تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے ’ کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى بما أعدَّه للمتَّقين للكُفْرِ والمعاصي، من أنواع النعيم والعيش السليم في جوار أكرم الأكرمين، وأنَّ حكمته تعالى لا تقتضي أن يجعل المتَّقين القانتين لربِّهم، المنقادين لأوامره، المتَّبِعين مراضِيَه، كالمجرمين الذين أوضَعوا في معاصيه والكفر بآياتِهِ ومعاندةِ رسلِهِ ومحاربة أوليائِهِ، وأنَّ من ظنَّ أنَّه يسوِّيهم في الثواب؛ فإنَّه قد أساء الحكم، وأنَّ حكمه [حكمٌ] باطلٌ ورأيه فاسدٌ، وأن المجرمين إذا ادَّعوا ذلك؛ فليس لهم مستندٌ، لا كتابٌ فيه يدرسون ويتلون أنَّهم من أهل الجنة، وأنَّ لهم ما طلبوا وتخيَّروا، وليس لهم عند الله عهدٌ ويمينٌ بالغةٌ إلى يوم القيامةِ أنَّ لهم ما يحكمون، وليس لهم شركاءُ وأعوانٌ على إدراك ما طلبوا؛ فإنْ كان لهم شركاءُ وأعوانٌ؛ فليأتوا بهم إن كانوا صادقين. ومن المعلوم أنَّ جميع ذلك منتفٍ؛ فليس لهم كتابٌ ولا لهم عهدٌ عند الله في النجاة ولا لهم شركاءُ يعينونَهم، فعُلِمَ أنَّ دعواهم باطلةٌ فاسدةٌ. وقوله: {سَلْهُم أيُّهم بذلك زعيمٌ}؛ أي: أيُّهم الكفيل بهذه الدعوى التي تَبَيَّنَ بطلانها؛ فإنَّه لا يمكن أحداً أن يتصدَّر بها ولا يكون زعيماً فيها.