ترجمہ و تفسیر — سورۃ التحريم (66) — آیت 5

عَسٰی رَبُّہٗۤ اِنۡ طَلَّقَکُنَّ اَنۡ یُّبۡدِلَہٗۤ اَزۡوَاجًا خَیۡرًا مِّنۡکُنَّ مُسۡلِمٰتٍ مُّؤۡمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبۡکَارًا ﴿۵﴾
اس کا رب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔ En
اگر پیغمبر تم کو طلاق دے دیں تو عجب نہیں کہ ان کا پروردگار تمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دے دے۔ مسلمان، صاحب ایمان فرمانبردار توبہ کرنے والیاں عبادت گذار روزہ رکھنے والیاں بن شوہر اور کنواریاں
En
اگر وه (پیغمبر) تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انہیں ان کا رب! تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائے گا، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں اللہ کے حضور جھکنے والیاں توبہ کرنے والیاں، عبادت بجا ﻻنے والیاں روزے رکھنے والیاں ہوں گی بیوه اور کنواریاں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ { عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ …:} اس آیت میں عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھما کے ساتھ دوسری بیویوں کو بھی خطاب میں شامل فرما لیا ہے، کیونکہ بعض باتوں خصوصاً خرچے میں اضافے کے مطالبے کے ساتھ انھوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا پریشان کیا کہ آپ نے ایک ماہ کے لیے ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی، جس کے مکمل ہونے پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ احزاب (29،28) کی تفسیر۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [اِجْتَمَعَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُنَّ عَسٰی رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ فَنَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ] [بخاري، التفسیر، باب: «عسی ربہ إن طلقکن…» : ۴۹۱۶] نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں غیرت (رشک و رقابت) میں آپ کے خلاف اکٹھی ہوگئیں تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں طلاق دے دیں تو آپ کا رب قریب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے بہتر بیویاں دے دے، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کی تو میں مسجد میں داخل ہوا، دیکھا کہ لوگ (متفکر بیٹھے ہوئے) کنکریوں کے ساتھ زمین پر نکتے بنا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی ہے اور یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ تو میں نے کہا، میں آج یہ بات ضرور معلوم کر کے رہوں گا۔ خیر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھما کے پاس جانے اور انھیں نصیحت کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا: میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رباح(رضی اللہ عنہ) بالاخانے کی دہلیز پر موجود ہے، (جس بالا خانے میں آپ نے ایک ماہ بیویوں سے علیحدہ رہ کر گزارا) میں نے اسے آواز دی اور کہا اے رباح! میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس جانے کی اجازت مانگو۔ مختصر یہ کہ عمر رضی اللہ عنہ اجازت ملنے پر اندر گئے اور آپ کو مانوس کرنے کے لیے کچھ باتیں کہیں۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ پر عورتوں کے معاملے میں کیا مشکل پیش آئے گی؟ سو اگر آپ نے انھیں طلاق دے دی ہے تو اللہ آپ کے ساتھ ہے اور اس کے فرشتے اور جبریل اور میں اور ابو بکر اور تمام مومن آپ کے ساتھ ہیں۔ اور میں نے کم ہی کبھی کوئی بات کی اور میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں، مگر یہ امید رکھی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کو سچا کر دے گا، تو یہ آیت یعنی آیت تخییر اتری: «‏‏‏‏عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ» [التحریم: ۵] اس کا رب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے۔ اور یہ آیت اتری: «وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِيْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ» [التحریم: ۴] اور اگر تم اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقینا اللہ خود اس کا مدد گار ہے اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے مددگار ہیں۔ [مسلم، الطلاق، باب في الإیلاء و اعتزال النساء وتخییرھن…: ۱۴۷۹]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ { صَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ } سے مراد سب سے پہلے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما ہیں، پھر ان کے ساتھ تمام مومن شامل ہیں اور یہ آیت بھی موافقات عمر رضی اللہ عنہ میں سے ہے، یعنی وہ آیات جو ان باتوں کے موافق اتریں جو عمر رضی اللہ عنہ نے کہی تھیں۔ ان میں بدر کے قیدیوں کا معاملہ، حجاب کا معاملہ، مقام ابراہیم کو جائے نماز بنانے کا معاملہ اور دوسری کئی باتیں شامل ہیں۔
➋ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو تنبیہ ہے کہ تم اس خیال میں نہ رہنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے بہتر بیویاں نہیں مل سکتیں، اس لیے تم جس طرح چاہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دباؤ ڈالتی رہو، بلکہ اگر آپ نے تمھیں طلاق دے دی تو آپ کا رب قریب ہے کہ آپ کو تم سے کہیں بہتر بیویاں عطا فرما دے۔
➌ { مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ:} ان صفات کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔ (دیکھیے احزاب: ۳۵) { تٰٓىِٕبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓىِٕحٰتٍ } کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۱۱۲)۔
➍ {ثَيِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا: ثَيِّبٰتٍ ثَيِّبٌ } کی جمع ہے، طلاق یافتہ یا بیوہ عورت۔ یہ {ثَابَ يَثُوْبُ ثَوْبًا} (ن) سے مشتق ہے، اسے ثيب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ خاوند سے واپس لوٹ آتی ہے اور پھر اسی طرح خاوند کے بغیر رہ جاتی ہے جیسے پہلے تھی۔ { اَبْكَارًا بِكْرٌ} کی جمع ہے، کنواری۔ اسے بکر اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ابھی اپنی اسی پہلی حالت پر ہوتی ہے جس پر پیدا ہوئی تھی اور ہر جنس میں سب سے پہلی چیز کو بکر کہتے ہیں۔ پہلی صفات کے درمیان واؤ عطف نہیں لائی گئی، کیونکہ وہ سب ایک وقت میں جمع ہو سکتی ہیں، مگر کسی عورت میں ان دونوں میں سے ایک وقت میں ایک ہی صفت ہو سکتی ہے، اس لیے واؤ عطف لائی گئی۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری عورتوں کے ساتھ نکاح کی ترغیب دلائی مگر بعض اوقات ثیبات میں علم و عقل اور تجربے وغیرہ کی ایسی صفات ہوتی ہیں جو انھیں ابکار پر ترجیح دینے کا باعث ہوتی ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں طرح کی بیویاں عطا فرمائیں۔
➎ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی ازواج سے بہتر ازواج عطا کرنے کی امید اس شرط پر دلائی تھی کہ آپ موجودہ بیویوں کو طلاق دے دیں، مگر نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں طلاق دی اور نہ اللہ تعالیٰ نے ان سے بہتر بیویاں آپ کو دیں، بلکہ انھی کو بہتر ہونے کا اور دنیا اور آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رہنے کا شرف عطا فرمایا۔
➏ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی کو بیوی کے انتخاب کے وقت ان صفات کی حامل عورت کو ترجیح دینی چاہیے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَ لِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَ لِدِيْنِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّيْنِ تَرِبَتْ يَدَاكَ] [بخاري، النکاح، باب الأکفاء في الدین: ۵۰۹۰، عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ] عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب اور اس کے جمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے، سو تو دین والی عورت کے ساتھ نکاح میں کامیابی حاصل کر، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔
➐ اس مقام پر بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ثیب سے مراد آسیہ زوجۂ فرعون ہیں اور بکر سے مراد مریم بنت عمران ہیں، ان دونوں کا نکاح جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جائے گا، مگر ایک تو اس بات کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اس میں پہلی بیویوں کو طلاق دینے کی صورت میں ان کے بدلے میں ان سے بہتر ثیبات و ابکار بیویاں عطا کرنے کا ذکر ہے اور جب آپ نے پہلی بیویوں کو طلاق ہی نہیں دی تو ان کے بدلے میں اور بیویوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ جنت میں ان دونوں عظیم خواتین کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دے تو یہ ناممکن نہیں، مگر یہ ثابت ہونا تو ضروری ہے، جب کہ کسی صحیح دلیل سے یہ بات ثابت نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 یہ تنبیہ کے طور پر ازواج مطہرات کو کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو تم سے بھی بہتر بیویاں عطا کرسکتا ہے 5۔ 2 ثیبات۔ ثیب کی جمع ہے (لوٹ آنے والی) بیوہ عورت کو ثیب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ خاوند سے واپس لوٹ آتی ہے اور پھر اس طرح بےخاوند رہ جاتی ہے جیسے پہلے تھی ابکار بکر کی جمع ہے کنواری عورت اسے بکر اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ ابھی اپنی اسی پہلی حالت پر ہوتی ہے جس پر اس کی تخلیق ہوتی ہے فتح القدیر۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ثیب سے حضرت آسیہ فرعون کی بیوی اور بکر سے حضرت مریم حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ مراد ہیں یعنی جنت میں ان دونوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بنادیا جائے گا ممکن ہے کہ ایسا ہو لیکن ان روایات کی بنیاد پر ایسا خیال رکھنا یا بیان کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ سندا یہ روایات پایہ اعتبار سے ساقط ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ کچھ بعید نہیں کہ اگر نبی تمہیں طلاق دے دے [7] تو اس کا پروردگار اسے تم سے بہتر [8] بیویاں بدل دے جو مسلمان، مومن، اطاعت گزار [9]، توبہ کرنے والی، عبادت گزار اور روزہ دار [10] ہوں، خواہ وہ شوہر [11] دیدہ ہو یا کنواریاں ہوں
[7] سیدہ عائشہ اور حفصہ پر عتاب :۔
ان دونوں ازواج مطہرات کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اگر توبہ کر لو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اور نبی کو ستانا چھوڑ دو۔ زوجین کے خانگی معاملات بعض دفعہ ابتداءً بالکل معمولی سے معلوم ہوتے ہیں لیکن اگر ذرا باگ ڈھیلی چھوڑ دی جائے تو نہایت خطرناک اور تباہ کن صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ خصوصاً عورت اگر کسی اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو تو اس کو طبعاً اپنے باپ، بھائی اور خاندان پر ناز ہوتا ہے۔ سیدنا عمرؓ عورت کی اس فطرت کو خوب سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہی دنوں سیدنا عمرؓ اپنی بیٹی حفصہؓ کے پاس گئے اور کہنے لگے: بیٹی! کیا بات ہے تو رسول اللہ سے سوال و جواب کرتی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ سارا دن غصہ میں رہتے ہیں۔ سیدہ حفصہؓ نے کہا: واللہ! ہم تو سوال و جواب کرتی رہتی ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: خوب سمجھ لے اور میں تجھے اللہ کی سزا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے ڈراتا ہوں۔ بیٹی! تو اس عورت کی وجہ سے دھوکا مت کھانا جو اپنے حسن و جمال اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر نازاں ہے اور اس سے ان کی مراد سیدہ عائشہؓ تھی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ تفسير سورة تحريم]
اسی لئے ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ایکا کر کے اسی طرح کی کارروائیاں اور مظاہرے کرتی رہیں تو اس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود، اس کے فرشتے جبرئیلؑ اور نیک بخت ایماندار سب درجہ بدرجہ اس کے مددگار ہیں اور ان کے سامنے تمہاری کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔
[8] آپ کی ازواج کا خرچ کے سلسلہ میں آپ کو پریشان کرنا :۔
پہلے دو بیویوں (سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ کی بات چل رہی تھی، اس آیت میں سب بیویوں کو خطاب کر کے ان پر عتاب کیا جا رہا ہے۔ ایک حلال چیز کو حرام قراردینے کے معاملہ میں تو واقعی صرف سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ کا تعلق تھا۔ لیکن ایک اور معاملہ بھی تھا۔ جس کا سب بیویوں سے تعلق تھا۔ وہ یہ تھا کہ فتوحات خیبر اور اموال غنائم سے مسلمانوں کی معاشی حالت آسودہ ہو گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج مطہرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر کا خرچ زیادہ لینے کا مطالبہ کر دیا۔ اور اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں نہ ہوتیں بلکہ عام عورتیں ہوتیں تو ایسے مطالبہ میں ان کا کچھ قصور بھی نہ تھا اور اگر آپ چاہتے تو انہیں اموال غنائم سے اپنے گھروں میں زیادہ دے بھی سکتے تھے اور اللہ نے آپ کو ایسا اختیار دے بھی رکھا تھا۔ مگر چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو طبعاً فقر پسند تھا۔ لہٰذا بیویوں کا یہ مطالبہ آپ پر گراں گزرا۔ پھر بیویوں نے بھی اس بات کو صرف مطالبہ کی حد تک نہ رکھا بلکہ ایکا کر کے آپ سے بحث اور جھگڑا بھی کیا کرتی تھیں۔ اور بسا اوقات ایسی باہمی شکر رنجی میں پورا پورا دن گزر جاتا تھا۔ اسی کیفیت کا حال معلوم ہونے پر سیدنا عمرؓ اپنی بیٹی کے ہاں گئے۔ اور انہیں سمجھایا اور کہا دیکھو تم اللہ کے رسول سے جھگڑنا چھوڑ دو۔ اور سیدہ عائشہؓ پر اپنے آپ کو گمان کر کے اس کی ریس نہ کرو اور نہ اس معاملہ میں دوسروں کا ساتھ دو۔ اور اگر کوئی چیز خرچہ وغیرہ مطلوب ہو تو اس کا مطالبہ مجھ سے کر لو۔ پھر سیدنا عمرؓ سیدہ ام سلمہؓ کے ہاں گئے اور انہیں بھی یہی بات سمجھائی کیونکہ وہ بھی سیدنا عمرؓ کی رشتہ دار تھیں تو انہوں نے سیدنا عمرؓ کو ٹکا سا جواب دیا اور کہنے لگیں تم کون ہوتے ہو ہمارے معاملات میں دخل دینے والے؟ پھر جب عمرؓ نے یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ مسکرا دیئے۔ انہیں ایام میں سیدنا عمرؓ نے حالات کا جائزہ لے کر اس خیال کا اظہار کیا تھا جو درج ذیل حدیث میں مذکور ہے۔ اور یہی اس آیت کا شان نزول ہے: سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھی مل کر آپ سے لڑنے جھگڑنے لگیں تو میں نے انہیں کہا: ”کچھ بعید نہیں کہ پیغمبر تم سب کو طلاق دے دے اور اس کا رب تم سے بہتر بیویاں بدل دے“ اس وقت (جیسا میں نے کہا تھا ویسے ہی) یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
لیکن اس کے باوجود بھی جب ازواج مطہرات اپنے مطالبہ سے دستبردار نہ ہوئیں تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر شاق گزرا کہ آپ ایک ماہ کے لیے اپنی سب بیویوں سے الگ ہو گئے اور ایک بالا خانے میں جا کر مقیم ہو گئے۔ یہی واقعہ، واقعہ ایلاء کہلاتا ہے۔ جو سورۃ احزاب کی آیت نمبر 28 اور 29 کے حواشی میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
[9] ﴿قَانِتَاتٌ ﴿قنوت﴾ ایسی اطاعت کو کہتے ہیں جو پورے خشوع و خضوع یکسر توجہ اور دل کی رضا مندی سے بجا لائی جائے۔ اور یہ اطاعت اللہ کی بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے رسول کی بھی [33: 31] اور عورتوں کے لیے اپنے خاوندوں کی بھی [4: 34] اور اس آیت میں تینوں کی ہی اطاعت مراد ہے۔
[10] ﴿سائح﴾ اور ﴿صائم﴾ میں فرق :۔
﴿سَائِحَاتٌ ساح الماء بمعنی پانی کا آوارہ پھرنا اور ﴿ساحة﴾ بمعنی فراخ جگہ اور ﴿ساحة الدار﴾ بمعنی گھر کا آنگن اور ساح بمعنی سیر و سیاحت کرنا یا کرتے پھرنا خواہ اس کا مقصد تفریح ہو یا کوئی اور ہو اور ان معنوں میں بھی قرآن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ [9: 2]
اس لحاظ سے ﴿سائح﴾ کے معنی محض سیر و سفر کرنے والا ہے۔ لیکن بعد میں یہ لفظ ایسے درویشوں کے لئے استعمال ہونے لگا جو چلتے پھرتے تھے۔ روزہ بھی رکھتے تھے اور جملہ حکمی پابندیوں کو بھی ملحوظ رکھتے تھے پھر یہ الفاظ ایسے روزہ داروں کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو کھانے پینے کی بندش کے علاوہ اپنے جوارح یعنی آنکھ، کان اور زبان وغیرہ کو معاصی سے بچائے رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور صاحب منجد کے نزدیک ایسے روزہ دار کو کہتے ہیں جو زیادہ تر مسجد میں رہے۔ جبکہ صائم ہر روزہ دار کو کہہ سکتے ہیں۔
[11] یعنی ازواج مطہرات کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ کہیں اس زعم میں مبتلا نہ ہو جانا کہ آخر مرد کو بیویوں کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے اور ہم سے بہتر عورتیں کہاں ہیں اس لیے ہم اگر دباؤ ڈالیں گی تو سب باتیں منظور کر لی جائیں گی۔ یادرکھو کہ اگر اللہ چاہے تو تم سے بہتر بیویاں اپنے نبی کو مہیا کر دے اور تمہیں رخصت کر دیا جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ازواج مطہرات میں مذکورہ صفات موجود نہ تھیں۔ بلکہ یہ ہے کہ نبی کی بیویوں میں یہ صفات بدرجہ اتم ہونا چاہئیں اور ازواج مطہرات کا یہ مطالبہ صفت قانتات میں تقصیر ہونے کی وجہ سے تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ عورتوں کے بارے میں اس مشقت میں کیوں پڑتے ہیں؟ اگر آپ انہیں طلاق بھی دے دیں تو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام اور میں اور ابوبکر اور جملہ مومن ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحمداللہ! میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی آیت تخییر یعنی «عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» ۱؎ [66-التحريم:5]‏‏‏‏ اور «وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ» ۱؎ [66-التحريم:4]‏‏‏‏، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، مجھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی۔
اسی کے بارے میں آیت «وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ» ۱؎ [4-النساء:83]‏‏‏‏ آخر تک اتری یعنی ’ جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے ‘۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہوں، اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ «صالح المؤمنین» سے مراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں، بعض نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا لیا ہے بعض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا۔ ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے۔
عمر اور موافقت قرانی ٭٭
صحیح بخاری میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں غیرت میں آ گئیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا، پس میرے لفظوں ہی میں قرآن کی یہ آیت اتری } ۱؎ [صحیح بخاری:4916]‏‏‏‏
پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں، بدری قیدیوں کے بارے میں، مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں، ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ مجھے جب امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لیے کم ہیں جو تم آ گئے؟ اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» ۱؎ [66-التحریم:5]‏‏‏‏ نازل ہوئی۔
صحیح بخاری میں ہے کہ { جواب دینے والی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4913]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے اپنی بیوی صاحبہ سے کہی تھی اس کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر میں تھے وہ تشریف لائیں اور سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کو مشغول پایا تو آپ نے انہیں فرمایا: تم عائشہ کو خبر نہ کرنا، میں تمہیں ایک بشارت سناتا ہوں میرے انتقال کے بعد میری خلافت ابوبکر کے بعد تمہارے والد آئیں گے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر کر دی پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اس کی خبر آپ کو کس نے پہنچائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے علیم و خبیر اللہ نے خبر پہنچائی، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف نہ دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو اپنے اوپر حرام نہ کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کر لی اس پر آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [66-التحريم:1]‏‏‏‏، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12640:ضعیف]‏‏‏‏ لیکن اس کی سند مخدوش ہے، مقصد یہ ہے کہ ان تمام روایات سے ان پاک آیتوں کی تفسیر ظاہر ہو گئی۔
«مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ» کی تفسیر تو ظاہر ہی ہے۔ «سَائِحَاتٍ» کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورۃ برات کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس امت کی سیاحت روزے رکھنا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:508/14]‏‏‏‏ دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٭٭
پھر فرمایا ’ ان میں سے بعض بیوہ ہوں گی اور بعض کنواریاں اس لیے کہ جی خوش رہے ‘، قسموں کی تبدیلی نفس کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔
معجم طبرانی میں ابن یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد بیوہ سے تو سیدہ آسیہ علیہ السلام ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور کنواری سے مراد سیدہ مریم علیہ السلام ہیں جو عمران کی بیٹی تھیں۔
ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خدیجہ (‏‏‏‏رضی اللہ عنہا) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے، نہ تکلیف ہے، نہ شورو غل جو چھیدے ہوئے موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران علیہا السلام اور آسیہ بنت مزاحم علیہا السلام کے مکانات ہیں۔ ۱؎ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خدیجہ! اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا۔‏‏‏‏ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے[ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔
ابوامامہ سے ابو یعلیٰ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران، کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو }۔ ۱؎ [ابن عدی فی الکامل،180/7:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔