قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾
کہہ دے اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، وہ (اللہ) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اس کی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، پس تم اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر ایمان لاؤ، جو اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو، تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
(اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 158) ➊ {قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا …:} یعنی میری رسالت تمام دنیا کے لوگوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے۔{ ” جَمِيْعًا “ } کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں صاف ظاہر ہیں اور مجھے ہدایت کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجنے والا وہ ہے جو آسمان و زمین کا بادشاہ، اکیلا عبادت کا حق دار اور موت و حیات کا مالک ہے۔ اب مجھ پر ایمان نہ لانے کی صورت میں اپنا انجام سوچ لو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تاقیامت تمام قوموں کے لیے رسول ہونے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر کیا ہے۔ دیکھیے سورۂ سبا (۲۸)، فرقان (۱) اور احزاب (۴۰)۔ ”جہاں تک پہنچے“ کے الفاظ کے ساتھ رسالت عام ہونے کی تصریح کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۹) عرب اور اہل کتاب کی صراحت کے ساتھ دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۰) اور دوسری آیات۔
➋ {فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ …:} پچھلی آیت میں اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف نبی اُمی کا خاص ذکر فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کئی مقامات پر نبوت سے پہلے آپ کے ان پڑھ ہونے اور پہلی کتابوں اور ایمان کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہونے کو کئی جگہ بیان فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: ”آپ اس سے پہلے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔“ [العنکبوت: ۴۸] اور فرمایا: ”یہ غیب کی خبروں سے ہے۔ اس سے پہلے انھیں نہ آپ جانتے تھے، نہ آپ کی قوم۔“ [ھود: ۴۹] اور فرمایا: ”آپ وحی سے پہلے نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے۔“ [الشوریٰ: ۵۲] بلکہ فرمایا: ”آپ کو امید تک نہ تھی کہ آپ کو کتاب عطا کی جائے گی۔“ [القصص: ۸۶] کئی لوگوں پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہونے سے بھی پہلے ہر چیز کا علم رکھتے تھے، پھر آپ کا خاص وصف امی کیا ہوا کہ ایک بالکل ان پڑھ شخص دنیا کے تمام پڑھے لکھے، دانشور، فلسفی اور دوسرے علوم میں کمال رکھنے والوں کا استاد بن گیا۔
➌ { يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ:} اللہ تعالیٰ کے کلمات کے لامحدود ہونے کا تذکرہ دیکھیے سورۂ کہف (۱۰۹) اور لقمان (۲۷) میں۔
➍ { لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ:} معلوم ہوا اب ہدایت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی میں ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی (انفرادی ہو یا اجتماعی اس) کے ہر گوشہ میں آپ ہی کی ہدایت اور نقش قدم پر چلا جائے، اس کے علاوہ ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔ دیکھیے سورۂ نجم (۳، ۴)۔
➋ {فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ …:} پچھلی آیت میں اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف نبی اُمی کا خاص ذکر فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کئی مقامات پر نبوت سے پہلے آپ کے ان پڑھ ہونے اور پہلی کتابوں اور ایمان کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہونے کو کئی جگہ بیان فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: ”آپ اس سے پہلے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔“ [العنکبوت: ۴۸] اور فرمایا: ”یہ غیب کی خبروں سے ہے۔ اس سے پہلے انھیں نہ آپ جانتے تھے، نہ آپ کی قوم۔“ [ھود: ۴۹] اور فرمایا: ”آپ وحی سے پہلے نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے۔“ [الشوریٰ: ۵۲] بلکہ فرمایا: ”آپ کو امید تک نہ تھی کہ آپ کو کتاب عطا کی جائے گی۔“ [القصص: ۸۶] کئی لوگوں پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہونے سے بھی پہلے ہر چیز کا علم رکھتے تھے، پھر آپ کا خاص وصف امی کیا ہوا کہ ایک بالکل ان پڑھ شخص دنیا کے تمام پڑھے لکھے، دانشور، فلسفی اور دوسرے علوم میں کمال رکھنے والوں کا استاد بن گیا۔
➌ { يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ:} اللہ تعالیٰ کے کلمات کے لامحدود ہونے کا تذکرہ دیکھیے سورۂ کہف (۱۰۹) اور لقمان (۲۷) میں۔
➍ { لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ:} معلوم ہوا اب ہدایت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی میں ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی (انفرادی ہو یا اجتماعی اس) کے ہر گوشہ میں آپ ہی کی ہدایت اور نقش قدم پر چلا جائے، اس کے علاوہ ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔ دیکھیے سورۂ نجم (۳، ۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
158۔ 1 یہ آیت بھی رسالت محمدیہ کی عالمگیر رسالت کے اثبات میں بالکل واضح ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کہ اے کائنات کے انسانو! میں سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری بنی نوع انسانی کے نجات دہندہ اور رسول ہیں۔ اب نجات اور ہدایت نہ عیسائت میں ہے نہ یہودیت میں، نہ کسی اور مذ ہب میں، نجات اور ہدایت اگر ہے تو صرف اسلام کے اپنانے اور اسے ہی اختیار کرنے میں ہے اس آیت میں بھی اور اس سے پہلی آیت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو النبی الأمی کہا گیا ہے۔ یہ آپ کی ایک خاص صفت ہے۔ امی کے معنی ہیں ان پڑھ۔ یعنی آپ نے کسی استاد کے سامنے زانو بطور شاگرد نہیں کئے کسی سے کسی قسم کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم پیش کیا، اس کے اعجاز و بلاغت کے سامنے دنیا بھر کے خوش بیان عالم فاضل عاجز آگئے اور آپ نے جو تعلیمات پیش کیں، ان کی صداقت و حقانیت کی ایک دنیا اعتراف کرتی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ واقع اللہ کے سچے رسول ہیں ورنہ ایک ان پڑھ نہ ایسا قرآن پیش کرسکتا ہے اور نہ ہی ایسی تعلیمات بیان کرسکتا ہے جو عدل و انصاف کا بہترین نمونہ اور انسانیت کی فلاح و کامرانی کے لئے ناگزیر ہیں، انہیں اپنائے بغیر دنیا حقیقی امن سکون اور راحت و عافیت سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
158۔ آپ کہہ دیجیے: ”لوگو! میں تم سب کی طرف [159] اس اللہ کا رسول ہوں جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ لہذا اللہ اور اس کے رسول نبی امی پر ایمان لاؤ، جو اللہ اور اس کے ارشادات [160] پر ایمان لاتا ہے اور اسی کی پیروی کرو۔ امید ہے کہ تم راہ راست پالو گے“۔
[159] آپﷺ تا قیامت اور تمام لوگوں کے لیے رسول ہیں:۔
اس جملہ سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ انبیاء کی طرح نہ نسلی یا قومی پیغمبر تھے اور نہ علاقائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلقہ تبلیغ پوری دنیا کے انسان ہیں اور سارے کے سارے لوگ ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقتی یا کسی مخصوص زمانہ کے بھی پیغمبر نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے پیغمبر ہیں اور آپ کی رسالت کا کام تا قیامت جاری رہے گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اللہ کی طرف سے آنے والا نہیں اور اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا اور کذاب ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی بھر امکانی حد تک تبلیغ رسالت کا فریضہ سر انجام دیا حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر یہ ذمہ داری ڈالی کہ جن لوگوں تک اللہ کا پیغام نہیں پہنچ سکا، ان تک وہ پہنچا دیں لہٰذا اب اس امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کی دعوت کو دنیا کے کونے کونے تک پہچانے کا کام سر انجام دیں اور اس کام کے لیے جو ممکن ذرائع اختیار کیے جا سکتے ہوں وہ کیے جائیں۔
[160] نبی خود سب سے پہلے اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے:۔
اس جملہ سے معلوم ہوا کہ ہر نبی اور ہر رسول پر یہ فرض ہوتا ہے کہ سب سے پہلے وہ خود اپنی نبوت اور رسالت پر ایمان لائے پھر دوسرے لوگوں کو دعوت دے اور تمہارا یہ نبی امی بھی سب سے پہلے اس اللہ اور اس کے کلمات ہدایت و ارشاد پر ایمان لا چکا ہے جو زمین و آسمان کی سلطنت کا خالق و مالک اور خود تمہاری زندگی اور موت کا بھی مالک ہے اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق ہے اور نہ کارساز۔ لہٰذا اگر ہدایت چاہتے ہو تو اس پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
النبی العالم اور النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ تمام عرب، عجم، گوروں، کالوں سے کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ آپ کی شرافت و عظمت ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام دنیا کے لیے صرف آپ ہی نبی ہیں۔
جیسے فرمان قرآن ہے «قُلِ اللَّـهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] یعنی ’ اعلان کر دے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہ ہے۔ اس پاک قرآن کی وحی میری جانب اس لیے اتاری گئی ہے کہ میں اس سے تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پہنچے سب کو ہوشیار کر دوں۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» ۱؎ [11-هود:17] یعنی ’ مخلوق کے مختلف گروہ میں سے جو بھی آپ کا انکار کرے، اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ» ۱؎ [3-آل عمران:20] یعنی ’ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے کہہ دو کہ کیا تم مانتے ہو؟ اگر تسلیم کر لیں، مسلمان ہو جائیں تو راہ پر ہیں ورنہ تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ ‘
اس مضمون کی اور بھی قرآنی آیتیں بکثرت ہیں اور حدیثیں تو اس بارے میں بےشمار ہیں۔ دین اسلام کی ذرا سی بھی سمجھ جسے ہے، وہ بالیقین جانتا اور مانتا ہے کہ آپ تمام جہان کے لوگوں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { اتفاق سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میں کچھ چشمک ہو گئی۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ کو ناراض کر دیا۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ اسی حالت میں چلے گئے۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ آپ معاف فرمائیں اور اللہ سے میرے لیے بخشش چاہیں لیکن عمر رضی اللہ عنہ راضی نہ ہوئے بلکہ کواڑ بند کر لیے۔ آپ لوٹ کر دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے اور اس وقت اور صحابہ رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے انہیں ناراض اور غضبناک کر دیا۔
جیسے فرمان قرآن ہے «قُلِ اللَّـهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] یعنی ’ اعلان کر دے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہ ہے۔ اس پاک قرآن کی وحی میری جانب اس لیے اتاری گئی ہے کہ میں اس سے تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پہنچے سب کو ہوشیار کر دوں۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» ۱؎ [11-هود:17] یعنی ’ مخلوق کے مختلف گروہ میں سے جو بھی آپ کا انکار کرے، اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ» ۱؎ [3-آل عمران:20] یعنی ’ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے کہہ دو کہ کیا تم مانتے ہو؟ اگر تسلیم کر لیں، مسلمان ہو جائیں تو راہ پر ہیں ورنہ تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ ‘
اس مضمون کی اور بھی قرآنی آیتیں بکثرت ہیں اور حدیثیں تو اس بارے میں بےشمار ہیں۔ دین اسلام کی ذرا سی بھی سمجھ جسے ہے، وہ بالیقین جانتا اور مانتا ہے کہ آپ تمام جہان کے لوگوں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { اتفاق سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میں کچھ چشمک ہو گئی۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ کو ناراض کر دیا۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ اسی حالت میں چلے گئے۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ آپ معاف فرمائیں اور اللہ سے میرے لیے بخشش چاہیں لیکن عمر رضی اللہ عنہ راضی نہ ہوئے بلکہ کواڑ بند کر لیے۔ آپ لوٹ کر دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے اور اس وقت اور صحابہ رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے انہیں ناراض اور غضبناک کر دیا۔
{ عمر رضی اللہ عنہ صدیق رضی اللہ عنہ کی واپسی کے بعد بہت ہی نادم ہوئے اور اسی وقت دربار رسالت مآب میں حاضر ہو کر تمام بات کہہ سنائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ باربار کہتے جاتے تھے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زیادہ ظلم تو مجھ سے سرزد ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میرے ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑتے نہیں؟ سنو! جب میں نے اس آواز حق کو اٹھایا کہ لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں تو تم نے کہا: تو جھوٹا ہے لیکن اس ابوبکر نے کہا: آپ سچے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4640]
{ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ یاد رہے کہ میں اسے فخراً نہیں کہتا۔ میں تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہوں اور میری مدد مہینے بھر کے فاصلے سے صرف رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کر دیئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہیں کئے گئے تھے اور میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کے لیے حلال کر دی گئی ہے اور مجھے اپنی امت کی شفاعت عطا فرمائی گئی ہے جسے میں نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ } (مسند امام احمد) ۱؎ [مسند احمد:301/1:حسن]
{ عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پس بہت سے صحابہ آپ کے پیچھے جمع ہو گئے کہ آپ کی چوکیداری کریں۔ نماز کے بعد آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس رات مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے اور کسی کو نہیں دی گئیں۔ میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں
{ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ یاد رہے کہ میں اسے فخراً نہیں کہتا۔ میں تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہوں اور میری مدد مہینے بھر کے فاصلے سے صرف رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کر دیئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہیں کئے گئے تھے اور میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کے لیے حلال کر دی گئی ہے اور مجھے اپنی امت کی شفاعت عطا فرمائی گئی ہے جسے میں نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ } (مسند امام احمد) ۱؎ [مسند احمد:301/1:حسن]
{ عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پس بہت سے صحابہ آپ کے پیچھے جمع ہو گئے کہ آپ کی چوکیداری کریں۔ نماز کے بعد آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس رات مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے اور کسی کو نہیں دی گئیں۔ میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں
{ مجھ سے پہلے کے تمام رسول صرف اپنی اپنی قوم کی طرف ہی نبی بنا کر بھیجے جاتے رہے، مجھے اپنے دشمنوں پر رعب کے ساتھ مدد دی گئی ہے گو وہ مجھ سے مہینے بھر کے فاصلے پر ہوں، وہیں وہ مرعوب ہو جاتے ہیں۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا حالانکہ مجھ سے پہلے کے لوگ ان کی بہت عظمت کرتے تھے، وہ اس مال کو جلا دیا کرتے تھے اور میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کی پاک چیز بنادی گئی ہے۔ جہاں کہیں میرے امتی کو نماز کا وقت آ جائے، وہ تیمم کر لے اور نماز ادا کر لے۔ مجھ سے پہلے کے لوگ اس کی عظمت کرتے تھے، سوائے ان جگہوں کے جو نماز کے لیے مخصوص تھیں اور جگہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ مجھ سے فرمایا گیا: آپ دعا کیجئے، مانگئے کیا مانگتے ہیں؟ ہر نبی مانگ چکا ہے تو میں نے اپنے اس سوال کو قیامت پر اٹھا رکھا ہے پس وہ تم سب کے لیے ہے اور ہر اس شخص کیلئے جو «لا الٰہ الا اللہ» کی گواہی دے۔ } ۱؎ [مسند احمد:222/2:صحیح]
اس کی اسناد بہت پختہ ہے اور مسند احمد میں یہ حدیث موجود ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے کہ { میری امت میں سے جس یہودی یا نصرانی کے کان میں میرا ذکر پڑے اور وہ مجھ پر ایمان نہ لائے، وہ جنت میں نہیں جا سکتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:398/4:صحیح لغیرہ]
یہ حدیث اور سند سے صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153]
مسند احمد میں ہے کہ { اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ذکر اس امت کے جس یہودی، نصرانی کے پاس پہنچے اور وہ مجھ پر اور میری وحی پر ایمان نہ لائے اور مر جائے، وہ جہنمی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:350/2:صحیح]
مسند کی ایک اور حدیث میں آپ نے ان پانچوں چیزوں کا ذکر فرمایا جو صرف آپ کو ہی ملی ہیں۔ پھر فرمایا: { ہر نبی نے شفاعت کا سوال کر لیا ہے اور میں نے اپنے سوال کو چھپا رکھا ہے اور ان کے لیے اٹھا رکھا ہے جو میری امت میں سے توحید پر مرے۔ } ۱؎ [مسند احمد:416/4:صحیح]
یہ حدیث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ { مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کے انبیاء کو نہیں دی گئیں۔ مہینے بھر کی مسافت تک رعب سے امداد و نصرت، ساری زمین کا مسجد و طہور ہونا کہ میری امت کو جہاں وقت نماز آ جائے، ادا کر لے۔ غنیمتوں کا حلال کیا جانا جو پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھیں۔ شفاعت کا دیا جانا۔ تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا جانا حالانکہ پہلے انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف ہی بھیجے جاتے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335]
پھر فرماتا ہے کہ کہو، مجھے اس اللہ نے بھیجا ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، سب چیزوں کا خالق، مالک ہے۔ جس کے ہاتھ میں ملک ہے، جو مارنے، جلانے پر قادر ہے۔ جس کا حکم چلتا ہے۔
پس اے لوگو! تم اللہ پر اور اس کے رسول و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود دنیا کو پڑھا رہے ہیں۔ انہی کا تم سے وعدہ تھا اور ان ہی کی بشارت تمہاری کتابوں میں بھی ہے، انہی کی صفتیں اگلی کتابوں میں ہیں۔ یہ خود اللہ کی ذات پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں۔ قول و فعل سب میں اللہ کے کلام کے مطیع ہیں۔ تم سب ان کے ماتحت اور فرمانبردار ہو جاؤ۔ انہی کے طریقے پر چلو، انہی کی فرمانبرداری کرو، تم راہ راست پر آ جاؤ گے۔
یہ حدیث اور سند سے صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153]
مسند احمد میں ہے کہ { اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ذکر اس امت کے جس یہودی، نصرانی کے پاس پہنچے اور وہ مجھ پر اور میری وحی پر ایمان نہ لائے اور مر جائے، وہ جہنمی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:350/2:صحیح]
مسند کی ایک اور حدیث میں آپ نے ان پانچوں چیزوں کا ذکر فرمایا جو صرف آپ کو ہی ملی ہیں۔ پھر فرمایا: { ہر نبی نے شفاعت کا سوال کر لیا ہے اور میں نے اپنے سوال کو چھپا رکھا ہے اور ان کے لیے اٹھا رکھا ہے جو میری امت میں سے توحید پر مرے۔ } ۱؎ [مسند احمد:416/4:صحیح]
یہ حدیث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ { مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کے انبیاء کو نہیں دی گئیں۔ مہینے بھر کی مسافت تک رعب سے امداد و نصرت، ساری زمین کا مسجد و طہور ہونا کہ میری امت کو جہاں وقت نماز آ جائے، ادا کر لے۔ غنیمتوں کا حلال کیا جانا جو پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھیں۔ شفاعت کا دیا جانا۔ تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا جانا حالانکہ پہلے انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف ہی بھیجے جاتے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335]
پھر فرماتا ہے کہ کہو، مجھے اس اللہ نے بھیجا ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، سب چیزوں کا خالق، مالک ہے۔ جس کے ہاتھ میں ملک ہے، جو مارنے، جلانے پر قادر ہے۔ جس کا حکم چلتا ہے۔
پس اے لوگو! تم اللہ پر اور اس کے رسول و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود دنیا کو پڑھا رہے ہیں۔ انہی کا تم سے وعدہ تھا اور ان ہی کی بشارت تمہاری کتابوں میں بھی ہے، انہی کی صفتیں اگلی کتابوں میں ہیں۔ یہ خود اللہ کی ذات پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں۔ قول و فعل سب میں اللہ کے کلام کے مطیع ہیں۔ تم سب ان کے ماتحت اور فرمانبردار ہو جاؤ۔ انہی کے طریقے پر چلو، انہی کی فرمانبرداری کرو، تم راہ راست پر آ جاؤ گے۔