اس آیت کی تفسیر آیت 134 میں تا آیت 136 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
135۔ 1 یعنی ایک عذاب آتا تو اس سے تنگ آکر موسیٰ ؑ کے پاس آتے تو ان کی دعا سے ٹل جاتا تو ایمان لانے کی بجائے پھر اس کفر اور شرک پر جمے رہتے پھر دوسرا عذاب آجاتا پھر اسی طرح کرتے یوں کچھ کچھ وقفوں سے پانچ عذاب ان پر آئے لیکن ان کے دلوں میں جو فرعونیت اور دماغوں میں جو تکبر تھا وہ حق کی راہ میں ان کے لئے زنجیر پا بنا رہا اتنی اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان کی دولت سے محروم ہی رہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
135۔ پھر جب ہم ان سے وہ عذاب (ایک اور قسم کا عذاب آنے کی) مدت تک ہٹا دیتے تو وہ عہد شکنی کر دیتے تھے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔