے مراد صرف ظاہری لباس ہی نہیں بلکہ اس سے مراد رنگ ڈھنگ اور پورا طرز زندگی ہے جس میں لباس بھی شامل ہے یعنی انسان کی ایک ایک عادت ایسی ہونی چاہیے جس سے تقویٰ کا رنگ ٹپکتا ہو ان کے نزدیک لباس کا لفظ مجازی معنوں میں ہے جیسے ”مذہبی تقدس کا پردہ“ میں پردہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لباس اور داڑھی جمال و جلال ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ اپنا احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے لباس اتارا اور ریش بھی۔ لباس تو وہ ہے جس سے انسان اپنا ستر چھپائے اور ریش وہ ہے جو بطور زینت، رونق اور جمال کے پہنا جائے۔ اول تو ضروریات زندگی سے ہے اور ثانی زیادتی ہے۔ ریش کے معنی مال کے بھی ہیں اور ظاہری پوشاک کے بھی ہیں اور جمال، خوش لباسی کے بھی ہیں۔
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نیا کرتہ پہنتے ہوئے جبکہ گلے تک وہ پہن لیا فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَ اَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ» پھر فرمانے لگے: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: { جو شخص نیا کپڑا پہنے اور اس کے گلے تک پہنچتے ہی یہ دعا پڑھے، پھر پرانا کپڑا راہ للہ دے دے تو وہ اللہ کے ذمہ میں، اللہ کی پناہ میں اور اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔ زندگی میں بھی اور بعد از مرگ بھی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3557، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ (‏‏‏‏ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ)
مسند احمد میں ہے: { سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان سے ایک کرتہ تین درہم کا خریدا اور اسے پہنا -جب پہنچوں اور ٹخنوں تک پہنچا تو آپ نے یہ دعا پڑھی «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» یہ دعا سن کر آپ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ اسے کپڑا پہننے کے وقت پڑھتے تھے یا آپ از خود اسے پڑھ رہے ہیں؟ فرمایا: میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:158/1:ضعیف]‏‏‏‏
«لِبَاسُ التَّقْوَىٰ» کی دوسری قرأت «لِبَاسَ التَّقْوَىٰ» سین کے زبر سے بھی ہے -رفع سے پڑھنے والے اسے مبتدا کہتے ہیں اور اس کے بعد کا جملہ اس کی خبر ہے -عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے مراد قیامت کے دن پرہیزگاروں کو جو لباس عطا ہو گا، وہ ہے۔
ابن جریج کا قول ہے: لباس تقویٰ ایمان ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عمل صالح ہے اور اسی سے ہنس مکھ ہوتا ہے۔
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مراد اس سے مشیت ربانی ہے۔ عبدالرحمٰن کہتے رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کے ڈر سے اپنی ستر پوشی کرنا لباس تقویٰ ہے۔
یہ کل اقوال آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ مراد یہ سب کچھ ہے اور یہ سب چیزیں ملی جلی اور آپس میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔
ایک ضعیف سند والی روایت میں حسن سے مرقوم ہے کہ { میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو منبر نبوی پر کھلی گھنڈیوں کا کرتا پہنے ہوئے کھڑا دیکھا۔ اس وقت آپ کتوں کے مار ڈالنے اور کبوتر بازی کی ممانعت کا حکم دے رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: لوگو اللہ سے ڈرو! خصوصاً اپنی پوشیدگیوں میں اور چپکے چپکے کانا پھوسی کرنے میں۔ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ قسم کھا کر بیان فرماتے تھے کہ جو شخص جس کام کو پوشیدہ سے پوشیدہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسی کی چادر اس پر اعلانیہ ڈال دے گا۔ اگر نیک ہے تو نیک اور اگر بد ہے تو بد۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14451:ضعیف]‏‏‏‏ اور فرمایا اس سے مراد خوش خلقی ہے۔ }
ہاں صحیح حدیث میں صرف اتنا مروی ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر کتوں کے قتل کرنے اور کبوتروں کے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ } ۱؎ [مسند احمد:72/1:ضعیف]‏‏‏‏