تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں دل، آنکھیں اور کان تو اس لیے دیے ہیں کہ وہ ان سے فائدہ اٹھا کر اپنے مالک کو پہچانیں، کائنات اور اپنی ذات میں اس کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں، حق کی بات غور سے سنیں اور اسے قبول کریں، مگر جب انھوں نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا تو وہ انعام (چوپاؤں) کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ثابت ہوئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی طبیعت میں جو تقاضے رکھے ہیں اور جس مقصد کے لیے وہ پیدا ہوئے ہیں وہ بخوبی پورا کر رہے ہیں، اس کے برعکس کفار اپنے مقصدِ حیات، یعنی عبادت کے بجائے اپنے ارادہ و اختیار سے اپنے خالق کی نافرمانی کر رہے ہیں۔
➌ {اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ:} یعنی اپنے مقصدِ حیات سے غافل ہیں اور مرنے کے بعد کی زندگی اور جواب دہی سے بے فکر ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا اور ان کے احکام کو سیکھنا ہر شخص پر فرض ہے، اگر کوئی ایسا نہ کرے گا تو جہنم میں جائے گا۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ نے جنوں اور انسانوں کی اکثریت یا کثیر تعداد کو پیدا ہی اس لیے کیا تھا کہ انہیں جہنم داخل کیا جائے گا تو اس میں جنوں اور انسانوں کا کیا قصور ہے؟ اس شبہ کے ازالہ کے لیے اسی سورت کی آیت نمبر 24 کے تحت حاشیہ نمبر 21 ملاحظہ کیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری نابالغ بچے کے جنازے پر بلوائے گئے تو میں نے کہا: مبارک ہو اس کو، یہ تو جنت کی چڑیا ہے۔ نہ برائی کی، نہ برائی کا وقت پایا۔ آپ نے فرمایا: کچھ اور بھی؟ سن! اللہ تعالیٰ نے جنت اور جنت والوں کو پیدا کیا ہے اور انہیں جنتی مقرر کر دیا ہے حالانکہ وہ ابھی تو اپنے باپوں کی پیٹھوں میں ہی تھے۔ اسی طرح اس نے جہنم بنائی ہے اور اس کے رہنے والے پیدا کئے ہیں۔ انہیں اسی لیے مقرر کر دیا۔ درآں حالیکہ اب تک وہ اپنے باپوں کی پشت میں ہی ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2662]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { ماں کے رحم میں اللہ تعالیٰ اپنا فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے حکم سے چاروں چیزوں یعنی روزی، عمل، عمر اور نیکی یا بدی لکھ لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3208]
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو پشت آدم سے نکالا تو ان کے دو حصے کر دیئے، دائیں والے اور بائیں والے۔ اور فرما دیا: یہ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔
اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں اور تقدیر کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ یہاں پورا بیان ہو جائے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ ایسے خالی از خیر محروم قسمت لوگ کسی چیز سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ تمام اعضاء ہوتے ہیں لیکن قوتیں سب سے چھن جاتی ہیں۔ اندھے، بہرے، گونگے بن کر زندگی گڑھے میں ہی گزار دیتے ہیں۔ اگر ان میں خیر باقی ہوتی تو اللہ اپنی باتیں انہیں سناتا بھی۔ یہ تو خیر سے بالکل خالی ہو گئے، سنتے ہیں اور ان سنی کر جاتے ہیں۔ آنکھیں ہی نہیں بلکہ دل کی آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں۔
رحمان کے ذکر سے منہ موڑنے کی سزا یہ ملی ہے کہ شیطان کے بھائی بن گئے ہیں، راہ حق سے دور جا پڑے ہیں مگر سمجھ یہی رہے ہیں کہ ہم سچے اور صحیح راستے پر ہیں۔ ان میں اور چوپائے جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ نہ یہ حق کو دیکھیں، نہ ہدایت کو دیکھیں، نہ اللہ کی باتوں کو سوچیں۔
چوپائے آواز تو سنتے ہیں لیکن کیا کہا؟ اسے سمجھے ان کی بلا۔ پھر ترقی کر کے فرماتا ہے کہ یہ ظالم تو چوپایوں سے بھی بدترین ہیں کہ چوپائے گو نہ سمجھیں لیکن آواز پر کان تو کھڑے کر دیتے ہیں، اشاروں پر حرکت تو کرتے ہیں، یہ تو اپنے مالک کو اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ اپنی پیدائش کی غایت کو آج تک معلوم ہی نہیں کیا، جبھی تو اللہ سے کفر کرتے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو اللہ کا مطیع انسان ہو، وہ اللہ کے اطاعت گزار فرشتے سے بہتر ہے اور کفار انسان سے چوپائے جانور بہتر ہیں، ایسے لوگ پورے غافل ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيناً كثرة الغاوين الضالِّين المتَّبعين إبليس اللعين: {ولقد ذَرَأنا}؛ أي: أنشأنا، وبثثنا {لجهنَّم كثيراً من الجنِّ والإنس}: صارت البهائم أحسن حالة منهم. {لهم قلوبٌ لا يفقهون بها}؛ أي: لا يصلُ إليها فقهٌ ولا علمٌ إلاَّ مجرَّد قيام الحجة، {ولهم أعينٌ لا يبصرون بها}: ما ينفعُهم، بل فقدوا منفعتها وفائدتها، {ولهم آذانٌ لا يسمعون بها}: سماعاً يصل معناه إلى قلوبهم. {أولئك}: الذين بهذه الأوصاف القبيحة {كالأنعام}؛ أي: البهائم التي فقدت العقول، وهؤلاء آثروا ما يفنى على ما يبقى فسُلِبوا خاصية العقل. {بل هم أضلُّ}: من البهائم؛ فإنَّ الأنعام مستعملة فيما خُلِقت له، ولها أذهانٌ تدرك بها مضرَّتها من منفعتها؛ فلذلك كانت أحسن حالاً منهم. و {أولئك هم الغافلون}: الذين غفلوا عن أنفع الأشياء؛ غفلوا عن الإيمان بالله وطاعته وذِكْره، خُلِقَتْ لهم الأفئدة والأسماع والأبصار لتكونَ عوناً لهم على القيام بأوامر الله وحقوقه، فاستعانوا بها على ضدِّ هذا المقصود؛ فهؤلاء حقيقون بأن يكونوا ممَّن ذرأ الله لجهنَّم وخلقهم لها؛ فخلقهم للنار وبأعمال أهلها يعملون، وأما مَن استعمل هذه الجوارح في عبادة الله وانصبغ قلبُهُ بالإيمان بالله ومحبَّته ولم يغفل عن الله؛ فهؤلاء أهل الجنة وبأعمال أهل الجنة يعملون.