تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { هٰذَا بَصَآىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ …:} اس میں اشارہ ہے کہ قرآن کریم ہی بڑا کافی معجزہ ہے، اس کے ہوتے ہوئے مزید معجزوں کی طلب محض نہ ماننے کا بہانہ ہے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۵۰، ۵۱) پھر یہاں قرآن کے تین بڑے اوصاف بیان فرمائے ہیں، جو صرف اس معجزے کی خصوصیت ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان قرآن ہے «اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:4] ’ اگر ہم چاہتے تو کوئی نشان ان پر آسمان سے اتارتے جس سے ان کی گردنین جھک جاتیں۔ ‘
وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے رہتے تھے کہ جو ہم مانگتے ہیں، وہ معجزہ اپنے رب سے طلب کر کے ہمیں ضرور دکھا دیجئے۔ تو حکم دیا کہ ان سے فرما دیجئے کہ میں تو اللہ کی باتیں ماننے والا اور ان پر عمل کرنے والا وحی الٰہی کا تابع ہوں، میں اس کی جناب میں کوئی گستاخی نہیں کر سکتا، آگے نہیں بڑھ سکتا۔ جو حکم دے، صرف اسے بجا لاتا ہوں۔ اگر کوئی معجزہ وہ عطا فرمائے، دکھا دوں۔ جو وہ ظاہر نہ فرمائے، اسے میں لا نہیں سکتا۔ میرے بس میں کچھ نہیں۔ میں اس سے معجزہ طلب نہیں کیا کرتا، مجھ میں اتنی جرات نہیں، ہاں اس کی اجازت پا لیتا ہوں تو اس سے دعا کرتا ہوں۔ وہ حکمتوں والا اور علم والا ہے۔
میرے پاس تو میرے رب کا سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جو سب سے زیادہ واضح دلیل، سب سے زیادہ سچی حجت اور سب سے زیادہ روشن برہان ہے۔ جو حکمت، ہدایت اور رحمت سے پر ہے۔ اگر دل میں ایمان ہے تو اس اچھے، سچے، عمدہ اور اعلیٰ معجزے کے بعد دوسرے معجزے کی طلب باقی ہی نہیں رہتی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لا يزال هؤلاء المكذِّبون لك في تعنُّت وعناد، ولو جاءتهم الآيات الدالَّة على الهدى والرشاد؛ فإذا جئتهم بشيء من الآيات الدالَّة على صدقك؛ لم ينقادوا. {وإذا لم تأتهم بآيةٍ}: من آيات الاقتراح التي يعيِّنونها، {قالوا لولا اجتبيتها}؛ أي: هلاَّ اخترت الآية فصارت الآية الفلانية أو المعجزة الفلانية، كأنك أنت المنزِّل للآيات المدبِّر لجميع المخلوقات، ولم يعلموا أنه ليس لك من الأمر شيء، أو [أنّ المعنى]: لولا اخترعتها من نفسك، {قل إنَّما أتَّبع ما يوحى إليَّ من ربي}: فأنا عبدٌ مُتَّبِعٌ مدبَّر، والله تعالى هو الذي ينزل الآيات ويرسلها على حسب ما اقتضاه حمده، وَطَلبَتْهُ حكمته البالغة؛ فإن أردتم آية لا تضمحلُّ على تعاقب الأوقات وحجة لا تبطل في جميع الآنات؛ فهذا: القرآن العظيم والذكر الحكيم.
{بصائرُ من ربِّكم}: يستبصر به في جميع المطالب الإلهيَّة والمقاصد الإنسانيَّة، وهو الدليل والمدلول؛ فمن تفكَّر فيه وتدبَّره؛ علم أنه تنزيلٌ من حكيم حميدٍ، لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه، وبه قامت الحجَّة على كلِّ من بلغه، ولكن أكثر الناس لا يؤمنون، وإلاَّ؛ فمن آمن؛ فهو {هدىً} له من الضلال {ورحمةٌ} له من الشقاء؛ فالمؤمن مهتدٍ بالقرآن، متَّبع له، سعيدٌ في دنياه وأخراه، وأما من لم يؤمنْ به؛ فإنه ضالٌّ شقيٌّ في الدنيا والآخرة.