اور جب ان پر عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ! اپنے رب سے ہمارے لیے اس عہد کے واسطے سے دعا کر جو اس نے تیرے ہاں دے رکھا ہے، یقینا اگر تو ہم سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ضرور ہی تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو ضرور ہی بھیج دیں گے۔
En
اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے
اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے کہ اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے! جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے، اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرور ضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی (رہا کر کے) آپ کے ہمراه کر دیں گے
En
اس آیت کی تفسیر آیت 133 میں تا آیت 135 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
134۔ اور جب ان پر کوئی عذاب [130] آن پڑتا تو کہتے: ”موسیٰ! تیرے پروردگار نے تجھ سے جو (دعا قبول کرنے کا) عہد کیا ہوا ہے تو ہمارے لیے دعا کر۔ اگر تو ہم سے عذاب کو دور کر دے گا تو ہم یقیناً تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ روانہ کر دیں گے“
[130] چھٹا طاعون کا عذاب:۔
یعنی اس قوم کا یہ وطیرہ بن گیا کہ مذکورہ پانچ عذابوں میں سے جب کوئی عذاب آتا تو فوراً سیدنا موسیٰؑ کے پاس دعا کے لیے التجا کرتے اور کہتے کہ تمہارے پروردگار نے جو تم سے عہد کر رکھا ہے اس کے مطابق تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی اور اگر تمہاری دعا سے ہم پر سے عذاب ٹل گیا تو پھر ہم تمہارا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ روانہ کر دیں گے اس طرح پانچ دفعہ یہی واقعہ ہوا اور یہ فرعونی ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے تھے۔ اور بعض مفسرین نے یہاں لفظ رجز کے معنی عذاب کے بجائے طاعون کے لیے ہیں اور ایک حدیث سے اس معنی کی تائید بھی ہو جاتی ہے اس لحاظ سے یہ فرعونیوں پر چھٹا عذاب تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب فرعونیوں پر طاعون کا عذاب نازل ہوا تو ان کے بے شمار آدمی مرنے لگے اور ہر گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ اسی دوران سیدنا موسیٰؑ کو ہجرت کا حکم دیا گیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر شام کی طرف نکل جائیں چونکہ فرعونی اپنی پریشانی میں مبتلا تھے لہٰذا وہ فوری طور پر ان کا تعاقب نہ کر سکے اور جب فرعون اپنا لاؤ لشکر لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہوا تو اس وقت وہ بحیرہ قلزم کے قریب پہنچ چکے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَمَّاوَقَ٘عَعَلَیْهِمُالرِّجْزُ ﴾”اور جب ان پر عذاب واقع ہوا“ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوْایٰمُوْسَىادْعُلَنَارَبَّ٘كَبِمَاعَهِدَعِنْدَكَ ﴾”تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے“ یعنی وہ موسیٰ علیہ السلام کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے: ﴿لَىِٕنْكَشَفْتَعَنَّاالرِّجْزَلَنُؤْمِنَ٘نَّلَكَوَلَـنُرْسِلَ٘نَّمَعَكَبَنِیْۤاِسْرَآءِیْلَ ﴾”اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔“وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولما وقع عليهم الرِّجْزُ}؛ أي: العذاب؛ يحتمل أنَّ المراد به الطاعون كما قاله كثيرٌ من المفسِّرين، ويحتمل أن يُراد به ما تقدَّم من الآيات الطوفان والجراد والقمَّل والضفادع والدَّم؛ فإنها رجزٌ وعذابٌ، وإنهم كلَّما أصابهم واحد منها؛ {قالوا يا موسى ادعُ لنا ربك بما عَهدَ عندك}؛ أي: تشفَّعوا بموسى بما عَهدَ الله عنده من الوحي والشرع. {لئن كشفتَ عنَّا الرِّجْزَ لنؤمننَّ لك ولنرسلنَّ معك بني إسرائيل}: وهم في ذلك كذبةٌ لا قصدَ لهم إلا زوالُ ما حلَّ بهم من العذاب، وظنُّوا إذا رفع لا يصيبهم غيره.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔