تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو صفات مذکور ہیں اور {الْاُمِّيَّ} (جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو) کے لفظ سے یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ ان پڑھ ہونے کے باوجود آپ میں جو کمال علم پایا جاتا ہے وہ آپ کا بہت بڑا معجزہ ہے، جو ”علوم نبوت“ قرآن مجید اور احادیث کی شکل میں موجود ہیں انھیں پڑھ کر عرب جیسی ان پڑھ قوم دنیا کی انتہائی تعلیم یافتہ اور مہذب ترین قوموں کی راہنما بن گئی۔
➌ { الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا …:} اگرچہ یہود و نصاریٰ نے تورات و انجیل میں لفظی اور معنوی تحریف میں کم ہی کسر چھوڑی ہے، خصوصاً مختلف زبانوں کے تراجم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے بجائے اس کا ترجمہ کر دیا ہے، حالانکہ نام کا ترجمہ نہیں کیا جاتا، پھر ترجمہ بھی اپنی مرضی کے مطابق کیا ہے اور اصل زبان میں جو کتابیں تھیں وہ ملتی ہی نہیں، تاہم آج بھی تورات و انجیل میں وہ مقامات موجود ہیں جن میں بنی اسرائیل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیے استثناء، باب ۱۸، فقرہ ۱۵ تا ۱۹۔ باب ۳۳، فقرہ ۲۔ متی، باب ۳، فقرہ ۱ تا ۱۲۔ یوحنا، باب ۱، فقرہ ۱۹ تا ۲۲۔ باب ۱۴، فقرہ ۱۵ تا ۱۷ اور ۲۵ تا ۲۷۔ باب ۱۶، فقرہ ۱۲ تا ۱۵۔ علاوہ ازیں دیکھیے تورات کی پانچویں کتاب استثناء، باب ۱۷، فقرہ ۱۴۔ یوحنا، باب ۱۶، فقرہ ۱۲ تا ۱۴۔
➍ {وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ …:} یعنی جو طیب چیزیں ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے حرام کر دی گئی تھیں، یا انھوں نے خود انھیں اپنے اوپر حرام کر لیا تھا (جیسے اونٹ کا گوشت اور چربی وغیرہ) وہ انھیں حلال قرار دیتا ہے اور جن ناپاک چیزوں کو انھوں نے حلال قرار دے رکھا تھا (جیسے سور کا گوشت اور شراب وغیرہ) وہ انھیں حرام قرار دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو چیز شریعت نے حلال قرار دی ہے وہ طیب ہے اور جو حرام قرار دی ہے وہ خبیث ہے۔
➎ {وَ يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ …: ”اِصْرٌ“ } (بوجھ) سے مراد وہ سخت احکام ہیں جو پچھلی شریعت میں تھے، مثلاً نماز صرف عبادت خانوں ہی میں ادا کرنا، شرک کی حد قتل ہی ہونا وغیرہ اور{ ” الْاَغْلٰلَ “} (طوقوں) سے مراد وہ خود ساختہ پابندیاں ہیں جو ان کے علماء نے ان پر لگا رکھی تھیں، یا ان کے عوام نے جو رسوم خود اپنے آپ پر لازم قرار دے رکھی تھیں، مثلاً حائضہ کو کھانے پینے میں الگ کر دینا، اس کی رہائش بھی الگ کر دینا، جیسا کہ مسلمانوں میں نصرانیوں اور ہندوؤں کی دیکھا دیکھی موت کی رسوم تیجا، ساتواں، چالیسواں، پیدائش اور نکاح کی رسوم، مثلاً بچے کی پیدائش پر دروازے پر سِرَس یعنی شَرِینہ کے پتے لٹکانا، زچہ کی چارپائی پر لوہا رکھنا، کھسرے نچانا، ان پر خرچ کرنا، بے اولاد خاتون کو منحوس سمجھ کر گھر میں نہ آنے دینا، نکاح میں سہرا، گانا، مہندی، منگنی کی خود ساختہ رسمیں، اسی طرح نیوندرہ، سلامی اور جہیز وغیرہ جن سے لوگوں کی زندگی دشوار ہو چکی ہے اور جو نہ اللہ کی کتاب میں ہیں نہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں۔ اسی طرح اللہ بہتر جانتا ہے کہ پیغمبروں کی گستاخی کرنے والی حتیٰ کہ انھیں قتل تک کر دینے والی اس امت کے احبار و رہبان نے کتنی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیا ہو گا اور ختم اور میت بخشوانے وغیرہ کے نام پر لوگوں کا مال کس کس طرح کھایا ہو گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام بوجھ اور طوق اتار کر اور وہ تمام پابندیاں توڑ کر اصل اسلام پیش فرمایا جو نہایت سادہ اور آسان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَحَبُّ الدِّيْنِ إِلَی اللّٰهِ الْحَنِيْفِيَّةُ السَّمْحَةُ] ”اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب آسان حنیفی دین ہے۔“ [بخاری، الإیمان، باب الدین یسر، قبل ح: ۳۹، تعلیقًا] اور فرمایا: [اِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ] ”دین آسان ہے۔“ [بخاری، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹] ایک دوسری حدیث ہے: [لاَ ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ] [السلسلۃ الصحیحۃ: ۲۵۰] یعنی نہ ابتداءً نقصان پہنچانا جائز ہے نہ بدلے میں نقصان پہنچانا۔ نیز آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو ہمیشہ تلقین فرماتے: [يَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا] ”آسانی کرو، تنگی مت کرو۔“ [بخاری، الأدب، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : یسروا ولا تعسروا: ۶۱۲۵]
افسوس! مسلمانوں نے بھی اہل کتاب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شریعت کے فرائض کی پابندی کرنا اور منع کر دہ چیزوں سے اجتناب چھوڑ دیا اور اپنی اور اپنے مولویوں اور جاہل عوام کی خود ساختہ رسوم و رواج کے بوجھ اور طوق اپنے اوپر ڈال کر اپنی زندگی کو مشکل میں ڈال دیا۔ وہ حج پر نہیں جاتے مگر قبروں پر عرسوں میں ہزاروں لٹا دیتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے مگر مرشدوں کے وظائف پر گھنٹے لگا دیتے ہیں۔ زکوٰۃ و عشر نہیں دیتے مگر میت کے موقع پر دیگوں، ختموں اور مولوی صاحبان پر لاکھوں اڑا دیتے ہیں، نکاح کی رسوم پوری کرنے، جہیز بنانے کے لیے ساری عمر کے لیے مقروض ہو جاتے ہیں مگر لڑکیوں کو ورثہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اب اس کی شکایت اللہ کے سوا کس کے سامنے کی جائے۔
➏ { فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ …: } وہ نور جو آپ کے ساتھ اتارا گیا وحی الٰہی ہے جو قرآن و سنت کی صورت میں قیامت تک محفوظ ہے۔ {” اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ “} سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد آپ کی آمد کا علم ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص ایمان نہیں لاتا، خواہ یہودی ہو یا نصرانی یا کوئی اور، وہ ہر گز فلاح نہیں پا سکتا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۶۲) کا حاشیہ(۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ استثناء باب 18، آیت 15 تا 19 2۔ متی باب 21، آیت 33 تا 46 3۔ یوحنا باب 1، آیت 19 تا 21 4۔ یوحنا باب 14، آیت 15 تا 17، نیز آیت 25 تا 30 5۔ یوحنا باب 14، آیت 25 اور 26 6۔ یوحنا باب 16، آیت 7 تا 15 اور امی کا لفظ غالباً ام (یعنی والدہ) کی طرف منسوب ہے یعنی جس طرح بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے اور کسی کا شاگرد نہیں ہوتا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر کسی مخلوق کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا اس کے باوجود جن علوم و معارف شرعیہ کے آپ معلم بنے پوری دنیا اس کی معترف ہے اور پڑھے لکھے اور دانش وروں میں سے کسی کی طاقت نہیں کہ اس کا عشر عشیر بھی پیش کر سکیں پس نبی امی کا لقب آپ کے لیے مایہ صد افتخار ہے اور آپ کے امی ہونے میں جو حکمت تھی وہ قرآن نے اسے متعدد مقامات پر بیان کر دیا ہے۔
جبکہ ہماری شریعت میں ایسا حصہ صرف دھونے سے پاک ہو جاتا ہے اور ایسی بندشیں بھی جو ان کے علماء نے از خود عائد کر لی تھیں جیسے اگر ان کی کوئی عورت حائضہ ہو جاتی تو نہ ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھاتے نہ اس کے ساتھ کھاتے بلکہ اسے اپنے گھر میں بھی نہ رہنے دیتے اور ایسی عورتوں کا کسی الگ جگہ رہائش کا بندوبست کیا کرتے تھے [مسلم، كتاب الحيض۔ باب جواز غسل الحائض راس زوجها]
جبکہ ہماری شریعت میں ماسوائے صحبت کے اور کوئی پابندی نہیں۔ پھر ان میں وہ پابندیاں بھی شامل تھیں جو ان کے فقیہوں نے فقہی موشگافیوں سے اور ان کے زاہدوں نے اپنی پرہیزگاری میں غلو کی وجہ سے اور جاہل عوام نے اپنے توہمات سے عائد کر رکھی تھیں۔ اس نبی امی کا کام یہ ہے کہ ایسی تمام جکڑ بندیوں کے بوجھ سے لوگوں کو نجات دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد میں ہے: { ایک صاحب فرماتے ہیں: میں کچھ خرید و فروخت کا سامان لے کر مدینے آیا۔ جب اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: اس شخص سے بھی مل لوں۔ میں چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کہیں جا رہے ہیں۔ میں بھی پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ آپ ایک یہودی عالم کے گھر گئے، اس کا نوجوان تنومند بیٹا نزع کی حالت میں تھا اور وہ اپنے دل کو تسکین دینے کیلئے تورات کھولے ہوئے اس کے پاس بیٹھا ہوا تلاوت کر رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ تجھے اس کی قسم جس نے یہ تورات نازل فرمائی ہے، کیا میری صفت اور میرے معبوث ہونے کی خبر اس میں تمہارے پاس ہے یا نہیں؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ اسی وقت اس کا بچہ بول اٹھا کہ اس کی قسم جس نے تورات نازل فرمائی ہے! ہم آپ کی صفات اور آپ کے آنے کا پورا حال اس تورات میں موجود پاتے ہیں اور میری تہہ دل سے گواہی ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور آپ اس کے سچے رسول ہیں۔
مستدرک حاکم میں ہے: ہشام بن عاص اموی فرماتے ہیں کہ میں اور ایک صاحب روم کے بادشاہ ہرقل کو دعوت اسلام دینے کے لئے روانہ ہوئے۔ غوطہ دمشق میں پہنچ کر ہم جبلہ بن ایہم غسانی کے گھر گئے۔ اس نے اپنا قاصد بھیجا کہ ہم اس سے باتیں کر لیں۔ ہم نے کہا: واللہ! ہم تم سے کوئی بات نہ کریں گے۔ ہم بادشاہ کے پاس بھیجے گئے ہیں، اگر وہ چاہیں تو ہم سے خود سنیں اور خود جواب دیں ورنہ ہم قاصدوں سے گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔
قاصدوں نے یہ خبر بادشاہ کو پہنچائی، اس نے اجازت دی اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا چنانچہ میں نے اس سے باتیں کیں اور اسلام کی دعوت دی۔ وہ اس وقت سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا۔ کہنے لگا کہ دیکھ میں نے یہ لباس پہن رکھا ہے اور حلف اٹھایا ہے کہ جب تک تم لوگوں کو شام سے نہ نکال دوں گا، اس سیاہ لبادے کو نہ اتاروں گا۔ قاصد اسلام نے یہ سن کر پھر کہا: بادشاہ ہوش سنبھالو۔ اللہ کی قسم! یہ آپ کے تخت کی جگہ اور آپ کے بڑے بادشاہ کا پائے تخت بھی ان شاءاللہ ہم اپنے قبضے میں کر لیں گے۔ یہ کوئی ہماری ہوس نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں یہ پختہ خبر مل چکی ہے۔
اس نے کہا: تم وہ لوگ نہیں۔ ہاں ہم سے ہمارا یہ تخت و تاج و قوم چھینے گی جو دنوں کو روزے سے رہتے ہوں اور راتوں کو تہجد پڑھتے ہوں۔
اللہ خوب جانتا ہے کہ اسی وقت شاہ روم کا محل تھرا اٹھا، اس طرح جس طرح کسی خوشے کو تیز ہوا کا جھونکا ہلا رہا ہو۔ اسی وقت محل سے شاہی قاصد دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا: آپ کو یہ نہیں چاہیئے کہ اپنے دین کا اس طرح ہمارے سامنے اعلان کرو، چلو! تم کو بادشاہ سلامت یاد کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہم اس کے ساتھ دربار میں گئے۔ دیکھا کہ چاروں طرف سرخ مخمل اور سرخ ریشم ہے۔ خود بھی سرخ لباس پہنے ہوئے ہے۔ تمام دربار پادریوں اور ارکان سلطنت سے بھرا ہوا ہے۔
جب ہم پاس پہنچ گئے تو مسکرا کر کہنے لگا: جو سلام تم میں آپس میں مروج ہے، تم نے مجھے وہ سلام کیوں نہ کیا؟ ترجمان کی معرفت ہمیں بادشاہ کا یہ سوال پہنچا تو ہم نے جواب دیا کہ جو سلام ہم میں ہے، اس کے لائق تم نہیں اور جو آداب کا دستور تم میں ہے، وہ ہمیں پسند نہیں۔
اس نے کہا: اچھا تمہارا سلام آپس میں کیا ہے؟ ہم نے کہا: السلام علیکم۔ اس نے کہا: اپنے بادشاہ کو تم کس طرح سلام کرتے ہو؟ ہم نے کہا: صرف ان ہی الفاظ سے۔
اللہ عزوجل کی قسم! ادھر ہم نے یہ کلمہ کہا، ادھر پھر سے محل میں زلزلہ پڑا۔ یہاں تک کہ سارا دربار چھت کی طرف نظریں کر کے سہم گیا۔ بادشاہ ہیبت زدہ ہو کر پوچھنے لگا: کیوں جی اپنے گھروں میں بھی جب کبھی تم یہ کلمہ پڑھتے ہو، تمہارے گھر بھی اس طرح زلزلے میں آ جاتے ہیں؟ ہم نے کہا: کبھی نہیں۔ ہم نے تو یہ بات یہیں آپ کے ہاں ہی دیکھی ہے۔
بادشاہ کہنے لگا: کاش کہ تم جب کبھی اس کلمے کو کہتے، تمام چیزیں اسی طرح ہل جاتیں اور میرا آدھا ملک ہی رہ جاتا۔ ہم نے پوچھا: یہ کیوں؟ اس نے جواب دیا اس لیے کہ یہ آسان تھا بہ نسبت اس بات کے کہ یہ امر نبوت ہو۔
پھر اس نے ہم سے ہمارا ارادہ دریافت کیا: ہم نے صاف بتایا۔ اس نے کہا: اچھا! یہ بتاؤ کہ تم نماز کس طرح پڑھتے ہو اور روزہ کس طرح رکھتے ہو؟ ہم نے دونوں باتیں بتا دیں۔ اس نے اب ہمیں رخصت کیا اور بڑے اکرام و احترام سے ہمیں شاہی معزز مہمانوں میں رکھا۔
تین دن جب گزرے تو رات کے وقت ہمیں قاصد بلانے آیا، ہم پھر دربار میں گئے تو اس نے ہم سے پھر ہمارا مطلب پوچھا: ہم نے اسے دوہرایا۔ پھر اس نے ایک حویلی کی شکل کی سونا مڑھی ہوئی ایک چیز منگوائی جس میں بہت سارے مکانات تھے اور ان کے دروازے تھے۔ اس نے اسے کنجی سے کھول کر ایک سیاہ رنگ کا ریشمی جامہ نکالا۔ ہم نے دیکھا کہ اس میں ایک شخص ہے جس کی بڑی بڑی آنکھیں ہیں، بڑی رانیں ہیں۔ بڑی لمبی اور گھنی داڑھی ہے اور سر کے بال دو حصوں میں نہایت کو خوبصورت لمبے لمبے ہیں۔ ہم سے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔
بادشاہ اب تک کھڑا ہوا تھا، اب وہ بیٹھ گیا۔ اور ہم سے دوبارہ پوچھا کہ یہی شکل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے؟ ہم نے کہا: واللہ! یہی ہے۔ اسی طرح کہ گویا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دیکھ رہا ہے۔ پس وہ تھوڑی دیر تک تو غور سے اسے دیکھتا رہا، پھر ہم سے کہنے لگا کہ یہ آخری گھر تھا لیکن میں نے اور گھروں کو چھوڑ کر اسے بیچ میں ہی کھول دیا کہ تمہیں آزما لوں کہ تم پہچان جاتے ہو یا نہیں۔
پھر ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے بھی سیاہ رنگ ریشمی کپڑا نکالا جس میں ایک گندم گوں نرمی والی صورت تھی۔ بال گھونگھریالے، آنکھیں گہری، نظریں تیز، تیور تیکھے، دانت پر دانت، ہونٹ موٹے ہو رہے تھے جیسے کہ غصے میں بھرے ہوئے ہیں۔ اس نے ہم سے پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے انکار کیا۔ بادشاہ نے کہا: یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اسی کے متصل ایک اور صورت تھی جو قریب قریب اسی کی سی تھی۔ مگر ان کے سر کے بال گویا تیل لگے ہوئے تھے۔
پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے ایک سفید ریشمی کپڑا نکال کر دکھایا جس میں سنہرے رنگ کے ایک آدمی تھے جن کا قد طویل نہ تھا، رخسار ہلکے تھے، چہرہ خوبصورت تھا۔ اس نے ہم سے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا نہیں۔ کہا: یہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔
پھر ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے سفید ریشمی کپڑا نکال لر ہمیں دکھایا۔ اس میں جو صورت تھی، وہ پہلی صورت کے بالکل مشابہ تھی مگر ان کے ہونٹ پر تل تھا۔ اس نے ہم سے پوچھا: اسے پہچان لیا؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ یعقوب علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے سیاہ رنگ کا ریشمی کپڑا نکالا جس میں ایک شکل تھی سفید رنگ، خوبصورت اونچی ناک والے، نورانی چہرے والے جس میں خوف الٰہی ظاہر تھا۔ رنگ سرخی مائل سفید تھا۔ پوچھا اس نے: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا اسماعیل علیہ السلام ہیں۔
پھر اور دروازہ کھول کر سفید ریشمی کپڑے کا ٹکڑا نکال کر دکھایا جس میں ایک صورت تھی جو آدم علیہ السلام کی صورت سے بہت ہی ملتی جلتی تھی اور چہرہ تو سورج کی طرح روشن تھا۔ اس نے پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے لاعلمی ظاہر کی تو کہا: یہ یوسف علیہ السلام ہیں۔
پھر ایک اور دروازہ کھولا اور اس میں سے سیاہ رنگ حریری پارچہ نکالا جس میں ایک صورت تھی۔ سفید رنگ، نوجوان، سخت سیاہ داڑھی، بہت زیادہ بال، خوشمنا آنکھیں، خوبصورت چہرہ۔ اس نے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔
ہم نے پوچھا: آپ کے پاس یہ صورتیں کہاں سے آئیں؟ یہ تو ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ یہ تمام انبیاء کی اصلی صورتوں کے بالکل ٹھیک نمونے ہیں۔ کیونکہ ہم نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت کو بالکل ٹھیک اور درست پایا۔ بادشاہ نے جواب دیا: بات یہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے رب العزت سے دعا کی کہ آپ کی اولاد میں سے جو انبیاء علیہم السلام ہیں وہ سب کو دکھائے جائیں۔ پس ان کی صورتیں آپ پر نازل ہوئیں جو آدم علیہ السلام کے خزانے میں جو سورج کے غروب ہونے کی جگہ پر تھا، محفوظ تھیں۔ ذوالقرنین نے وہاں سے لے لیں اور دانیال کو دیں۔
پھر بادشاہ کہنے لگا کہ میں تو اس پر خوش ہوں کہ اپنی بادشاہی چھوڑ دوں۔ میں اگر غلام ہوتا تو تمہارے ہاتھوں بک جاتا اور تمہاری غلامی میں اپنی پوری زندگی بسر کرتا۔ پھر اس نے ہمیں بہت کچھ تحفے تحائف دے کر اچھی طرح رخصت کیا۔
{ عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفتیں تورات میں ہوں، وہ مجھے بتاؤ تو انہوں نے فرمایا: ہاں واللہ آپ کی صفتیں تورات میں ہیں، جو قرآن میں بھی ہیں کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کو گواہ اور خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا اور ان پڑھوں کو گمراہی سے بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ آپ میرے بندے اور رسول ہیں، آپ کا نام متوکل ہے، آپ بدگو اور بدخلق نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو قبض نہ کرے گا جب تک کہ آپ کی وجہ سے لوگوں کی زبان سے «لَا اِلٰہَ اِلّاََ اللہُ» کہلوا کر ٹیڑھے دین کو درست نہ کر دے، بند دلوں کو کھول نہ دے، بہرے کانوں کو سننے والا نہ بنا دے، اندھی آنکھوں کو دیکھتی نہ کر دے۔ } یہ روایت صحیح بخاری شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4838]
بخاری شریف کی اس روایت میں اس ذکر کے بعد کہ آپ بدخلق نہیں، یہ بھی ہے کہ { آپ بازاروں میں شور و غل کرنے والے نہیں، آپ برائی کے بدلے برائی کرنے والے نہیں بلکہ معافی اور درگزر کرنے والے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4838]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث کے ذکر کے بعد ہے کہ سلف کے کلام میں عموماً تورات کا لفظ اہل کتاب کی کتابوں پر بولا جاتا ہے۔ اس کے مشابہ اور بھی روایتیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
طبرانی میں { جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ میں تجارت کی غرض سے شام میں گیا۔ وہاں میری ملاقات اہل کتاب کے ایک عالم سے ہوئی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ نبی تم میں ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: اگر تمہیں ان کی صورت دکھائیں تو تم پہچان لو گے؟ میں نے کہا: ضرور! چنانچہ وہ مجھے ایک گھر میں لے گیا جہاں بہت سی صورتیں تھیں لیکن ان میں میری نگاہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی شبیہ نہ آئی، اسی وقت ایک اور عالم آیا۔ ہم سے پوچھا: کیا بات ہے؟ جب اسے ساری بات معلوم ہوئی تو وہ ہمیں اپنے مکان لے گیا۔ وہاں جاتے ہی میری نگاہ آپ کی شبیہ پر پڑی اور میں نے دیکھا کہ گویا کوئی آپ کے پیچھے ہی آپ کو تھامے ہوئے ہے، میں نے یہ دیکھ کر اس سے پوچھا: یہ دوسرے صاحب پیچھے کیسے ہیں؟
{ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے مؤذن اقرع کو ایک پادری کے پاس بھیجا۔ آپ اسے بلا لائے، امیر المؤمنین نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ تم میری صفت اپنی کتابوں میں پاتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ کہا کیا؟ اس نے جواب دیا کہ قرن۔ آپ نے کوڑا اٹھا کر فرمایا: قرن کیا ہے؟ اس نے کہا: گویا کہ وہ لوہے کا سینگ ہے، وہ امیر ہے، دین میں بہت سخت۔ فرمایا: اچھا میرے بعد والے کی صفت کیا ہے؟ اس نے کہا کہ خلیفہ تو وہ نیک صالح ہے لیکن اپنے قرابتداروں کو وہ دوسروں پر ترجیح دے گا۔ آپ نے فرمایا: اللہ عثمان پر رحم کرے! تین بار یہ فرمایا، پھر فرمایا: اچھا! ان کے بعد؟ اس نے کہا: لوہے کے ٹکڑے جیسا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا اور افسوس کرنے لگے۔ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہوں گے تو وہ نیک خلیفہ لیکن بنائے ہی اس وقت جائیں گے جب تلوار کھچی ہوئی ہو اور خون بہہ رہا ہو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4656، قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ابوداؤد)
ان کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ آپ نیکیوں کا حکم دیں گے، برائیوں سے روکیں گے۔ فی الواقع آپ ایسے ہی تھے۔ کون سی بھلائی ہے جس کا آپ نے حکم نہ دیا ہو؟ کون سی برائی ہے جس سے آپ نے نہ روکا ہو؟
جیسے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم جب قرآن کے یہ لفظ سنو کہ اے ایمان والو تو اسی وقت ہمہ تن گوش ہو جاؤ کیونکہ یا تو کسی خیر کا تمہیں حکم کیا جائے گا یا کسی شر سے تمہیں بچایا جائے گا۔ ان میں سب سے زیادہ تاکید اللہ کی وحدانیت کی تھی جس کا حکم برابر ہر نبی کو ہوتا رہا۔“
مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جب تم میری کسی حدیث کو سنو جسے تمہارے دل پہچان لیں، تمہارے جسم اس کی قبولیت کے لیے تیار ہو جائیں اور تمہیں یہ معلوم ہو کہ وہ میرے لائق ہے تو میں اس سے بہ نسبت تمہارے زیادہ لائق ہوں اور جب تم میرے نام سے کوئی ایسی بات سنو جس سے تمہارے دل انکار کریں اور تمہارے جسم نفرت کریں اور تم دیکھو کہ وہ تم سے بہت دور ہے۔ پس میں بہ نسبت تمہارے بھی اس سے بہت دور ہوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:425/5:حسن] اس کی سند بہت پکی ہے
اسی کی ایک اور روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ { جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول کوئی حدیث سنو تو اس کے ساتھ وہ خیال کرو جو خوب راہ والا بہت مبارک اور بہت پرہیزگاری والا ہو۔ } ۱؎ [مسند احمد:122/1:مرسل صحیح]
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صفت بیان ہو رہی ہے کہ آپ کل پاک صاف اور طیب چیزوں کو حلال کرتے ہیں۔ بہت سی چیزیں ان میں ایسی تھیں جنہیں لوگوں نے از خود حرام قرار دے لیا تھا۔ جیسے جانوروں کو بتوں کے نام کر کے نشان ڈال کر انہیں حرام سمجھنا وغیرہ اور خبیث اور گندی چیزیں آپ لوگوں پر حرام کرتے ہیں۔ جیسے سور کا گوشت، سود وغیرہ اور جو حرام چیزیں لوگوں نے از خود حلال کر لی تھیں۔
اسی آیت کو زیر نظر رکھ کر بعض اور علماء نے کہا ہے کہ جن چیزوں کا حلال حرام ہونا کسی کو نہ پہنچا ہو اور کوئی آیت یا حدیث اس کے بارے میں نہ ملی ہو تو دیکھنا چاہیئے کہ عرب اسے اچھی چیز سمجھتے ہیں یا اس سے کراہت کرتے ہیں۔ اگر اسے اچھی چیز جان کر استعمال میں لاتے ہیں تو حلال ہے اور اگر بری چیز سمجھ کر نفرت کر کے اسے نہ کھاتے ہوں تو وہ حرام ہے۔ اس اصول میں بھی بہت کچھ گفتگو ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ آپ بہت صاف، آسان اور سہل دین لے کر آئیں گے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ { میں ایک طرف آسان دین دے کر معبوث کیا گیا ہوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:116/6:صحیح]
{ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یمن کا امیر بنا کر بھیجتے ہیں تو فرماتے ہیں: تم دونوں خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا۔ آسانی کرنا، سختی نہ کرنا۔ مل کر رہنا، اختلاف نہ کرنا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6124]
پہلی امتوں میں بہت سختیاں تھیں لیکن پروردگار عالم نے اس امت سے وہ تمام تنگیاں دور فرما دیں۔ آسان دین اور سہولت والی شریعت انہیں عطا فرمائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میری امت کے دلوں میں جو وسوسے گزریں، ان پر انہیں پکڑ نہیں جب تک کہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ لائیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2043]
فرماتے ہیں: { میری امت کی بھول چوک اور غلطی سے اور جو کام ان سے جبراً کرائے جائیں، ان سے اللہ تعالیٰ نے قلم اٹھا لیا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہی وجہ ہے کہ اس امت کو خود اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم فرمائی کہ ’ کہو اے ہمارے پروردگار! تو ہماری بھول چوک پر ہماری پکڑ نہ کر۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ لاد جو ہم سے پہلوں پر تھا۔ اے ہمارے رب! ہمیں ہماری طاقت سے زیادہ بوجھل نہ کر۔ ہمیں معاف فرما، ہمیں بخش، ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا کار ساز مولیٰ ہے۔ پس ہمیں کافروں پر مدد عطا فرما۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:286]
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { جب مسلمانوں نے یہ دعائیں کیں تو ہر جملے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے یہ قبول فرمایا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:126]
پس جو لوگ اس نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کا ادب، عزت کریں اور جو وحی آپ پر اتری ہے، اس نور کی پیروی کریں۔ وہی دنیا و آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن تمام الإيمان بآيات الله معرفة معناها والعمل بمقتضاها، ومن ذلك اتباع النبي - صلى الله عليه وسلم - ظاهراً وباطناً في أصول الدين وفروعه: {الذين يتَّبِعون الرسول النبيَّ الأميَّ}: احترازٌ عن سائر الأنبياء؛ فإن المقصود بهذا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب والسياق في أحوال بني إسرائيل، وأن الإيمان بالنبيِّ محمد - صلى الله عليه وسلم - شرطٌ في دخولهم في الإيمان، وأن المؤمنين به المتَّبعين هم أهل الرحمة المطلقة التي كتبها الله لهم، ووصفه بالأمي لأنَّه من العرب الأمة الأميَّة التي لا تقرأ ولا تكتب وليس عندها قبل القرآن كتاب. {الذي يجِدونَهُ مكتوباً عندَهم في التوراة والإنجيل}: باسمه وصفته التي من أعظمها وأجلِّها ما يدعو إليه وينهى عنه، وأنه {يأمُرُهم بالمعروف}: وهو كل ما عُرِفَ حسنُهُ وصلاحه ونفعه. {وينهاهم عن المنكر}: وهو كلُّ ما عرف قبحه في العقول والفطر، فيأمرهم بالصلاة والزكاة والصوم والحج وصلة الأرحام وبر الوالدين والإحسان إلى الجار والمملوك وبذل النفع لسائر الخلق والصدق والعفاف والبر والنصيحة وما أشبه ذلك، وينهى عن الشرك بالله وقتل النفوس بغير حق والزِّنا وشرب ما يسكر العقل والظلم لسائر الخلق والكذب والفجور ونحو ذلك؛ فأعظم دليل يدلُّ على أنه رسول الله ما دعا إليه وأمر به ونهى عنه وأحلَّه وحرَّمه؛ فإنه يُحِلُّ الطيبات: من المطاعم والمشارب والمناكح. {ويحرِّمُ عليهم الخبائث}: من المطاعم والمشارب والمناكح والأقوال والأفعال. {ويَضَعُ عنهم إصْرَهُم والأغلال التي كانت عليهم}؛ أي: ومِنْ وَصْفِهِ أنَّ دينه سهلٌ سَمْحٌ ميسَّر لا إصر فيه ولا أغلال ولا مشقات ولا تكاليف ثقال.
{فالذين آمنوا به وعزَّروه}؛ أي: عظَّموه وبجَّلوه، {ونصروه واتَّبعوا النور الذي أنزلَ معه}: وهو القرآن الذي يُستضاء به في ظلمات الشَّكِّ والجهالات، ويقتدى به إذا تعارضت المقالات. {أولئك هم المفلحون}: الظافرون بخير الدُّنيا والآخرة، والناجون من شرِّهما؛ لأنَّهم أتوا بأكبر أسباب الفلاح، وأما مَن لم يؤمنْ بهذا النبيِّ الأميِّ، ويعزِّره، وينصره، ولم يتَّبع النور الذي أنزل معه؛ فأولئك هم الخاسرون.