(آیت 33) {كَذٰلِكَالْعَذَابُوَلَعَذَابُالْاٰخِرَةِاَكْبَرُ …:} اہلِ مکہ کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ نعمت کی نا شکری پر عذاب اس طرح ہوتا ہے جس طرح باغ والوں پر آیا اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑا ہے، کیونکہ دنیا کے عذاب کے بعد تو توبہ و استغفار کی گنجائش ہے، جیسا کہ اس باغ والوں نے توبہ کرلی اور توبہ کے بعد عذاب سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی بھی امید ہے، جیساکہ باغ والوں نے بہتر باغ ملنے کی امید رکھی، مگر آخرت کے عذاب کے بعد ان میں سے کسی چیز کی گنجائش نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
یعنی اللہ کے حکم کی مخالفت اور اللہ کے دیے مال میں بخل کرنے والوں کو ہم دنیا میں اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔ 33۔ 1 لیکن افسوس وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، اس لئے پروا نہیں کرتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب [16] تو اس سے بھی بڑا ہے، کاش! یہ لوگ جان لیتے
[16] یعنی یہ عذاب تو باغ والوں کو اس دنیا میں ملا۔ اور جو آخرت میں اس طرح کے بخل سے عذاب ہو گا وہ اس سے بہت بڑا ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔