ترجمہ و تفسیر — سورۃ القلم (68) — آیت 34

اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۳۴﴾
بلاشبہ ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے ہاں نعمت والے باغات ہیں۔ En
پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں
En
پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 34){ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ:} پچھلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے کی پاداش میں کس طرح باغ والوں کا باغ برباد ہوا اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی بڑا ہے۔ دنیا کے باغ کے بعد آخرت کے باغات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ رب تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے پاس ایک نہیں بلکہ نعمت والے کئی باغ ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ پرہیز گاروں کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں نعمتوں والی جنتیں ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے ٭٭
اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لیے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں۔
پھر فرماتا ہے ’ کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہو گا اور تمہاری بے جا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو اس نے کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں، یعنی مختلف انواع کی نعمتیں اور اکرم الاکر مین کے جوار میں ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی،نیز وہ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کی حکمت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اہل تقویٰ، اپنے رب کے فرمان بردار بندوں، اس کے احکام کی تعمیل کرنے والوں اور اس کی مرضی کی اتباع کرنے والوں کو مجرموں کے برابر قرار دے جنھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر اور اس کے اولیاء کے ساتھ محاربت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو ثواب میں برابر قرار دے گا تو اس نے نہایت برا فیصلہ کیا ہے اس کا فیصلہ باطل اور اس کی رائے فاسد ہے۔
اور مجرم جب یہ دعویٰ کرتے ہیں تو ان کے پاس کوئی سند ہے نہ کوئی ایسی کتاب ہے جسے یہ پڑھتے اور اس کی تلاوت کرتے ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گی جو وہ منتخب کریں گے اور طلب کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت تک ان کے لیے اس بات کا عہد ہے نہ حلف کہ ان کے لیے وہ سب کچھ ہو جس کا وہ فیصلہ کریں، جو کچھ وہ طلب کرتے ہیں، اس کے حصول میں ان کے کوئی شریک اور معاون بھی نہیں ہیں۔ اگر ان کے شرکاء اور معاون و مددگار ہیں تو ان کو لائیں اگر وہ سچے ہیں۔ یہ بات معلوم ہے کہ یہ سب کچھ بہت بعید ہے، ان کے پاس کوئی کتاب ہے نہ نجات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے کوئی عہد ہے اور نہ ان کے شریک ہیں جو ان کی مدد کریں، پس معلوم ہوا کہ ان کا دعویٰ باطل اور فاسد ہے۔ ﴿ سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌ یعنی ان سے پوچھو کہ اس دعویٰ کی کون ذمہ داری اٹھاتا ہے جس کا بطلان واضح ہے۔ کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اسے لے کر آگے بڑھے اور نہ وہ اس میں ضامن ہی بن سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى بما أعدَّه للمتَّقين للكُفْرِ والمعاصي، من أنواع النعيم والعيش السليم في جوار أكرم الأكرمين، وأنَّ حكمته تعالى لا تقتضي أن يجعل المتَّقين القانتين لربِّهم، المنقادين لأوامره، المتَّبِعين مراضِيَه، كالمجرمين الذين أوضَعوا في معاصيه والكفر بآياتِهِ ومعاندةِ رسلِهِ ومحاربة أوليائِهِ، وأنَّ من ظنَّ أنَّه يسوِّيهم في الثواب؛ فإنَّه قد أساء الحكم، وأنَّ حكمه [حكمٌ] باطلٌ ورأيه فاسدٌ، وأن المجرمين إذا ادَّعوا ذلك؛ فليس لهم مستندٌ، لا كتابٌ فيه يدرسون ويتلون أنَّهم من أهل الجنة، وأنَّ لهم ما طلبوا وتخيَّروا، وليس لهم عند الله عهدٌ ويمينٌ بالغةٌ إلى يوم القيامةِ أنَّ لهم ما يحكمون، وليس لهم شركاءُ وأعوانٌ على إدراك ما طلبوا؛ فإنْ كان لهم شركاءُ وأعوانٌ؛ فليأتوا بهم إن كانوا صادقين. ومن المعلوم أنَّ جميع ذلك منتفٍ؛ فليس لهم كتابٌ ولا لهم عهدٌ عند الله في النجاة ولا لهم شركاءُ يعينونَهم، فعُلِمَ أنَّ دعواهم باطلةٌ فاسدةٌ. وقوله: {سَلْهُم أيُّهم بذلك زعيمٌ}؛ أي: أيُّهم الكفيل بهذه الدعوى التي تَبَيَّنَ بطلانها؛ فإنَّه لا يمكن أحداً أن يتصدَّر بها ولا يكون زعيماً فيها.