وَ قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اَتَذَرُ مُوۡسٰی وَ قَوۡمَہٗ لِیُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ یَذَرَکَ وَ اٰلِہَتَکَ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَہُمۡ وَ نَسۡتَحۡیٖ نِسَآءَہُمۡ ۚ وَ اِنَّا فَوۡقَہُمۡ قٰہِرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا، تاکہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں اور وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے؟ اس نے کہا ہم ان کے بیٹوں کو بری طرح قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے اور یقینا ہم ان پر قابو رکھنے والے ہیں۔
اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں
اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وه ملک میں فساد کرتے پھریں، اور وه آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کئے رہیں۔ فرعون نے کہا کہ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زنده رہنے دیں گے اور ہم کو ان پر ہر طرح کا زور ہے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 127) ➊ { وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ …: } موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے غلبے اور جادوگروں کے ایمان لانے پر اگرچہ چند ہی نوجوانوں نے ایمان لانے کی جرأت کی اور وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے۔ (دیکھیے یونس: ۸۳) تاہم فرعون کی بنی اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کچھ کم ہو گئیں تو اس کے سرداروں نے اسے یہ کہہ کر بھڑکایا کہ کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کریں، یعنی وہ تمھاری رعیت کو دعوت دیتے پھریں کہ وہ تمھارے اور تمھارے معبودوں کے بجائے اللہ واحد کی عبادت کریں اور ملک میں دعوتِ توحید سے فساد پھیلاتے پھریں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”تعجب ہے کہ یہ لوگ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے فساد پھیلانے سے ڈر رہے ہیں، حالانکہ فساد پھیلانے والے تو وہ خود ہیں۔“ فرمایا: «{ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ }» [البقرۃ: ۱۲] ”سن لو! یقینا وہی تو فساد ڈالنے والے ہیں اور لیکن وہ نہیں سمجھتے۔“
➋ {وَ يَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ: ” آلِهَةٌ “} یہ {” اِلٰهٌ “} کی جمع ہے، جس کا معنی معبود ہے، یعنی وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رکھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے بھی کچھ معبود تھے جن کی وہ عبادت کرتا تھا۔ بعض صحابہ کی قراء ت میں {”اِلَاهَتَكَ“} ہے، {” اِلَاهَةٌ “} کا معنی عبادت ہے، یعنی وہ تجھے اور تیری عبادت کو چھوڑے رکھیں، یہ بھی اگرچہ درست ہے مگر مشہور قراءت پہلی ہی ہے۔ اس لیے اہل علم نے اس کی کئی توجیہات کی ہیں اور وہ سبھی ممکن ہیں۔ ایک توجیہ اس کی یہ ہے کہ وہ واقعی ربِ اعلیٰ ہونے کے اعلان کے باوجود خود کئی معبودوں کی پرستش کرتا تھا اور ان معبودوں کے تقدس کا عقیدہ اس کی قوم میں بھی موجود تھا، مثلاً گائے کی پرستش تو عام تھی، جس کے نتیجے میں ان سے میل جول اور ان کی محکومیت کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بھی یہ عقیدہ در آیا تھا۔ جس کی دلیل آزاد ہونے کے بعد بھی گائے ذبح کرنے کے حکم پر ان کے بہانے اور موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کے بعد سامری کا بچھڑا بنا کر قوم کو اس کی عبادت پر لگانا ہے۔ مصری تہذیب ہندوؤں سے ملتی جلتی تھی۔ مشرکانہ مذاہب میں عجیب پیچیدگی پائی جاتی ہے، عموماً ان کے ہاں اصل خدا کسی انسان میں اتر آتا ہے جو مسلمان صوفیا کے ہاں حلول کے نام سے معروف ہے۔ فرعون اپنے آپ کو ان تمام معبودوں کا نمائندہ قرار دے کر اپنے آپ کو ربِ اعلیٰ کہلاتا تھا اور اپنے سرداروں سے کہتا تھا: «{ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ }» [القصص: ۳۸] ”مجھے اپنے سوا تمھارا کوئی معبود معلوم نہیں۔“ یہ وہی بات ہے جو بعض مسلمانی کا دعویٰ کرنے والوں نے کہی ہے
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر
مگر یہ لوگ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلی خدا مان کر بھی بہت سے زندہ خداؤں، مثلاً مرشدوں اور مردہ خداؤں کی قبروں کی پرستش کرتے ہیں اور ان میں بھی اللہ کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اس قسم کے تمام گندے عقیدوں سے بری ہیں۔
دوسری توجیہ یہ ہے کہ درحقیقت فرعون دہری تھا۔ کائنات کا کوئی بنانے والا مانتا ہی نہ تھا، اس کے نزدیک بادشاہ ہی معبود کا مقام رکھتا تھا کہ جو اس کے منہ سے نکلے وہی دین اور قانون ہے۔ اپنے سرداروں کے لیے یہ مقام وہ خود رکھتا تھا اور اس کے سردار اپنے اپنے علاقے کی رعایا کے لیے یہ مقام رکھتے تھے، چنانچہ اس نے اپنے بت بنوا کر لوگوں کے گھروں میں رکھے ہوئے تھے، جیسا کہ آج کل کے اکثر حکمران اپنی تصاویر اور مجسموں کے ذریعے سے لوگوں کے ذہنوں میں اپنی خدائی بٹھاتے ہیں، کمیونسٹ حکمران سٹالن، لینن اور ماؤزے تنگ بھی خدا کے منکر ہونے کے باوجود لوگوں کے دماغوں میں اپنی خدائی کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ جمہوری حکمران بھی اس کوشش میں حتی الوسع کمی نہیں کرتے، اگرچہ وہ نام عوام کا استعمال کرتے ہیں۔
تیسری توجیہ یہ ہے کہ حاکمیت میں وہ اپنے سوا کسی کو معبود نہیں مانتا تھا، البتہ غیبی مدد کرنے والے کچھ معبود اس نے بھی رکھے ہوئے تھے، جس طرح آج کل بعض حکمران قانون اپنا چلاتے ہیں مگر غیبی مدد حاصل کرنے کے لیے کئی ہستیوں کی نیاز دیتے رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ کعبہ کی طرح پختہ قبروں کو عرق گلاب سے غسل دیتے اور بزرگوں کو کرنی والا سمجھتے ہیں اور کچھ کچھ اللہ کو بھی مان لیتے ہیں، مگر کیا مجال کہ اس کا کوئی قانون عمل میں لائیں یا لانے دیں۔
➌ { قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ …:} یعنی ہم جو ظلم و ستم موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے بنی اسرائیل پر کرتے تھے اس کا سلسلہ پھر سے شروع کریں گے، اس طرح یہ تباہ ہو جائیں گے اور ان کا تخم تک باقی نہیں رہے گا۔ ان کے مرد مارے جائیں گے اور صرف عورتیں بچیں گی، وہ کیا کر سکیں گی، ان کو ہم لونڈیاں بنا کر اپنے گھروں میں رکھیں گے۔ ابھی تک اس کی جرأت نہ کرنے کے لیے اس نے یہ حیلہ تراشا کہ ایسی کیا جلدی ہے، ہم ان پر پوری طرح قابو رکھتے ہیں، جب چاہیں گے ایسا کر لیں گے۔
➋ {وَ يَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ: ” آلِهَةٌ “} یہ {” اِلٰهٌ “} کی جمع ہے، جس کا معنی معبود ہے، یعنی وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رکھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے بھی کچھ معبود تھے جن کی وہ عبادت کرتا تھا۔ بعض صحابہ کی قراء ت میں {”اِلَاهَتَكَ“} ہے، {” اِلَاهَةٌ “} کا معنی عبادت ہے، یعنی وہ تجھے اور تیری عبادت کو چھوڑے رکھیں، یہ بھی اگرچہ درست ہے مگر مشہور قراءت پہلی ہی ہے۔ اس لیے اہل علم نے اس کی کئی توجیہات کی ہیں اور وہ سبھی ممکن ہیں۔ ایک توجیہ اس کی یہ ہے کہ وہ واقعی ربِ اعلیٰ ہونے کے اعلان کے باوجود خود کئی معبودوں کی پرستش کرتا تھا اور ان معبودوں کے تقدس کا عقیدہ اس کی قوم میں بھی موجود تھا، مثلاً گائے کی پرستش تو عام تھی، جس کے نتیجے میں ان سے میل جول اور ان کی محکومیت کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بھی یہ عقیدہ در آیا تھا۔ جس کی دلیل آزاد ہونے کے بعد بھی گائے ذبح کرنے کے حکم پر ان کے بہانے اور موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کے بعد سامری کا بچھڑا بنا کر قوم کو اس کی عبادت پر لگانا ہے۔ مصری تہذیب ہندوؤں سے ملتی جلتی تھی۔ مشرکانہ مذاہب میں عجیب پیچیدگی پائی جاتی ہے، عموماً ان کے ہاں اصل خدا کسی انسان میں اتر آتا ہے جو مسلمان صوفیا کے ہاں حلول کے نام سے معروف ہے۔ فرعون اپنے آپ کو ان تمام معبودوں کا نمائندہ قرار دے کر اپنے آپ کو ربِ اعلیٰ کہلاتا تھا اور اپنے سرداروں سے کہتا تھا: «{ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ }» [القصص: ۳۸] ”مجھے اپنے سوا تمھارا کوئی معبود معلوم نہیں۔“ یہ وہی بات ہے جو بعض مسلمانی کا دعویٰ کرنے والوں نے کہی ہے
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر
مگر یہ لوگ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلی خدا مان کر بھی بہت سے زندہ خداؤں، مثلاً مرشدوں اور مردہ خداؤں کی قبروں کی پرستش کرتے ہیں اور ان میں بھی اللہ کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اس قسم کے تمام گندے عقیدوں سے بری ہیں۔
دوسری توجیہ یہ ہے کہ درحقیقت فرعون دہری تھا۔ کائنات کا کوئی بنانے والا مانتا ہی نہ تھا، اس کے نزدیک بادشاہ ہی معبود کا مقام رکھتا تھا کہ جو اس کے منہ سے نکلے وہی دین اور قانون ہے۔ اپنے سرداروں کے لیے یہ مقام وہ خود رکھتا تھا اور اس کے سردار اپنے اپنے علاقے کی رعایا کے لیے یہ مقام رکھتے تھے، چنانچہ اس نے اپنے بت بنوا کر لوگوں کے گھروں میں رکھے ہوئے تھے، جیسا کہ آج کل کے اکثر حکمران اپنی تصاویر اور مجسموں کے ذریعے سے لوگوں کے ذہنوں میں اپنی خدائی بٹھاتے ہیں، کمیونسٹ حکمران سٹالن، لینن اور ماؤزے تنگ بھی خدا کے منکر ہونے کے باوجود لوگوں کے دماغوں میں اپنی خدائی کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ جمہوری حکمران بھی اس کوشش میں حتی الوسع کمی نہیں کرتے، اگرچہ وہ نام عوام کا استعمال کرتے ہیں۔
تیسری توجیہ یہ ہے کہ حاکمیت میں وہ اپنے سوا کسی کو معبود نہیں مانتا تھا، البتہ غیبی مدد کرنے والے کچھ معبود اس نے بھی رکھے ہوئے تھے، جس طرح آج کل بعض حکمران قانون اپنا چلاتے ہیں مگر غیبی مدد حاصل کرنے کے لیے کئی ہستیوں کی نیاز دیتے رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ کعبہ کی طرح پختہ قبروں کو عرق گلاب سے غسل دیتے اور بزرگوں کو کرنی والا سمجھتے ہیں اور کچھ کچھ اللہ کو بھی مان لیتے ہیں، مگر کیا مجال کہ اس کا کوئی قانون عمل میں لائیں یا لانے دیں۔
➌ { قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ …:} یعنی ہم جو ظلم و ستم موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے بنی اسرائیل پر کرتے تھے اس کا سلسلہ پھر سے شروع کریں گے، اس طرح یہ تباہ ہو جائیں گے اور ان کا تخم تک باقی نہیں رہے گا۔ ان کے مرد مارے جائیں گے اور صرف عورتیں بچیں گی، وہ کیا کر سکیں گی، ان کو ہم لونڈیاں بنا کر اپنے گھروں میں رکھیں گے۔ ابھی تک اس کی جرأت نہ کرنے کے لیے اس نے یہ حیلہ تراشا کہ ایسی کیا جلدی ہے، ہم ان پر پوری طرح قابو رکھتے ہیں، جب چاہیں گے ایسا کر لیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
127۔ 1 یہ ہر دور کے مفسدین کا شیوا رہا ہے کہ وہ اللہ والوں کو فسادی اور ان کی دعوت ایمان و توحید کو فساد سے تعبیر کرتے ہیں فرعون نے بھی یہی کہا۔ 127۔ 2 فرعون کو بھی اگرچہ دعویٰ ربوبیت تھا (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) 79۔ الزاریات:24) میں تمہارا بڑا رب ہوں وہ کہا کرتا تھا لیکن دوسرے چھوٹے چھوٹے معبود بھی تھے جن کے ذریعے سے لوگ فرعون کا تقرب حاصل کرتے تھے۔ 127۔ 3 ہمارے اس انتظام میں یہ رکاوٹ نہیں ڈال سکتے قتل انبیاء کا یہ پروگرام فرعونیوں کے کہنے پر بنایا گیا اس سے قبل بھی جب موسیٰ ؑ کی ولادت نہیں ہوئی تھی موسیٰ ؑ کے بعد از ولادت خاتمے کے لئے اس نے بنی اسرائیل کے نوملود بچوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی ولادت کے بعد ان کو بچانے کی یہ تدبیر کی کہ موسیٰ ؑ کو خود فرعون کے محل میں پہنچوا کر اس کی گود میں ان کی پرورش کروائی۔ (فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا) 13۔ الرعد:42)۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
127۔ اور فرعون کی قوم [124] کے سردار فرعون سے کہنے لگے: ”کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ زمین میں فساد مچاتے پھریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں“ وہ کہنے لگا: ”میں ان کے بیٹوں کو مروا ڈالوں گا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دوں گا اور ہمیں ان پر پوری [125] قدرت حاصل ہے۔“
[124] لوگوں کا ایمان لانا اور فرعونیوں کو بغاوت کا خطرہ:۔
فرعون کی اس تدبیر کا بھی الٹا ہی اثر پڑا اور بہت سے اسرائیلی سیدنا موسیٰؑ پر ایمان لے آئے حتیٰ کہ چند قبطی (فرعونی) بھی آپ پر ایمان لے آئے تو فرعونیوں کے لیے ایک تشویشناک صورت حال پیدا ہو گئی۔ وہ فرعون سے کہنے لگے اس صورت حال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہیں یہ سب مل کر ملک میں بغاوت نہ کھڑی کر دیں۔ اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ نہ دیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے اور بھی کئی دیوتا تھے جن کی پرستش کی جاتی تھی۔ ایک تو فرعون نے ہر جگہ عبادت کے لیے اپنے مجسمے تیار کرا کے نصب کرا رکھے تھے۔ دوسرے قرآن سے اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم گؤ سالہ پرستی میں مبتلا تھی یعنی بیل کی پوجا کرنا ان کا مذہبی شعار بن چکا تھا اور وہ سورج کے علاوہ اور بھی کئی ستاروں کی روحوں کے فرضی مجسموں کو پوجتی تھی۔
[125] بنی اسرائیل کو نبیوں کے قتل کی دوسری بار سزا:۔
بنی اسرائیل پر بیٹوں کے قتل کا عذاب دو بار مسلط کیا گیا۔ پہلی دفعہ تو فرعون رعمسیس نے ایسا آرڈر نافذ کیا تھا جب اسے نجومیوں نے بتلایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہو گا جو تیری سلطنت کا تختہ الٹ دے گا چنانچہ فرعون نے بنی اسرائیل کے ہاں سب پیدا ہونے والے بیٹوں کے قتل کی مہم کا آغاز کیا مگر جو کچھ اللہ کو منظور تھا وہ ہو کے رہا۔ جس بچے کو اس سلطنت کا تختہ الٹنا تھا اللہ تعالیٰ نے ایسا بندوبست کر دیا کہ اس کی تربیت اور پرورش اسی فرعون کے گھر میں ہوتی رہی اور دوسری بار اسی فرعون کے بیٹے منفتاح نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چل کر اسی بیٹوں کے قتل والی مہم کو شروع کر دیا جس کا مقصد یہ تھا کہ کچھ مدت بعد بنی اسرائیل کی نسل ہی کو ختم کر دیا جائے وہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو لونڈیاں بنا کر ان سے طرح طرح کی بیگار لیا کرتے تھے اس طرح بزعم خود ان لوگوں نے اپنی سلطنت کو اور اپنے آپ کو آنے والے خطرے سے بچانے کی تدابیر مکمل کر لیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہیئے۔ اللہ کی شان دیکھئے! یہ کیسے مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔
«وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6]
اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔
بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔
بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔
«وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6]
اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔
بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔
بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔
الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب ان کے لیے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو، دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کر دیا جائے، لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔
پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔
موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔
آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔
پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔
موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔
آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔