ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 204

وَ اِذَا قُرِیَٔ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 204) {وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ …:} قرآن کی عظمت بیان کرنے کے بعد اب اس سے فائدہ اٹھانے کے آداب کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے کہ اس کے پڑھے جانے کے وقت استماع اور انصات ضروری ہے، سو توجہ اور خاموشی سے سنو، تاکہ تم پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہو جائے۔ یہ ان ضد اور عناد کے مارے ہوئے کفار کو نصیحت ہے جن کا ذکر مسلسل چلا آ رہا ہے اور جو ہمیشہ نئے سے نئے معجزے کا مطالبہ کرتے اور جب قرآن پڑھا جاتا تو شور مچا کر دوسروں کو بھی سننے سے روکتے اور اس بے ہودہ طریقے سے غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ حم السجدہ (۲۶) میں فرمایا: اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔ اس آیت میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں جو کفار نے کہیں، پہلی یہ کہ اس قرآن کو مت سنو، دوسری یہ کہ اس میں شور کرو، تیسری یہ کہ تاکہ تم غالب رہو، اس کے جواب میں سورۂ اعراف کی زیر تفسیر آیت: «{ وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ میں تین باتوں کی تلقین فرمائی، چنانچہ { لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ } کے جواب میں{ فَاسْتَمِعُوْا } فرمایا، یعنی کان لگا کر سنو اور{ وَ الْغَوْا فِيْهِ } یعنی شوروغل کرو کے جواب میں { اَنْصِتُوْا } یعنی خاموش رہو فرمایا اور { لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ } کے جواب میں فرمایا { لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ } تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تمھیں قرآن سنایا جائے تو شوروغل کے بجائے کان لگا کر خاموشی سے سنو۔ یہ حکم عام ہے، کافر ہوں یا مسلمان، سب کو قرآن مجید توجہ سے سننا چاہیے۔ خصوصاً نماز اور خطبہ جمعہ میں تو خاموش رہنا فرض ہے، جس کے دلائل حدیث میں موجود ہیں۔ ہاں، اگر کوئی اپنے طور پر قرآن پڑھ رہا ہے تو سب کچھ چھوڑ کر اسے سننا ضروری نہیں، ورنہ ایک مسجد کے سپیکر سے قرآن کی تلاوت پوری بستی کو خاموش کرانے کے لیے کافی ہو گی۔ بعض لوگ اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے، مگر یہ استدلال بالکل بے محل ہے، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور ماقبل سے مشرکین سے خطاب چلا آ رہا ہے، اس لیے نظم قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں بھی مشرکین ہی مخاطب ہوں، اگر اس آیت کو عام بھی مان لیا جائے تو اصولِ فقہ کی رو سے حدیث [لاَ صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ] (جسے امام بخاری نے متواتر قرار دیا ہے) کے ساتھ سورۂ فاتحہ کی تخصیص ہو جائے گی، کیونکہ اس کے بغیر امام، منفرد، مقتدی کسی کی بھی نماز نہیں ہوتی۔ مقتدی آواز کے بغیر پڑھے تو خاموشی کے خلاف بھی نہیں۔
جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ جمعہ میں خاموش رہ کر غور سے سننے کا حکم دیا، اس کے باوجود صحیح مسلم (۵۹؍۸۷۵) میں جابر رضی اللہ عنہ سے آپ کا یہ حکم مروی ہے: تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور انھیں مختصر پڑھے۔ اب ظاہر ہے کہ اس کا دو رکعتیں پڑھنا خاموشی کے خلاف نہیں، ورنہ اس صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے دوران میں ہر آنے والے شخص کو دو رکعتیں پڑھنے کا حکم نہ دیتے، مگر آپ کے حکم کی وجہ سے خطبہ کے دوران میں آنے پر دو رکعتیں پڑھنا ہوں گی، اسی طرح امام کے پیچھے فاتحہ بھی پڑھنی ہو گی اور خاموشی بھی قائم رہے گی۔ تعجب اس بات پر ہے کہ بعض لوگ اس وقت بھی مقتدی کو کچھ نہ پڑھنے کا حکم دیتے ہیں جب امام بلند آواز سے قراء ت نہ کر رہا ہو۔ فرمائیے! اس کے ساتھ اس آیت کا کیا تعلق ہے؟ پھر ہمارے بعض بھائی امام کی قراء ت سنتے ہوئے صبح کی سنتیں پڑھتے رہتے ہیں، مگر انھیں اس وقت یہ آیت یاد نہیں آتی اور سب سے زیادہ تعجب تو ان کی اس بات پر ہے کہ ان کے ہاں سورۂ فاتحہ امام، منفرد، یا مقتدی کسی کے لیے بھی نماز میں فرض نہیں۔ قرآن کی کوئی بھی ایک آیت پڑھ لینے سے نماز ہو جائے گی۔ بتائیے! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ جو سورۂ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں یہ امام، منفرد یا مقتدی میں سے کسی کے لیے نہیں تو اس کا مخاطب کون ہو گا؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

24۔ 1 یہ ان کافروں کو کہا جارہا ہے، جو قرآن کی تلاوت کرتے وقت شور کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے (لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ) 41۔ فصلت:26) یہ قرآن مت سنو اور شور کرو، ان سے کہا گیا کہ اس کی بجائے تم اگر غور سے سنو اور خاموش رہو تو شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نواز دے۔ اور یوں تم رحمت الٰہی کے مستحق بن جاؤ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

204۔ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو [202] شاید کہ تم پر رحم کیا جائے
[202] قرآن کا سننا باعث رحمت ہے:۔
مشرکین مکہ نے جیسے مسلمانوں پر یہ پابندی عائد کر رکھی تھی کہ وہ بیت اللہ میں داخل ہو کر نہ نماز ادا کر سکتے ہیں اور نہ طواف کر سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ پابندی بھی لگا رکھی تھی کہ مسلمان نماز میں قرآن بلند آواز سے نہ پڑھا کریں کیونکہ اس طرح ان کے بچے اور ان کی عورتیں قرآن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ دوسرے انہوں نے آپس میں سمجھوتہ کر رکھا تھا کہ ہم میں سے کوئی شخص قرآن نہ سنے۔ اگرچہ قرآن کی فصاحت و بلاغت اور شیریں انداز کلام سے وہ خود بھی متاثر ہو کر اپنی اس تدبیر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کبھی کبھی قرآن سن لیا کرتے تھے۔ اور قرآن کی دعوت کو روکنے کے لیے ان کی تیسری تدبیر یہ تھی کہ جہاں قرآن پڑھا جا رہا ہو وہاں خوب شور و غل کیا جائے تاکہ قرآن کی آواز کسی کے کانوں میں نہ پڑ سکے اس طرح تم اپنے مشن میں کامیاب ہو سکتے ہو۔ [41: 26] اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس روش کو چھوڑ دو اور ذرا غور سے سنو تو سہی کہ اس میں کیا تعلیم دی گئی ہے کیا عجب کہ تم خود بھی اسی رحمت کے حصہ دار بن جاؤ جو ایمان لانے والوں کو نصیب ہو چکی ہے۔ مخالفین کی معاندانہ سرگرمیوں کے مقابلہ میں یہ ایسا دل نشین انداز تبلیغ ہے جس سے ایک داعی حق کو بہت سے سبق مل سکتے ہیں۔
قرآن کو خاموشی سے سننا:۔
اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ مسلم اور غیر مسلم سب کے لیے عام ہے اور اس سے یہ بات بھی مستنبط ہوتی ہے کہ جہاں قرآن پڑھا اور سنا جاتا ہو وہاں اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک مسئلہ یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب جہری نمازوں میں امام قرأت کر رہا ہو تو مقتدی کو بھی بالخصوص سورۃ فاتحہ ساتھ ساتھ دل میں پڑھنی چاہیے یا نہیں۔ اس مسئلہ میں اگرچہ بعض علماء نے اختلاف کیا ہے تاہم ہمارے خیال میں اس مسئلہ میں وہ حدیث قول فیصل کا حکم رکھتی ہے جو سورۃ فاتحہ کے حاشیہ نمبر 1 میں درج کی جا چکی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ٭٭
چونکہ اوپر کی آیت میں بیان تھا کہ یہ قرآن لوگوں کے لیے بصیرت و بصارت ہے اور ساتھ ہی ہدایت اور رحمت ہے۔ اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ جل و علا حکم فرماتا ہے کہ اس کی عظمت اور احترام کے طور پر اس کی تلاوت کے وقت کان لگا کر اسے سنو۔ ایسا نہ کرو جیسا کفار قریش نے کیا کہ وہ کہتے تھے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:26]‏‏‏‏ ’ اس قران کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور و غل مچا دو۔ ‘
اس کی اور زیادہ تاکید ہو جاتی ہے جبکہ فرض نماز میں امام با آواز بلند قرأت پڑھتا ہو۔
جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ { امام اقتداء کئے جانے کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔ جب وہ تکبیر کہے، تم تکبیر کہو اور جب وہ پڑھے، تم خاموش رہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:404]‏‏‏‏
اسی طرح سنن میں بھی یہ حدیث بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے۔ امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے اور اپنی کتاب میں نہیں لائے ـ
(‏‏‏‏یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو خاموش رہنے کا حکم ہے، یہ صرف اس قرأت کے لئے ہے جو الحمد (‏‏‏‏سورۃ الفاتحہ) کے سوا ہو)۔
جیسے کہ طبرانی کبیر میں صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: «مَنْ صَلَّی خَلْفَ اَلاِمَاْم فَلیَقَرَْا بِفَاتِحَۃ الکِتَْابِ» یعنی جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو، وہ سورۃ فاتحہ ضرور پڑھ لے۔
پس سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم ہے اور قرأت کے وقت خاموشی کا حکم ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ (‏‏‏‏مترجم)
اس آیت کے شان نزول کے متعلق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ پہلے نماز پڑھتے ہوئے باتیں بھی کر لیا کرتے تھے، تب یہ آیت اتری۔
اور دوسری آیت میں چپ رہنے کا حکم کیا گیا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے ہم آپس میں ایک دوسرے کو سلام کیا کرتے تھے، پس یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15593:ضعیف]‏‏‏‏ آپ نے ایک مرتبہ نماز میں لوگوں کو امام کے ساتھ ہی ساتھ پڑھتے ہوئے سن کر فارغ ہو کر فرمایا کہ تم اب تک اس با کو سمجھ نہیں سکے، جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور چپ رہو۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15592:ضعیف]‏‏‏‏
(‏‏‏‏واضح رہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے میں اس سے مراد امام کے با آواز بلند الحمد کے سوا دوسری قرأت کے وقت مقتدی کا خاموش رہنا ہے، نہ کہ پست آواز کی قرأت والی نماز میں، اور بلند آواز کی قرأت والی نماز میں الحمد سے خاموشی (‏‏‏‏نہیں مراد، کیونکہ) امام کے پیچھے الحمد تو خود آپ بھی پڑھا کرتے تھے۔ جیسے کہ جزاء القراۃ بخاری میں ہے: «انہ قرا فی العصر خلف الا مام فی الرکعتین الاولیین بام القران و سورۃ» یعنی آپ نے امام کے پیچھے عصر کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ الحمد بھی پڑھی اور دوسری سورت بھی ملائی۔ پس آپ کے مندرجہ بالا فرمان کا مطلب صرف اسی قدر ہے کہ جب امام اونچی آواز سے قرأت کرے تو مقتدی الحمد کے سوا دوسری قرأت کے وقت سنے اور چپ رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس انصاری نوجوان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کی عادت تھی کہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سے کچھ پڑھتے، یہ بھی اسے پڑھتا۔ پس یہ آیت اتری۔
مسند احمد اور سنن میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہو کر پلٹے جس میں آپ نے باآواز بلند قرأت پڑھی تھی۔ پھر پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ پڑھا تھا؟ ایک شخص نے کہا: ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا تھا کہ یہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن کی چھینٹا جھپٹی ہو رہی ہے؟ } ۱؎ [سنن ابوداود:826،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
راوی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں جن میں آپ اونچی آواز سے قرأت پڑھا کرتے تھے، قرأت سے رک گئے جبکہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا۔
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں اور ابوحاتم رازی اس کی تصحیح کرتے ہیں۔
(‏‏‏‏مطلب اس حدیث کا بھی یہی ہے کہ امام جب پکار کر قرأت پڑھے، اس وقت مقتدی سوائے الحمد کے کچھ نہ پڑھے کیونکہ ایسی ہی روایت ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، موطا امام مالک، مسند احمد وغیرہ میں ہے، جس میں ہے کہ جب آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا «لا تفعلوا الا بفاتحۃ فانہ لاصلوۃ لمن لم یقراء بھا» یعنی ایسا نہ کیا کرو، صرف سورۃ فاتحہ پڑھو کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا، اس کی نماز نہیں ہوتی۔ پس لوگ اونچی آواز والی قرأت کی نماز میں جس قرأت سے رک گئے، وہ الحمد کے علاوہ تھی کیونکہ اسی سے روکا تھا، اسی سے صحابہ رضی اللہ عنہم رک گئے۔ الحمد تو پڑھنے کا حکم دیا تھا، بلکہ ساتھ ہی فرما دیا تھا کہ اس کے بغیر نماز ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
زہری کا قول ہے کہ امام جب اونچی آواز سے قرأت پڑھے تو انہیں امام کی قرأت کافی ہے، امام کے پیچھے والے نہ پڑھیں۔ گو انہیں امام کی آواز سنائی بھی نہ دے۔ ہاں! البتہ جب امام آہستہ آواز سے پڑھ رہا ہو، اس وقت مقتدی بھی آہستہ پڑھ لیا کریں اور کسی کو لائق نہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ پڑھے، خواہ جہری نماز ہو خواہ سری۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم اسے سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ علماء کے ایک گروہ کا مذہب ہے کہ جب امام اونچی آواز سے قرأت کرے تو مقتدی پر نہ سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے، نہ کچھ اور۔
امام شافعی رحمہ اللہ کے دو اقوال جن میں سے ایک قول یہ بھی ہے لیکن یہ ان کا پہلا قول ہے جیسے کہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب۔ ایک اور روایت میں امام احمد کا بہ سبب ان دلائل کے جن کا ذکر گزر چکا۔ یعنی نیا دوسرا قول آپ کا یہ ہے: مقتدی صرف سورۃ فاتحہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لے جبکہ صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمۃ اللہ علیہم اور ان کے بعد والے گروہ کا بھی یہی فرمان ہے۔
امام ابوحنیفہ اور امام احمد فرماتے ہیں: مقتدی پر مطلقاً قرأت واجب نہیں، نہ اس نماز میں جس میں امام آہستہ قرأت پڑھے اور نہ اس میں جس میں بلند آواز سے قرأت پڑھے۔
اس لیے کہ حدیث میں ہے: { امام کی قرأت مقتدیوں کی بھی قرأت ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:850، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
اسے امام احمد نے اپنی مسند میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
یہی حدیث موطا امام مالک میں موقوفاً مروی ہے اور یہی صحیح ہے یعنی یہ قول سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ہونا زیادہ صحیح ہے، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان (‏‏‏‏لیکن یہ بھی یاد رہے کہ خود سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ابن ماجہ میں مروی ہے کہ «کنا نقرا فی الظھر والعصر خلف الامام فی الرکعتین الاولیین بفاتحۃ الکتاب وسورۃ وفی الاخریین بفاتحۃ الکتاب» یعنی ہم ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ بھی پڑھتے تھے اور کوئی اور سورت بھی اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جو فرمایا کہ امام کی قرأت اسے کافی ہے، اس سے مراد سورۃ الفاتحی کے علاوہ قرأت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
یہ مسئلہ اور جگہ نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی خاص مسئلے پر امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اور اس میں ثابت کیا ہے کہ ہر نماز میں خواہ اس میں قرأت اونچی پڑھی جاتی ہو یا آہستہ، مقتدیوں پر سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ آیت فرض نماز کے بارے میں ہے۔
طلحہ کا بیان ہے کہ عبید بن عمر اور عطاء بن ابی رباح کو میں نے دیکھا کہ واعظ وعظ کہہ رہا تھا اور وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے تو میں نے کہا: تم اس وعظ کو نہیں سنتے اور وعید کے قابل ہو رہے ہو؟ انہوں نے میری طرف دیکھا، پھر باتوں میں مشغول ہو گئے۔ میں نے پھر یہی کہا، انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر باتوں میں مشغول ہو گئے۔ میں نے پھر یہی کہا، انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر اپنی باتوں میں لگ گئے، میں نے پھر تیسری مرتبہ ان سے یہی کہا۔ تیسری بار انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: یہ نماز کے بارے میں ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز کے سوا جب کوئی قرآن کریم پڑھ رہا ہو تو کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور بھی بہت سے بزرگوں کا فرمان ہے کہ مراد اس سے نماز میں ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ آیت نماز اور جمعہ کے خطبے کے بارے میں ہے۔ عطاء رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز میں اور ذکر کے وقت۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عید الاضحیٰ، عید الفطر، جمعہ کے دن اور جن نمازوں میں امام اونچی قرأت پڑھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ مراد اس سے نماز میں اور خطبے میں چپ رہنا ہے جیسے کہ حکم ہوا ہے۔ امام کے پیچھے خطبے کی حالت میں چپ رہو۔
مجاہد رحمہ اللہ نے اسے مکروہ سمجھا کہ جب امام خوف کی آیت یا رحمت کی آیت تلاوت کرے تو اس کے پیچھے سے کوئی شخص کچھ کہے بلکہ خاموشی کے لیے کہا۔ (‏‏‏‏حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی خوف کی آیت سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب کبھی کسی رحمت کے بیان والی آیت سے گزرتے تو اللہ سے سوال کرتے۔ مترجم)
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب تو قرآن سننے بیٹھے تو اس کے احترام میں خاموش رہا کر۔
مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جو شخص کان لگا کر کتاب اللہ کی کسی آیت کو سنے تو اس کے لیے کثرت سے بڑھنے والی نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر اسے پڑھے تو اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:341/2:ضعیف]‏‏‏‏