فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖۤ اَنۡجَیۡنَا الَّذِیۡنَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ وَ اَخَذۡنَا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَئِیۡسٍۭ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۵﴾
پھر جب وہ اس بات کو بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے منع کرتے تھے، اور ان کو سخت عذاب میں پکڑ لیا جنھوں نے ظلم کیا تھا، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔
جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے
سو جب وه اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 166،165) ➊ {فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ …:} یعنی جب ہفتہ کی تعظیم کا حکم انھوں نے سرے سے بھلا ہی دیا اور حیلے سے بڑھ کر علانیہ نافرمانی شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کو عذاب سے بچا لیا اور ظلم کرنے والوں کو بہت سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ اب بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے ایک عذاب بھیجا گیا، جیسا کہ یہاں {” بِعَذَابٍۭ بَىِٕيْسٍ“} فرمایا ہے کہ شاید وہ باز آ جائیں۔ (دیکھیے سورۂ سجدہ: ۲۱) لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو اگلی آیت میں مذکور مسخ کی سزا دی گئی اور بعض نے فرمایا کہ {” بِعَذَابٍۭ بَىِٕيْسٍ“} سے مراد یہی مسخ ہے، لیکن «{ وَ اَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا }» کے بعد دوبارہ «{ فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ }» سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا عذاب تنبیہ کے لیے تھا، پھر بھی جب وہ متنبہ نہ ہوئے، بلکہ سرکشی اختیار کی تو ان سرکشوں کو بندر بنا دیا گیا۔ واللہ اعلم!
➋ {وَ اَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …:} اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کی نجات اور ظلم کرنے والوں کو سخت عذاب، مثلاً قحط یا بیماری وغیرہ میں پکڑنے کا ذکر کیا ہے اور اس سے اگلی آیت میں سرکشی کرنے والوں کی شکلیں بدل کر بندر بنا دینے کا ذکر فرمایا ہے۔ تیسرے گروہ کا واضح ذکر نہیں فرمایا کہ ان کا کیا بنا۔ اکثر مفسرین کا کہنا یہی ہے کہ صرف اس جرم کا مسلسل ارتکاب کرنے والے ہی عذاب میں گرفتار ہوئے، جیسا کہ {” بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ “} کے استمرار سے معلوم ہوتا ہے کہ باقی دونوں گروہ بچ گئے۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ بھی برائی سے منع نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام سے خاموشی اختیار فرمائی تو ہمیں بھی خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ مگر حافظ ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے ان کے بچ جانے ہی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ یہ لوگ سرکشی اختیار کرنے والے ہر گز نہ تھے، بلکہ جیسا کہ اسی آیت کے حاشیہ(۱) میں ذکر ہوا ہے، یہ لوگ اس برائی سے نفرت رکھنے والے تھے اور عین ممکن ہے کہ منع کرنے کے بعد تھک کر ان پر عذاب کے منتظر ہوں، مگر ان پر لازم تھا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جاری رکھتے۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”کوئی بھی قوم جس میں اللہ کی نافرمانیوں پر عمل ہوتا ہو، پھر وہ اسے بدلنے کی طاقت رکھتے ہوں، پھر نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے۔“ [أبو داوٗد، الملاحم، باب الأمر والنھی: ۴۳۳۸۔ ترمذی: ۳۰۵۷، و قال الألبانی صحیح]
راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے ان پر {”عَذَابٌ بَىِٕيْسٌ“} آیا، جو قحط یا بیماری یا خوف وغیرہ کی شکل میں تھا، اس میں شکار کرنے والے اور اس پر خاموش رہنے والے دونوں گرفتار ہوئے، کیونکہ برائی پر خاموش رہنا بھی ایک قسم کا ظلم تھا مگر جب بندر بنانے کا عذاب آیا تو یہ صرف ان پر آیا جو اس سرکشی کے مرتکب تھے اور اب کھلم کھلا بلاجھجک یہ کام کر رہے تھے۔ [وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَ عِلْمُہُ أَتَمُّ]
➌ قرآن کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی شکلیں بدل کر بندر کی بنا دی گئیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان میں صرف بندروں کی خصلتیں پیدا کر دی گئیں، مگر اس تاویل کی ضرورت تب ہے جب اللہ تعالیٰ کا انھیں بندر بنانا ممکن نہ ہو، یا پہلے ان کی خصلتیں انسانوں والی ہوں اور اب بندروں والی بنا دی گئی ہوں، جبکہ ان کے تمام حیلے ایسے تھے جو سلیم الفطرت انسان کر ہی نہیں سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی شے کو مسخ کرے (شکل بدل دے) تو نہ اس کے پیچھے رہنے والا کوئی ہوتا ہے اور نہ اس کی نسل ہوتی ہے۔“ [المعجم الکبیر: ۷۴۶، و صححہ الألبانی فی صحیح الجامع: ۵۶۷۳، عن أم سلمۃ رضی اللہ عنھا۔ مسلم: ۲۶۶۳]
➋ {وَ اَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …:} اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کی نجات اور ظلم کرنے والوں کو سخت عذاب، مثلاً قحط یا بیماری وغیرہ میں پکڑنے کا ذکر کیا ہے اور اس سے اگلی آیت میں سرکشی کرنے والوں کی شکلیں بدل کر بندر بنا دینے کا ذکر فرمایا ہے۔ تیسرے گروہ کا واضح ذکر نہیں فرمایا کہ ان کا کیا بنا۔ اکثر مفسرین کا کہنا یہی ہے کہ صرف اس جرم کا مسلسل ارتکاب کرنے والے ہی عذاب میں گرفتار ہوئے، جیسا کہ {” بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ “} کے استمرار سے معلوم ہوتا ہے کہ باقی دونوں گروہ بچ گئے۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ بھی برائی سے منع نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام سے خاموشی اختیار فرمائی تو ہمیں بھی خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ مگر حافظ ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے ان کے بچ جانے ہی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ یہ لوگ سرکشی اختیار کرنے والے ہر گز نہ تھے، بلکہ جیسا کہ اسی آیت کے حاشیہ(۱) میں ذکر ہوا ہے، یہ لوگ اس برائی سے نفرت رکھنے والے تھے اور عین ممکن ہے کہ منع کرنے کے بعد تھک کر ان پر عذاب کے منتظر ہوں، مگر ان پر لازم تھا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جاری رکھتے۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”کوئی بھی قوم جس میں اللہ کی نافرمانیوں پر عمل ہوتا ہو، پھر وہ اسے بدلنے کی طاقت رکھتے ہوں، پھر نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے۔“ [أبو داوٗد، الملاحم، باب الأمر والنھی: ۴۳۳۸۔ ترمذی: ۳۰۵۷، و قال الألبانی صحیح]
راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے ان پر {”عَذَابٌ بَىِٕيْسٌ“} آیا، جو قحط یا بیماری یا خوف وغیرہ کی شکل میں تھا، اس میں شکار کرنے والے اور اس پر خاموش رہنے والے دونوں گرفتار ہوئے، کیونکہ برائی پر خاموش رہنا بھی ایک قسم کا ظلم تھا مگر جب بندر بنانے کا عذاب آیا تو یہ صرف ان پر آیا جو اس سرکشی کے مرتکب تھے اور اب کھلم کھلا بلاجھجک یہ کام کر رہے تھے۔ [وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَ عِلْمُہُ أَتَمُّ]
➌ قرآن کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی شکلیں بدل کر بندر کی بنا دی گئیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان میں صرف بندروں کی خصلتیں پیدا کر دی گئیں، مگر اس تاویل کی ضرورت تب ہے جب اللہ تعالیٰ کا انھیں بندر بنانا ممکن نہ ہو، یا پہلے ان کی خصلتیں انسانوں والی ہوں اور اب بندروں والی بنا دی گئی ہوں، جبکہ ان کے تمام حیلے ایسے تھے جو سلیم الفطرت انسان کر ہی نہیں سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی شے کو مسخ کرے (شکل بدل دے) تو نہ اس کے پیچھے رہنے والا کوئی ہوتا ہے اور نہ اس کی نسل ہوتی ہے۔“ [المعجم الکبیر: ۷۴۶، و صححہ الألبانی فی صحیح الجامع: ۵۶۷۳، عن أم سلمۃ رضی اللہ عنھا۔ مسلم: ۲۶۶۳]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
165۔ 1 یعنی واعظ و نصیحت کی انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور نافرمانی پر اڑے رہے۔ 165۔ 2 یعنی وہ ظالم بھی تھے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرکے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور انہیں جہنم کا ایندھن بنالیا اور فاسق بھی، کہ اللہ کے حکموں سے سرتابی کو انہوں نے اپنا شیوہ اور وطیرہ بنالیا
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
165۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو (بالکل ہی) فراموش کر دیا جو انہیں کی جا رہی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور ان لوگوں کو جو ظالم تھے، ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے بہت برے عذاب میں پکڑ لیا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اصحاب سبت ٭٭
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔
جیسا کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے، نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لیے ہیں، رب کے غضب کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہو جائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے، انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔
«معذرۃ» ت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گویا «ھذا» کا لفظ یہاں مقدر مانا یعنی انہوں نے کہا: یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں، یہ کام اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔
جیسا کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے، نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لیے ہیں، رب کے غضب کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہو جائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے، انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔
«معذرۃ» ت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گویا «ھذا» کا لفظ یہاں مقدر مانا یعنی انہوں نے کہا: یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں، یہ کام اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔
دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے، کسی وقت نصیحت ان پر اثر کر جائے۔ یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آ جائیں، اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو جو برابر ان سے نالاں رہا، ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھاتا بجھاتا رہا، نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے، اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔
عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کو نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا، ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کی حالت سے سکوت کیا گیا۔ اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔
یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے، نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔
عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کو نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا، ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کی حالت سے سکوت کیا گیا۔ اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔
یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے، نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا چھوڑ دیا تھا، اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا۔ صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔“
آپ کے شاگرد عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے، یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آ کر سلام کیا، بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: دیکھو یہ سورۃ الاعراف ہے، اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کر دی گئی اور ان کی آزمائش کے لیے مچھلیوں کو حکم ہوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں، ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ تروتازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تک تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے۔ لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے، تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہر چند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو! شکار کھیلنا شروع نہ کرو۔ شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی، وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔
آپ کے شاگرد عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے، یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آ کر سلام کیا، بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: دیکھو یہ سورۃ الاعراف ہے، اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کر دی گئی اور ان کی آزمائش کے لیے مچھلیوں کو حکم ہوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں، ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ تروتازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تک تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے۔ لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے، تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہر چند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو! شکار کھیلنا شروع نہ کرو۔ شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی، وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔
باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں۔ ایک ان کے دائیں، ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لیے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا: میاں! تمہیں کیا پڑی؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں۔ اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر! اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں۔ کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں، ہماری تو عین منشا یہ ہے۔ لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کارگر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا: تم نے ہمارا کہا نہ مانا، اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں، راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔
رات ہم تو یہیں گزاریں گے، تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہو گئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹکھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا، اس نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی، یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں، یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے۔ ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا، ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا: دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔
رات ہم تو یہیں گزاریں گے، تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہو گئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹکھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا، اس نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی، یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں، یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے۔ ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا، ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا: دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والوں نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے , ان کا کیا حشر ہوا؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف شرع باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے یہ سن کر کہا: اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے، آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے، ان کی مخالفت کرتے تھے، جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے۔ آپ کی سمجھ میں آ گیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔
الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔
ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں، پانی ان سے بھر جاتا۔ پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں، دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا۔ سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا۔ اتوار کی رات کو جا کر نکال لیا، بھونا، لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہر چند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا، آخر بات بنا دی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا، میں نے اسے بھونا تھا۔ دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں، اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا۔ لوگ آ گئے تو اس نے کہا: میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے۔ اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور بکثرت لوگ یونہی کرنے لگے۔
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے یہ سن کر کہا: اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے، آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے، ان کی مخالفت کرتے تھے، جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے۔ آپ کی سمجھ میں آ گیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔
الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔
ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں، پانی ان سے بھر جاتا۔ پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں، دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا۔ سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا۔ اتوار کی رات کو جا کر نکال لیا، بھونا، لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہر چند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا، آخر بات بنا دی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا، میں نے اسے بھونا تھا۔ دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں، اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا۔ لوگ آ گئے تو اس نے کہا: میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے۔ اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور بکثرت لوگ یونہی کرنے لگے۔
یہ لوگ رات کو شہر پناہ کا پھاٹک بند کر کے سوتے تھے۔ جس رات عذاب آیا، حسب دستور یہ شہر پناہ کا پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے۔ آوازیں دیں، کوئی جواب نہ ملا۔ قلعہ پر چڑھ گئے، دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں۔ کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے۔
اس سے پہلے سورۃ البقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کر چکے ہیں، وہیں دیکھ لیجئے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے، وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی، اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہو گیا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دوسرے دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی، اس کی ناک میں سوراخ کر کے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا۔ دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھا لی۔ سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا، نہ منع کیا، نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔
اس سے پہلے سورۃ البقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کر چکے ہیں، وہیں دیکھ لیجئے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے، وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی، اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہو گیا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دوسرے دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی، اس کی ناک میں سوراخ کر کے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا۔ دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھا لی۔ سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا، نہ منع کیا، نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔
ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو؟ اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے یہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہو گئے۔
یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے: ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بے کار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور باقی دونوں جماعتیں ہلاک کر دی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا، اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے، بچ گئے۔
«بَئِيسٍ» کی کئی ایک قرأتیں ہیں۔ اس کے معنی سخت کے، درد ناک کے، تکلیف دہ کے ہیں۔ اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گزر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل، حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ۔ چنانچہ وہ ایسے ہی ہو گئے۔
یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے: ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بے کار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور باقی دونوں جماعتیں ہلاک کر دی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا، اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے، بچ گئے۔
«بَئِيسٍ» کی کئی ایک قرأتیں ہیں۔ اس کے معنی سخت کے، درد ناک کے، تکلیف دہ کے ہیں۔ اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گزر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل، حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ۔ چنانچہ وہ ایسے ہی ہو گئے۔