تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس مبارک دعا میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء کے واسطے سے دعا کی گئی ہے اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام صرف ننانوے تک محدود نہیں ہیں۔ حدیثِ شفاعت میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضری کی اجازت ہو گی اور آپ سجدے میں گر جائیں گے تو اس وقت آپ اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا کریں گے جو صرف اسی وقت اللہ تعالیٰ آپ کو سکھائے گا۔ [بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «وجوہ یومئذ ناضرۃ…» : ۷۴۴۰۔ مسلم: ۱۹۴]
➋ {فَادْعُوْهُ بِهَا وَ ذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْۤ اَسْمَآىِٕهٖ:} اللہ کا ذاتی نام ایک ہی ہے اور وہ اللہ ہے، باقی صفاتی نام ہیں۔ فرمایا ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں کج روی اختیار کرتے، یعنی سیدھے راستے سے ہٹتے ہیں۔ سیدھے راستے سے ہٹنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے پاس سے اس کا کوئی نام رکھ لے، یا ایسے لفظ سے پکارے جس سے اللہ تعالیٰ کی شان میں کمی ہوتی ہو۔ بعض قوموں میں اللہ تعالیٰ کے ایسے نام رائج ہیں جو ایک سے زائد معبودوں میں سے کسی ایک پر بولے جاتے ہیں، مثلاً یزدان، بھگوان اور رام وغیرہ، ایسے نام اللہ تعالیٰ پر بولنے سے بچنا فرض ہے۔ سیدھے راستے سے ہٹنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کو بگاڑ کر بتوں کے نام رکھے جائیں، جسے اللات، العزیٰ اور منات کہ یہ لفظ اللہ، عزیز اور منان کی بگاڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ (ابن کثیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے کج روی کی ایک صورت یہ بھی لکھی ہے: ”اللہ تعالیٰ کے اسماء کو ٹونے ٹوٹکوں میں استعمال کیا جائے، ایسے لوگوں کو دنیوی مطلب اگرچہ حاصل ہوجائے مگر سزا ان کو ضرور ملے گی۔“ (موضح) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ان کے واضح معنی سے انکار کر دیا جائے (یہ تعطیل ہے)، یا تحریف کر دی جائے اور اسے تاویل کا نام دیا جائے، یا ان کو مخلوق کے مشابہ سمجھا جائے (یہ تشبیہ ہے)، یا کہا جائے کہ معلوم ہی نہیں ان کا معنی کیا ہے (یہ تفویض ہے) بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان صفات پر مشتمل الفاظ کا جو معنی ہے وہ سب کو معلوم ہے، مثلاً {” سَمِيْعٌ“} کا معنی سننے والا ہے، مگر وہ اس طرح ہے جس طرح اللہ کی شان کے لائق ہے۔ رہا یہ کہ وہ کیسے ہے؟ اس کی کیفیت کیا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دی جائے۔ عربی زبان میں اللہ تعالیٰ کے کسی صفاتی نام کا اگر ترجمہ اپنی زبان میں کر دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، مثلاً رب کو پروردگار، یا پالنے والا، رزاق کو روزی دینے والا کہہ دیا جائے تو یہ جائز ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور اللہ تعالیٰ کے ان ناموں یا صفات میں کجروی کا ہی دوسرا نام الحاد ہے اور الحاد کی کئی قسمیں ہیں مثلاً ایک یہ کہ جو صفات اللہ تعالیٰ سے مختص ہیں وہ کسی دوسرے میں بھی تسلیم کرنا جیسے کسی اور کو بھی عالم الغیب یا رزاق اور داتا اور حاجت روا، مشکل کشا اور کار ساز سمجھنا اور دوسرے یہ کہ انہیں ناموں سے استدلال کر کے باطل چیزوں کے امکان پر بحث کرنا جیسے مثلاً یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے کیا وہ جادو کا علم بھی جانتا ہے یا یہ بحث کہ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے تو کیا وہ جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے۔ تیسرے یہ کہ ان صفات میں فلسفیانہ موشگافیاں پیدا کرنا جیسے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفات حادث ہیں یا قدیم۔ مثلاً کلام کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے تو قرآن حادث اور مخلوق ہے یا نہیں؟ یا یہ کہ اللہ جو ہر جگہ موجود ہے اور ہر شخص کی شہ رگ سے بھی قریب ہے تو وہ عرش پر کیسے ہوا؟ غرض الحاد کی جتنی بھی صورتیں ہیں سب کفر و شرک اور گمراہی کی طرف لے جانے والی ہیں لہٰذا ایک مسلمان کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کو زیر بحث لا کر اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ بات اس کے بس سے باہر ہے انسان کی عقل محدود اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی وسعت لامحدود ہے نیز اللہ تعالیٰ نے خود بھی ﴿فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ کہہ کر ایسی باتوں سے منع فرما دیا ہے۔ پھر یہ اعتقادی بیماریاں ایک تو آگے منتقل ہوتی جاتی ہیں دوسرے زندگی کا رخ غلط راہوں پر ڈال دیتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ترمذی میں یہ { ننانوے نام اس طرح ہیں: «هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ، الْمَلِکُ، الْقُدُّوْسُ، السَّلَامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُھَیْمِنُ، الْعَزِیْزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَکَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِیُٔ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَھَّارُ، الْوَھَّابُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِیْمُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، السَّمِیْعُ، الْبَصِیْرُ، الْحَکَمُ، الْعَدْلُ، اللَّطِیْفُ، الْخَبِیْرُ، الْحَلِیْمُ، الْعَظِیْمُ، الْغَفُوْرُ، الشَّکُوْرُ، الْعَلِیُّ، الْکَبِیْرُ، الْحَفِیْظُ، الْمُقِیْتُ، الْحَسِیْبُ، الْجَلِیْلُ، الْکَرِیْمُ، الرَّقِیْبُ، الْمُجِیْبُ، الْوَاسِعُ، الْحَکِیْمُ، الْوَدُوْدُ، الْمَجِیْدُ، الْبَاعِثُ، الشَّھِیْدُ، الْحَقُّ، الْوَکِیْلُ، الْقَوِیُّ، الْمَتِیْنُ، الْوَلِیُّ، الْحَمِیْدُ، الْمُحْصِی، الْمُبْدِیُٔ، الْمُعِیْدُ، الْمُحْییِ، الْمُمِیْتُ، الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ، الْوَاجِدُ، الْمَاجِدُ، الْوَاحِدُ، الصَّمَدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ، الْاَوَّلُ الْاٰخِرُ، الظَّاھِرُ، الْبَاطِنُ، الْوَالِیُ، الْمُتَعَالُ، الْبَرُّ، التَّوَّابُ، الْمُنْتَقِمُ، الْعَفُوُّ، الرَّئُوْفُ، مَالِکُ، الْمُلْکِ، ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَا مِ، الْمُقْسِطُ، الْجَامِعُ، الْغَنِیُّ، الْمُغْنِی، الْمَانِعُ، الضَّآرُّ، النَّافِعُ، النُّوْرُ، الْھَادِیُ، الْبَدِیْعُ، الْبَاقِی، الْوَارِثُ، الرَّشِیْدُ، الصَّبُوْرُ» ۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3507، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جسے کبھی بھی کوئی غم و رنج پہنچے اور وہ یہ دعا کرے: «اللَّهُمَّ إنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَداً مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ: أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ العظیم رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدرِي، وَجلاَءَ حزنِي، وَذَهَابَ هَمِّي» ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے غم و رنج کو دور کر دے گا اور اس کی جگہ راحت و خوشی عطا فرمائے گا۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ پھر کیا ہم اسے اوروں کو بھی سکھائیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! بیشک جو اسے سنے، اسے چاہیئے کہ دوسروں کو بھی سکھائے۔ } ۱؎ [صحیح ابن حبان:972:صحیح بالشواھد]
امام ابوحاتم بن حبان بستی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو اسی طرح اپنی صحیح میں لائے ہیں۔ امام ابوبکر بن عربی رحمہ اللہ بھی اپنی کتاب الاحوذی فی شرح الترمذی میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کتاب و سنت سے جمع کئے ہیں جن کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ کے ناموں سے الحاد کرنے والوں کو چھوڑ دو۔ جیسے کہ لفظ اللہ سے کافروں نے اپنے بت کا نام لات رکھا اور عزیز سے مشتق کر کے عزیٰ نام رکھا۔
یہ بھی معنی ہیں کہ جو اللہ کے ناموں میں شریک کرتے ہیں، انہیں چھوڑو۔ جو انہیں جھٹلاتے ہیں، ان سے منہ موڑ لو۔
«الحاد» کے لفظی معنی ہیں: درمیانے، سیدھے راستے سے ہٹ جانا اور گھوم جانا۔ اسی لیے بغلی قبر کو «لحد» کہتے ہیں کیونکہ سیدھی کھدائی سے ہٹا کر بنائی جاتی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا بيانٌ لعظيم جلاله وسعة أوصافه بأن له الأسماء الحسنى؛ أي: له كل اسم حسن، وضابطه أنه كل اسم دال على صفة كمال عظيمة، وبذلك كانت حسنى؛ فإنها لو دلَّت على غير صفة، بل كانت علماً محضاً؛ لم تكن حسنى، وكذلك لو دلَّت على صفة ليست بصفة كمال، بل إما صفة نقص أو صفة منقسمة إلى المدح والقدح؛ لم تكن حسنى؛ فكلُّ اسم من أسمائه دال على جميع الصفة التي اشتُقَّ منها، مستغرقٌ لجميع معناها، وذلك نحو: {العليم} الدال على أنَّ له علماً محيطاً عامًّا لجميع الأشياء فلا يخرج عن علمه مثقال ذرةٍ في الأرض ولا في السماء، و {الرحيم} الدال على أن له رحمة عظيمة واسعة لكلِّ شيء، و {القدير} الدال على أن له قدرة عامَّة لا يُعْجِزُها شيء ... ونحو ذلك. ومن تمام كونها حسنى أنَّه لا يُدعى إلا بها، ولذلك قال: {فادعوه بها}: وهذا شاملٌ لدعاء العبادة ودعاء المسألة، فيُدعى في كل مطلوب بما يناسب ذلك المطلوب، فيقول الداعي مثلاً: اللهمَّ! اغفر لي، وارحمني؛ إنك أنت الغفور الرحيم. وتب عليَّ يا توَّاب! وارزقني يا رزاق! والطفْ بي يا لطيف! ونحو ذلك.
وقوله: {وَذَروا الذين يُلحِدون في أسمائِهِ سيُجْزَوْن ما كانوا يعملون}؛ أي: عقوبة وعذاباً على إلحادهم في أسمائه. وحقيقة الإلحاد: الميلُ بها عما جُعِلَتْ له، إمَّا بأن يسمَّى بها من لا يستحقُّها؛ كتسمية المشركين بها لآلهتهم، وإما بنفي معانيها وتحريفها وأن يجعل لها معنى ما أراده الله ولا رسوله، وإما أن يشبِّه بها غيرها؛ فالواجب أن يُحذر الإلحاد فيها ويُحذر الملحدون فيها. وقد ثبت في الصحيح عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -: «إنَّ لله تسعةً وتسعين اسماً من أحصاها دخل الجنة».