تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ …:} پچھلی آیت میں اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف نبی اُمی کا خاص ذکر فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کئی مقامات پر نبوت سے پہلے آپ کے ان پڑھ ہونے اور پہلی کتابوں اور ایمان کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہونے کو کئی جگہ بیان فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: ”آپ اس سے پہلے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔“ [العنکبوت: ۴۸] اور فرمایا: ”یہ غیب کی خبروں سے ہے۔ اس سے پہلے انھیں نہ آپ جانتے تھے، نہ آپ کی قوم۔“ [ھود: ۴۹] اور فرمایا: ”آپ وحی سے پہلے نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے۔“ [الشوریٰ: ۵۲] بلکہ فرمایا: ”آپ کو امید تک نہ تھی کہ آپ کو کتاب عطا کی جائے گی۔“ [القصص: ۸۶] کئی لوگوں پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہونے سے بھی پہلے ہر چیز کا علم رکھتے تھے، پھر آپ کا خاص وصف امی کیا ہوا کہ ایک بالکل ان پڑھ شخص دنیا کے تمام پڑھے لکھے، دانشور، فلسفی اور دوسرے علوم میں کمال رکھنے والوں کا استاد بن گیا۔
➌ { يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ:} اللہ تعالیٰ کے کلمات کے لامحدود ہونے کا تذکرہ دیکھیے سورۂ کہف (۱۰۹) اور لقمان (۲۷) میں۔
➍ { لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ:} معلوم ہوا اب ہدایت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی میں ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی (انفرادی ہو یا اجتماعی اس) کے ہر گوشہ میں آپ ہی کی ہدایت اور نقش قدم پر چلا جائے، اس کے علاوہ ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔ دیکھیے سورۂ نجم (۳، ۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان قرآن ہے «قُلِ اللَّـهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] یعنی ’ اعلان کر دے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہ ہے۔ اس پاک قرآن کی وحی میری جانب اس لیے اتاری گئی ہے کہ میں اس سے تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پہنچے سب کو ہوشیار کر دوں۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» ۱؎ [11-هود:17] یعنی ’ مخلوق کے مختلف گروہ میں سے جو بھی آپ کا انکار کرے، اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ» ۱؎ [3-آل عمران:20] یعنی ’ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے کہہ دو کہ کیا تم مانتے ہو؟ اگر تسلیم کر لیں، مسلمان ہو جائیں تو راہ پر ہیں ورنہ تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ ‘
اس مضمون کی اور بھی قرآنی آیتیں بکثرت ہیں اور حدیثیں تو اس بارے میں بےشمار ہیں۔ دین اسلام کی ذرا سی بھی سمجھ جسے ہے، وہ بالیقین جانتا اور مانتا ہے کہ آپ تمام جہان کے لوگوں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { اتفاق سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میں کچھ چشمک ہو گئی۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ کو ناراض کر دیا۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ اسی حالت میں چلے گئے۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ آپ معاف فرمائیں اور اللہ سے میرے لیے بخشش چاہیں لیکن عمر رضی اللہ عنہ راضی نہ ہوئے بلکہ کواڑ بند کر لیے۔ آپ لوٹ کر دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے اور اس وقت اور صحابہ رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے انہیں ناراض اور غضبناک کر دیا۔
{ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ یاد رہے کہ میں اسے فخراً نہیں کہتا۔ میں تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہوں اور میری مدد مہینے بھر کے فاصلے سے صرف رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کر دیئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہیں کئے گئے تھے اور میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کے لیے حلال کر دی گئی ہے اور مجھے اپنی امت کی شفاعت عطا فرمائی گئی ہے جسے میں نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ } (مسند امام احمد) ۱؎ [مسند احمد:301/1:حسن]
{ عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پس بہت سے صحابہ آپ کے پیچھے جمع ہو گئے کہ آپ کی چوکیداری کریں۔ نماز کے بعد آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس رات مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے اور کسی کو نہیں دی گئیں۔ میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں
یہ حدیث اور سند سے صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153]
مسند احمد میں ہے کہ { اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ذکر اس امت کے جس یہودی، نصرانی کے پاس پہنچے اور وہ مجھ پر اور میری وحی پر ایمان نہ لائے اور مر جائے، وہ جہنمی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:350/2:صحیح]
مسند کی ایک اور حدیث میں آپ نے ان پانچوں چیزوں کا ذکر فرمایا جو صرف آپ کو ہی ملی ہیں۔ پھر فرمایا: { ہر نبی نے شفاعت کا سوال کر لیا ہے اور میں نے اپنے سوال کو چھپا رکھا ہے اور ان کے لیے اٹھا رکھا ہے جو میری امت میں سے توحید پر مرے۔ } ۱؎ [مسند احمد:416/4:صحیح]
یہ حدیث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ { مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کے انبیاء کو نہیں دی گئیں۔ مہینے بھر کی مسافت تک رعب سے امداد و نصرت، ساری زمین کا مسجد و طہور ہونا کہ میری امت کو جہاں وقت نماز آ جائے، ادا کر لے۔ غنیمتوں کا حلال کیا جانا جو پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھیں۔ شفاعت کا دیا جانا۔ تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا جانا حالانکہ پہلے انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف ہی بھیجے جاتے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335]
پھر فرماتا ہے کہ کہو، مجھے اس اللہ نے بھیجا ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، سب چیزوں کا خالق، مالک ہے۔ جس کے ہاتھ میں ملک ہے، جو مارنے، جلانے پر قادر ہے۔ جس کا حکم چلتا ہے۔
پس اے لوگو! تم اللہ پر اور اس کے رسول و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود دنیا کو پڑھا رہے ہیں۔ انہی کا تم سے وعدہ تھا اور ان ہی کی بشارت تمہاری کتابوں میں بھی ہے، انہی کی صفتیں اگلی کتابوں میں ہیں۔ یہ خود اللہ کی ذات پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں۔ قول و فعل سب میں اللہ کے کلام کے مطیع ہیں۔ تم سب ان کے ماتحت اور فرمانبردار ہو جاؤ۔ انہی کے طریقے پر چلو، انہی کی فرمانبرداری کرو، تم راہ راست پر آ جاؤ گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما دعا أهل التوراة من بني إسرائيل إلى اتباعه، وكان ربما توهَّم متوهِّم أن الحكم مقصورٌ عليهم، أتى بما يدلُّ على العموم، فقال: {قلْ يا أيُّها الناس إني رسولُ الله إليكم جميعاً}؛ أي: عربيّكم وعجميّكم، أهل الكتاب منكم وغيرهم، {الذي له ملكُ السموات والأرض}: يتصرَّف فيهما بأحكامه الكونيَّة والتدابير السلطانيَّة وبأحكامه الشرعيَّة الدينيَّة، التي من جملتها أن أرسل إليكم رسولاً عظيماً يدعوكم إلى الله وإلى دار كرامته، ويحذِّركم من كلِّ ما يباعدكم منه ومن دار كرامته. {لا إله إلاَّ هو}؛ أي: لا معبود بحقٍّ إلا الله وحده لا شريك له، ولا تُعْرَفُ عبادته إلا من طريق رسله. {يحيي ويميتُ}؛ أي: من جملة تدابيره الإحياء والإماتة، التي لا يشاركه فيها أحدٌ، التي جعل الله الموت جسراً ومعبراً، يُعبَرُ منه إلى دار البقاء التي من آمن بها صدَّق الرسول محمداً - صلى الله عليه وسلم - قطعاً. {فآمنوا بالله ورسولِهِ النبيِّ الأميِّ}: إيماناً في القلب متضمناً لأعمال القلوب والجوارح، {الذي يؤمِنُ بالله وكلماته}؛ أي: آمنوا بهذا الرسول المستقيم في عقائده وأعماله، {واتَّبِعوه لعلكم تهتدونَ}: في مصالِحِكم الدينيَّة والدنيويَّة؛ فإنكم إذا لم تتَّبعوه؛ ضللتم ضلالاً بعيداً.