یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرۡسٰہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ ۚ لَا یُجَلِّیۡہَا لِوَقۡتِہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕۘؔ ثَقُلَتۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا تَاۡتِیۡکُمۡ اِلَّا بَغۡتَۃً ؕ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنۡہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾
وہ تجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں اس کا قیام کب ہوگا؟ کہہ دے اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے، اسے اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا، وہ آسمانوں اور زمین میں بھاری واقع ہوئی ہے، تم پر اچانک ہی آئے گی۔ تجھ سے پوچھتے ہیں جیسے تو اس کے بارے میں خوب تحقیق کرنے والا ہے۔ کہہ دے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ﻇاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادﺛہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 187) ➊ {يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا: ” السَّاعَةِ “} ایک گھڑی، لمحہ، پل یا سیکنڈ، کیونکہ قیامت اچانک ایک ہی لمحے میں برپا ہو جائے گی۔ {” اَيَّانَ “} زیادہ صحیح یہی ہے کہ {”اَيٌّ “} سے {”فَعْلَانَ“} کا وزن ہے، ظرف زمان بمعنی {”مَتٰي“} یعنی کب۔ {” مُرْسٰىهَا “} یہ {”اَرْسٰي يُرْسِيْ“} باب افعال سے مصدر میمی ہے، لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے، زیادہ تر بہت بھاری چیز کے ٹھہرنے، گڑ جانے، گاڑ دینے اور ٹھہرا دینے کو کہتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَا }» [النازعات: ۳۲] ”اور پہاڑ، اس نے انھیں گاڑ دیا۔“ {” اَرْسَتِ السَّفِيْنَةُ “} ”بحری جہاز لنگر انداز ہوا۔“ {” اَيَّانَ مُرْسٰىهَا “} کا معنی ہے {” اَيَّانَ وُقُوْعُهَا “} کہ اس کا واقع ہونا کب ہے؟ (قاموس) توحید، نبوت اور قضا و قدر کے بعد اب چوتھی چیز قیامت کے بارے میں بات ہو رہی ہے، کیونکہ قرآن میں یہ چاروں چیزیں اصل بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔
➋ {قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ …: ” اِنَّمَا “} کلمۂ حصر ہے، یعنی اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اس نے یہ بات نہ کسی مقرب فرشتے کو بتائی ہے نہ کسی نبی مرسل کو۔ دیکھیے سورۂ نازعات (۴۴) اور نمل (۶۶)۔
➌ {ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ اس کی ہیبت سے زمین و آسمان لرزتے ہیں، کیونکہ وہ سب اس وقت زیر و زبر ہو جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ تکویر، انفطار، انشقاق، قمر (۴۶) اور حج (۱، ۲) دوسرا یہ کہ اس کا علم زمین و آسمان سے بھی برداشت نہیں ہو سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے ”الفوز الکبیر“ میں اس کا معنی {” خَفِيَتْ “ } کیا ہے، یعنی وہ آسمانوں اور زمین میں کسی کو معلوم نہیں۔ابن جزی نے فرمایا: {” ثَقُلَتْ ثَقُلَ عِلْمُنَا اَيْ خَفِيَ“} یعنی اس کا علم مخفی ہے۔
➍ { لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً:} بے شک اس کی علاماتِ عامہ اور علاماتِ خاصہ، مثلاً دجال، دابہ، یاجوج ماجوج کا خروج اور عیسیٰ علیہ السلام کا نزول وغیرہ بتائی گئی ہیں، مگر ان واقعات میں سے بھی کوئی اس کا عین مقرر وقت نہیں کہ اس کے ساتھ ہی قیامت آ جائے، اصل وقت صرف اللہ کے پاس ہے اور وہ اچانک یک لخت آئے گا۔
➎ { يَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا: ” حَفِيٌّ “} اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جس نے کسی چیز کے متعلق بار بار پوچھ کر اچھی طرح اس کا علم حاصل کر رکھا ہو، یعنی یہ لوگ آپ سے بار بار اس طرح پوچھتے ہیں جیسے آپ نے بڑی کرید اور جستجو کے بعد اس کا پورا پورا علم حاصل کر لیا ہے۔
➋ {قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ …: ” اِنَّمَا “} کلمۂ حصر ہے، یعنی اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اس نے یہ بات نہ کسی مقرب فرشتے کو بتائی ہے نہ کسی نبی مرسل کو۔ دیکھیے سورۂ نازعات (۴۴) اور نمل (۶۶)۔
➌ {ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ اس کی ہیبت سے زمین و آسمان لرزتے ہیں، کیونکہ وہ سب اس وقت زیر و زبر ہو جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ تکویر، انفطار، انشقاق، قمر (۴۶) اور حج (۱، ۲) دوسرا یہ کہ اس کا علم زمین و آسمان سے بھی برداشت نہیں ہو سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے ”الفوز الکبیر“ میں اس کا معنی {” خَفِيَتْ “ } کیا ہے، یعنی وہ آسمانوں اور زمین میں کسی کو معلوم نہیں۔ابن جزی نے فرمایا: {” ثَقُلَتْ ثَقُلَ عِلْمُنَا اَيْ خَفِيَ“} یعنی اس کا علم مخفی ہے۔
➍ { لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً:} بے شک اس کی علاماتِ عامہ اور علاماتِ خاصہ، مثلاً دجال، دابہ، یاجوج ماجوج کا خروج اور عیسیٰ علیہ السلام کا نزول وغیرہ بتائی گئی ہیں، مگر ان واقعات میں سے بھی کوئی اس کا عین مقرر وقت نہیں کہ اس کے ساتھ ہی قیامت آ جائے، اصل وقت صرف اللہ کے پاس ہے اور وہ اچانک یک لخت آئے گا۔
➎ { يَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا: ” حَفِيٌّ “} اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جس نے کسی چیز کے متعلق بار بار پوچھ کر اچھی طرح اس کا علم حاصل کر رکھا ہو، یعنی یہ لوگ آپ سے بار بار اس طرح پوچھتے ہیں جیسے آپ نے بڑی کرید اور جستجو کے بعد اس کا پورا پورا علم حاصل کر لیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
187۔ 1 سَاعَۃ، ُ کے معنی ہیں گھڑی (لمحہ یا پل) کے ہیں قیامت کو ساعۃ اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ اچانک اس طرح آجائے گی کہ پل بھر میں ساری کائنات درہم برہم ہوجائے گی یا سرعت حساب کے اعتبار سے قیامت کی گھڑی کو ساعۃ سے تعبیر کیا گیا۔ 187۔ 2 اَرْسَیٰ یُرْسِیْ کے معنی اثبات و وقوع کے ہیں، یعنی کب یہ قیامت ثابت یا واقع ہوگی۔ 187۔ 3 یعنی اس کا یقینی علم نہ کسی فرشتے کو ہے نہ کسی نبی کو، اللہ کے سوا اس کا علم کسی کے پاس نہیں، وہی اس کو اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔ 187۔ 4 اس کے ایک دوسرے معنی ہیں۔ اس کا علم آسمان اور زمین والوں پر بھاری ہے، کیونکہ وہ پوشیدہ ہے اور پوشیدہ چیز لوگوں پر بھاری ہوتی ہے۔ 187۔ 5 حَفِی، ُ کہتے ہیں پیچھے پڑ کر سوال کرنے اور تحقیق کرنے کو۔ یعنی یہ آپ سے قیامت کے بارے میں اس طرح سوال کرتے ہیں کہ گویا آپ نے رب کے پیچھے پڑ کر اس کی بابت ضروری علم حاصل کر رکھا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
187۔ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ آپ ان سے کہئے: ”یہ بات تو میرا پروردگار ہی جانتا ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا اور یہ آسمانوں اور زمین کا بڑا بھاری [186] حادثہ ہو گا جو یکدم تم پر آن پڑے گا۔ لوگ آپ سے تو یوں پوچھتے ہیں جیسے آپ ہر وقت اس کی ٹوہ میں لگے ہوئے [187] ہیں۔ ان سے کہئے کہ اس کا علم اللہ ہی کو ہے مگر اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے
[186] قیامت اچانک آئے گی:۔
قیامت کے اس بڑے حادثہ کی بہت سی علامات قرآن میں مذکور ہیں مثلاً زمین میں شدید زلزلے اور متواتر جھٹکے آئیں گے اور انسان حیرت سے یہ پوچھے گا کہ آج اس زمین کو کیا ہو گیا ہے ستارے بے نور ہو جائیں گے، سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ادھر ادھر اڑنے لگیں گے اور ایسی ہی بہت سی باتیں یکدم ظاہر ہونے لگیں گی۔ اور سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت (یوں اچانک) واقع ہو گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور وہ اس کی خرید و فروخت نہ کر سکیں گے نہ اسے لپیٹ سکیں گے اور ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دھو کر لوٹ رہا ہو گا مگر وہ اسے پی نہ سکے گا اور ایک آدمی اپنا حوض درست کر رہا ہو گا مگر وہ اس میں سے اپنے جانوروں کو پانی نہ پلا سکے گا اور ایک آدمی اپنا نوالہ منہ کی طرف اٹھائے ہو گا مگر وہ اسے کھا نہ سکے گا۔ [بخاري۔ كتاب الرقاق۔ باب طلوع الشمس من مغربها]
[187] قیامت کا وقت نہ بتلانے کا فائدہ:۔
لوگ آپ سے قیامت کا سوال اس طرح کرتے ہیں جیسے آپ اسی مسئلہ کی تحقیق و تفتیش اور کھوج میں لگے ہوئے ہیں اور تلاش کے بعد اس کے علم تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ حالانکہ قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور انبیاءؑ کسی ایسی بات کے پیچھے نہیں پڑا کرتے جس کا بتلانا اللہ تعالیٰ نے کسی خاص مصلحت کی بنا پر روک دیا ہو اور ظاہر ہے کہ اگر قیامت کا علم متعین تاریخ اور سن کے ساتھ دے دیا جاتا یا کسی کو اس کے موت کے وقت سے آگاہ کر دیا جاتا تو اس طرح یہ دنیا انسان کے لیے دار الامتحان نہ رہ سکتی تھی لہٰذا ان باتوں کا کسی نبی تک کو نہ بتلانا مشیت الٰہی کے عین مطابق ہے اور لوگوں کو ایسے سوال کے پیچھے ہرگز نہ پڑنا چاہیے۔ بلکہ اس کے لیے کچھ تیاری کرنا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قیامت کب اور کس وقت؟ ٭٭
یہ دریافت کرنے والے قریشی بھی تھے اور یہودی بھی۔ لیکن چونکہ یہ آیت مکی ہے اس لیے ٹھیک یہی ہے کہ قریشیوں کا سوال تھا چونکہ وہ قیامت کے قائل ہی نہ تھے، اس لیے اس قسم کے سوال کیا کرتے تھے کہ «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [21-الأنبياء:38] ’ اگر سچے ہو تو اس کا ٹھیک وقت بتا دو۔ ‘
«يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ’ ادھر بےایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں، ادھر ایماندار اسے حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جنہیں اس میں بھی شک ہے، دوردراز کی گمراہی میں تو وہی ہیں۔ ‘
«يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا» ۱؎ [33-الأحزاب:63] ’ پوچھا کرتے تھے کہ قیامت واقع کب ہو گی؟ جواب سکھایا گیا کہ اس کے صحیح وقت کا علم سوائے اللہ کے، کسی کو نہیں۔ ‘
وہی اس کے صحیح وقت سے واقف ہے، بجز اس کے، کسی کو اس کے واقع ہونے کا وقت معلوم نہیں۔ اس کا علم زمین و آسمان پر بھی بھاری ہے، ان کے رہنے والی ساری مخلوق اس علم سے خالی ہے۔ وہ جب آئے گی، سب پر ایک ہی وقت واقع ہو گی، سب کو ضرر پہنچے گا۔
آسمان پھٹ جائے گا، ستارے جھڑ جائیں گے، سورج بے نور ہو جائے گا، پہاڑ اڑنے لگیں گے۔ اسی لیے وہ ساری مخلوق پر گراں گزر رہی ہے۔ اس کے واقع ہونے کے صحیح وقت کا علم ساری مخلوق پر بھاری ہے، زمین و آسمان والے سب اس سے عاجز اور بےخبر ہیں۔ وہ تو اچانک سب کی بے خبری میں ہی آئے گی۔
کوئی بزرگ سے بزرگ فرشتہ، کوئی بڑے سے بڑا پیغمبر بھی اس کے آنے کے وقت کا عالم نہیں۔ وہ تو سب کی بے خبری میں ہی آ جائے گی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { دنیا کے تمام کام حسب دستور ہو رہے ہوں گے، جانوروں والے اپنے جانوروں کے پانی پینے والے حوض درست کر رہے ہوں گے، تجارت والے ناپ تول میں مشغول ہوں گے، قیامت آ جائے گی۔ }
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { قیامت قائم ہونے سے پہلے سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا، اسے دیکھتے ہی سب لوگ ایمان قبول کر لیں گے۔ لیکن اس وقت کا ایمان ان کے لیے بےسود ہو گا۔
«يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ’ ادھر بےایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں، ادھر ایماندار اسے حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جنہیں اس میں بھی شک ہے، دوردراز کی گمراہی میں تو وہی ہیں۔ ‘
«يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا» ۱؎ [33-الأحزاب:63] ’ پوچھا کرتے تھے کہ قیامت واقع کب ہو گی؟ جواب سکھایا گیا کہ اس کے صحیح وقت کا علم سوائے اللہ کے، کسی کو نہیں۔ ‘
وہی اس کے صحیح وقت سے واقف ہے، بجز اس کے، کسی کو اس کے واقع ہونے کا وقت معلوم نہیں۔ اس کا علم زمین و آسمان پر بھی بھاری ہے، ان کے رہنے والی ساری مخلوق اس علم سے خالی ہے۔ وہ جب آئے گی، سب پر ایک ہی وقت واقع ہو گی، سب کو ضرر پہنچے گا۔
آسمان پھٹ جائے گا، ستارے جھڑ جائیں گے، سورج بے نور ہو جائے گا، پہاڑ اڑنے لگیں گے۔ اسی لیے وہ ساری مخلوق پر گراں گزر رہی ہے۔ اس کے واقع ہونے کے صحیح وقت کا علم ساری مخلوق پر بھاری ہے، زمین و آسمان والے سب اس سے عاجز اور بےخبر ہیں۔ وہ تو اچانک سب کی بے خبری میں ہی آئے گی۔
کوئی بزرگ سے بزرگ فرشتہ، کوئی بڑے سے بڑا پیغمبر بھی اس کے آنے کے وقت کا عالم نہیں۔ وہ تو سب کی بے خبری میں ہی آ جائے گی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { دنیا کے تمام کام حسب دستور ہو رہے ہوں گے، جانوروں والے اپنے جانوروں کے پانی پینے والے حوض درست کر رہے ہوں گے، تجارت والے ناپ تول میں مشغول ہوں گے، قیامت آ جائے گی۔ }
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { قیامت قائم ہونے سے پہلے سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا، اسے دیکھتے ہی سب لوگ ایمان قبول کر لیں گے۔ لیکن اس وقت کا ایمان ان کے لیے بےسود ہو گا۔
{ جو اس سے پہلے ایمان نہ لائے ہوں اور جنہوں نے اس سے پہلے نیکیاں نہ کی ہوں۔ قیامت اس طرح دفعتاً آ جائے گی کہ ایک شخص کپڑا پھیلائے دوسرے کو دکھا رہا ہو گا اور دوسرا دیکھ رہا ہو گا، بھاؤ تاؤ ہو رہا ہو گا کہ قیامت واقع ہو جائے گی۔ نہ یہ خرید و فروخت کر سکیں گے، نہ کپڑے کی تہہ کر سکیں گے۔ کوئی دودھ دوہ کر آ رہا ہو گا، پی نہ سکے گا کہ قیامت آ جائے گی۔ کوئی حوض درست کر رہا ہو گا، ابھی جانوروں کو پانی نہ پلا چکا ہو گا کہ قیامت آ جائے گی۔ کوئی لقمہ اٹھائے ہوئے ہو گا، ابھی منہ میں نہ ڈالا ہو گا کہ قیامت آ جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6506]
صحیح مسلم شریف میں ہے: { آدمی دودھ کا کٹورا (برتن) اٹھا کر پینا چاہتا ہی ہو گا، ابھی منہ سے نہ لگا پائے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ کپڑے کے خریدار بھی سودا نہ کر چکے ہوں گے کہ قیامت آ جائے گی۔ حوض والے بھی لیپاپوتی کر رہے ہوں گے کہ قیامت برپا ہو جائے گی۔ }
تجھ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا تو ان کا سچا رفیق ہے، یہ تیرے پکے دوست ہیں۔ اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تجھے اس کا حال معلوم ہے حالانکہ کسی مقرب فرشتے یا نبی یا رسول کو اس کا علم ہرگز نہیں۔
قریشیوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو آپ کے قرابت دار ہیں، ہمیں تو بتا دیجئے کہ قیامت کب اور کس دن، کس سال آئے گی؟ اس طرح پوچھا کہ گویا آپ کو معلوم ہے۔ حالانکہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہی ہے۔ جیسے فرمان ہے: «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ» ۱؎ [31-لقمان:34] ’ قیامت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ ‘
یہی معنی زیادہ ترجیح والے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صحیح مسلم شریف میں ہے: { آدمی دودھ کا کٹورا (برتن) اٹھا کر پینا چاہتا ہی ہو گا، ابھی منہ سے نہ لگا پائے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ کپڑے کے خریدار بھی سودا نہ کر چکے ہوں گے کہ قیامت آ جائے گی۔ حوض والے بھی لیپاپوتی کر رہے ہوں گے کہ قیامت برپا ہو جائے گی۔ }
تجھ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا تو ان کا سچا رفیق ہے، یہ تیرے پکے دوست ہیں۔ اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تجھے اس کا حال معلوم ہے حالانکہ کسی مقرب فرشتے یا نبی یا رسول کو اس کا علم ہرگز نہیں۔
قریشیوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو آپ کے قرابت دار ہیں، ہمیں تو بتا دیجئے کہ قیامت کب اور کس دن، کس سال آئے گی؟ اس طرح پوچھا کہ گویا آپ کو معلوم ہے۔ حالانکہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہی ہے۔ جیسے فرمان ہے: «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ» ۱؎ [31-لقمان:34] ’ قیامت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ ‘
یہی معنی زیادہ ترجیح والے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
{ جبرائیل علیہ السلام نے بھی جب اعرابی کا روپ دھار کر سائل کی شکل میں آپ کے پاس بیٹھ کر آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف جواب دیا کہ اس کا علم نہ مجھے ہے، نہ تجھے۔ اس سے پہلے کے سوالات آپ بتا چکے تھے، اس سوال کے جواب میں اپنی لاعلمی ظاہر کر کے پھر سورۃ لقمان کی آخری آیت پڑھی کہ ان پانچ چیزوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یعنی علم قیامت، بارش کا آنا، مادہ کے پیٹ کے بچے کا حال، کل کے حالات، موت کی جگہ۔ ہاں! جب انہوں نے اس کی علامتیں پوچھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کو تلاوت فرمایا، جبکہ جبرائیل علیہ السلام آپ کے ہر جواب پر یہی فرماتے جاتے تھے کہ آپ نے سچ فرمایا۔ ان کے چلے جانے کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے تعجب سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون صاحب تھے؟ آپ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام تھے، تمہیں دین سکھانے آئے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:50]
جب کبھی وہ میرے پاس جس شکل میں بھی آئے، میں نے انہیں پہچان لیا لیکن اس مرتبہ تو میں خود اب تک نہ پہچان سکا تھا۔
(الحمداللہ میں نے اس کے تمام طریقے کل سندوں کے ساتھ پوری بحث کر کے بخاری شریف کی شرح کے اول میں ہی ذکر کر دیئے ہیں۔)
{ ایک اعرابی نے آ کر با آواز بلند آپ کا نام لے کر آپ کو پکارا، آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ اس نے کہا: قیامت کب ہو گی؟
جب کبھی وہ میرے پاس جس شکل میں بھی آئے، میں نے انہیں پہچان لیا لیکن اس مرتبہ تو میں خود اب تک نہ پہچان سکا تھا۔
(الحمداللہ میں نے اس کے تمام طریقے کل سندوں کے ساتھ پوری بحث کر کے بخاری شریف کی شرح کے اول میں ہی ذکر کر دیئے ہیں۔)
{ ایک اعرابی نے آ کر با آواز بلند آپ کا نام لے کر آپ کو پکارا، آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ اس نے کہا: قیامت کب ہو گی؟
{ آپ نے فرمایا: وہ آنے والی تو قطعاً ہے۔ تو بتا، تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ روزے نماز تو میرے پاس زیادہ نہیں۔ البتہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے اپنے دل کو لبریز پاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: انسان اسی کے ہمراہ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6567]
مومن اس حدیث کو سن کر بہت ہی خوش ہوئے کہ اس قدر خوشی انہیں اور کسی چیز پر نہیں ہوئی تھی۔
آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی آپ سے ایسا سوال کرے جس کی ضرورت نہ ہو تو آپ اسے وہ بات بتاتے جو اس سے کہیں زیادہ مفید ہو۔ اسی لیے اس سائل کو بھی فرمایا کہ وقت کا علم کیا فائدہ دے گا؟ ہو سکے تو تیاری کر لو۔
صحیح مسلم میں ہے کہ { اعراب لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کبھی قیامت کے بارے سوال کرتے تو آپ جو ان میں سب سے کم عمر ہوتا، اسے دیکھ کر فرماتے کہ اگر یہ اپنی طبعی عمر تک پہنچا تو اس کے بڑھاپے تک ہی تم اپنی قیامت کو پالو گے۔ اس سے مراد ان کی موت ہے جو آخرت کے برزخ میں پہنچا دیتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6511]
بعض روایات میں ان کے اس قسم کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علی الاطلاق یہی فرمانا بھی مروی ہے کہ اس نوعمر کے بڑھاپے تک قیامت آ جائے گی۔ یہ اطلاق بھی اسی تقلید پر مجمول ہو گا۔ یعنی مراد اس سے ان لوگوں کی موت کا وقت ہے۔
وفات سے ایک ماہ قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو؟ اس کے صحیح وقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ اس وقت روئے زمین پر جتنے متنفس ہیں، ان میں سے ایک بھی سو سال تک باقی نہ رہے گا ـ } [صحیح مسلم:2538] (مسلم)
مومن اس حدیث کو سن کر بہت ہی خوش ہوئے کہ اس قدر خوشی انہیں اور کسی چیز پر نہیں ہوئی تھی۔
آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی آپ سے ایسا سوال کرے جس کی ضرورت نہ ہو تو آپ اسے وہ بات بتاتے جو اس سے کہیں زیادہ مفید ہو۔ اسی لیے اس سائل کو بھی فرمایا کہ وقت کا علم کیا فائدہ دے گا؟ ہو سکے تو تیاری کر لو۔
صحیح مسلم میں ہے کہ { اعراب لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کبھی قیامت کے بارے سوال کرتے تو آپ جو ان میں سب سے کم عمر ہوتا، اسے دیکھ کر فرماتے کہ اگر یہ اپنی طبعی عمر تک پہنچا تو اس کے بڑھاپے تک ہی تم اپنی قیامت کو پالو گے۔ اس سے مراد ان کی موت ہے جو آخرت کے برزخ میں پہنچا دیتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6511]
بعض روایات میں ان کے اس قسم کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علی الاطلاق یہی فرمانا بھی مروی ہے کہ اس نوعمر کے بڑھاپے تک قیامت آ جائے گی۔ یہ اطلاق بھی اسی تقلید پر مجمول ہو گا۔ یعنی مراد اس سے ان لوگوں کی موت کا وقت ہے۔
وفات سے ایک ماہ قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو؟ اس کے صحیح وقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ اس وقت روئے زمین پر جتنے متنفس ہیں، ان میں سے ایک بھی سو سال تک باقی نہ رہے گا ـ } [صحیح مسلم:2538] (مسلم)
مطلب اس سے یہ ہے کہ سو سال تک اس زمانے کے موجود لوگوں سے یہ دنیا خالی ہو جائے گی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { معراج والی شب میری ملاقات موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ہوئی، وہاں قیامت کے وقت کا ذکر چلا تو ابراہیم علیہ السلام کی طرف سب نے بات کو جھکا دیا۔ آپ نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کا علم نہیں۔ سب موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، یہی جواب وہاں سے ملا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: اس کے واقع ہونے کا وقت تو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ ہاں! مجھ سے میرے رب نے فرما رکھا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ میرے ساتھ دو شاخیں ہوں گی، وہ مجھے دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا۔ آخر اللہ اسے میرے ہاتھوں ہلاک کرے گا یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان! یہاں میرے نیچے ایک کافر چھپا ہوا ہے، آ اور اسے قتل کر ڈال۔ جب اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کر دے گا، تب لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کو لوٹیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو کودتے پھلانگتے چاروں طرف پھیل جائیں گے۔ جہاں سے گزریں گے، تباہی پھیلا دیں گے۔ جس پانی سے گزریں گے، سب پی جائیں گے۔ آخر لوگ تنگ آ کر مجھ سے شکایت کریں گے۔ میں اللہ سے دعا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہلاک کر دے گا، ان کی لاشوں کا سڑاند پھیلے گی جس سے لوگ تنگ آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال آئے گی۔ پھر تو پہاڑ اڑنے لگیں گے اور زمین سکڑنے لگے گی۔ جب یہ سب کچھ ظاہر ہو گا، اس وقت قیامت ایسی قریب ہو گی جیسی پورے دن والی حاملہ عورت کے بچہ جننے کا زمانہ قریب ہوتا ہے کہ گھر کے لوگ ہوشیار رہتے ہیں کہ نہ جانے دن کو پیدا ہو جائے یا رات کو۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:4081،قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ابن ماجہ، مسند وغیرہ)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { معراج والی شب میری ملاقات موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ہوئی، وہاں قیامت کے وقت کا ذکر چلا تو ابراہیم علیہ السلام کی طرف سب نے بات کو جھکا دیا۔ آپ نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کا علم نہیں۔ سب موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، یہی جواب وہاں سے ملا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: اس کے واقع ہونے کا وقت تو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ ہاں! مجھ سے میرے رب نے فرما رکھا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ میرے ساتھ دو شاخیں ہوں گی، وہ مجھے دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا۔ آخر اللہ اسے میرے ہاتھوں ہلاک کرے گا یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان! یہاں میرے نیچے ایک کافر چھپا ہوا ہے، آ اور اسے قتل کر ڈال۔ جب اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کر دے گا، تب لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کو لوٹیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو کودتے پھلانگتے چاروں طرف پھیل جائیں گے۔ جہاں سے گزریں گے، تباہی پھیلا دیں گے۔ جس پانی سے گزریں گے، سب پی جائیں گے۔ آخر لوگ تنگ آ کر مجھ سے شکایت کریں گے۔ میں اللہ سے دعا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہلاک کر دے گا، ان کی لاشوں کا سڑاند پھیلے گی جس سے لوگ تنگ آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال آئے گی۔ پھر تو پہاڑ اڑنے لگیں گے اور زمین سکڑنے لگے گی۔ جب یہ سب کچھ ظاہر ہو گا، اس وقت قیامت ایسی قریب ہو گی جیسی پورے دن والی حاملہ عورت کے بچہ جننے کا زمانہ قریب ہوتا ہے کہ گھر کے لوگ ہوشیار رہتے ہیں کہ نہ جانے دن کو پیدا ہو جائے یا رات کو۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:4081،قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ابن ماجہ، مسند وغیرہ)
اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا علم کسی رسول کو بھی نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی اس کی علامات بیان فرماتے ہیں، نہ کہ مقررہ وقت۔ اس لیے کہ آپ احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کرنے اور دجال کو قتل کرنے اور اپنی دعا کی برکت سے یاجوج ماجوج کو ہلاک کرنے کے لئے اس امت کے آخر زمانے میں نازل ہوں گے جس کا علم اللہ نے آپ کو دے دیا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اس کا علم اللہ کے پاس ہی ہے۔ سوائے اس کے اسے اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں! میں تمہیں اس کی شرطیں بتلاتا ہوں، اس سے پہلے بڑے بڑے فتنے اور لڑائیاں ہوں گی، لوگوں کے خون ایسے سفید ہو جائیں گے کہ گویا کوئی کسی کو جانتا پہچانتا ہی نہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح لغیرہ] (مسند)
آپ اس آیت کے اترنے سے پہلے بھی اکثر قیامت کا ذکر فرماتے رہا کرتے تھے۔ پس غور کر لو کہ یہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم جو سید الرسل ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، نبی الرحمہ ہیں، نبی اللہ ہیں، الملحمہ ہیں، عاقب ہیں، مقفی ہیں، حاشر ہیں جن کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا۔
جن کا فرمان ہے کہ { میں اور قیامت اس طرح آئے ہیں اور آپ نے اپنی دونوں انگلیاں جوڑ کر بتائیں یعنی شہادت کی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6504] لیکن باوجود اس کے، قیامت کا علم آپ کو نہ تھا۔
آپ سے جب سوال ہوا تو یہی حکم ملا، جواب دو کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا» ۱؎ [79-النازعات:42] ’ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ ‘
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اس کا علم اللہ کے پاس ہی ہے۔ سوائے اس کے اسے اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں! میں تمہیں اس کی شرطیں بتلاتا ہوں، اس سے پہلے بڑے بڑے فتنے اور لڑائیاں ہوں گی، لوگوں کے خون ایسے سفید ہو جائیں گے کہ گویا کوئی کسی کو جانتا پہچانتا ہی نہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح لغیرہ] (مسند)
آپ اس آیت کے اترنے سے پہلے بھی اکثر قیامت کا ذکر فرماتے رہا کرتے تھے۔ پس غور کر لو کہ یہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم جو سید الرسل ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، نبی الرحمہ ہیں، نبی اللہ ہیں، الملحمہ ہیں، عاقب ہیں، مقفی ہیں، حاشر ہیں جن کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا۔
جن کا فرمان ہے کہ { میں اور قیامت اس طرح آئے ہیں اور آپ نے اپنی دونوں انگلیاں جوڑ کر بتائیں یعنی شہادت کی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6504] لیکن باوجود اس کے، قیامت کا علم آپ کو نہ تھا۔
آپ سے جب سوال ہوا تو یہی حکم ملا، جواب دو کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا» ۱؎ [79-النازعات:42] ’ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ ‘