ترجمہ و تفسیر — سورۃ القلم (68) — آیت 33

کَذٰلِکَ الۡعَذَابُ ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۳۳﴾
اسی طرح (ہوتا) ہے عذاب۔ اور یقینا آخرت کا عذاب کہیں بڑا ہے، کاش ! وہ جانتے ہوتے۔ En
(دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے۔ اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش! یہ لوگ جانتے ہوتے
En
یوں ہی آفت آتی ہے اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33) {كَذٰلِكَ الْعَذَابُ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ …:} اہلِ مکہ کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ نعمت کی نا شکری پر عذاب اس طرح ہوتا ہے جس طرح باغ والوں پر آیا اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑا ہے، کیونکہ دنیا کے عذاب کے بعد تو توبہ و استغفار کی گنجائش ہے، جیسا کہ اس باغ والوں نے توبہ کرلی اور توبہ کے بعد عذاب سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی بھی امید ہے، جیساکہ باغ والوں نے بہتر باغ ملنے کی امید رکھی، مگر آخرت کے عذاب کے بعد ان میں سے کسی چیز کی گنجائش نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

یعنی اللہ کے حکم کی مخالفت اور اللہ کے دیے مال میں بخل کرنے والوں کو ہم دنیا میں اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔ 33۔ 1 لیکن افسوس وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، اس لئے پروا نہیں کرتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب [16] تو اس سے بھی بڑا ہے، کاش! یہ لوگ جان لیتے
[16] یعنی یہ عذاب تو باغ والوں کو اس دنیا میں ملا۔ اور جو آخرت میں اس طرح کے بخل سے عذاب ہو گا وہ اس سے بہت بڑا ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو کچھ وقوع پذیر ہوا، اسے بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ الْعَذَابُ یعنی اس شخص کے لیے اسی طرح دنیاوی عذاب ہے جو عذاب کے اسباب کو اختیار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے وہ چیز سلب کر لے جس کی بنیاد پر اس نے سرکشی اور بغاوت کا رویہ اپنایا اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی،نیز یہ کہ وہ اس سے وہ چیز زائل کر دے جس کا وہ سب سے زیادہ ضرورت مند ہے ﴿ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ دنیا کے عذاب سے آخرت کا عذاب زیادہ بڑا ہے ﴿ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ کاش انھیں سمجھ ہوتی۔ کیونکہ جو کوئی اس حقیقت کو جانتا ہے تو یہ علم اسے ہر اس سبب سے باز رکھتا ہے جو عذاب کا موجب اور ثواب سے محروم رکھنے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال تعالى معظماً ما وقع: {كذلك العذابُ}؛ أي: الدنيويُّ لمن أتى بأسباب العذاب أن يسلبَه الله الشيء الذي طغى به وبغى وآثَرَ الحياةَ الدُّنيا وأن يزيلَه عنه أحوجَ ما يكون إليه، {ولَعذابُ الآخرةِ أكبرُ}: من عذاب الدُّنيا، {لو كانوا يعلمون}: فإنَّ مَنْ عَلِمَ ذلك؛ أوجب له الانزجار عن كلِّ سبب يوجب العقاب ويحرم الثواب.